دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
جاسوس آرمی چیف ۔اظہر سید
اظہر سید
اظہر سید
عالمی سطح پر معتبر سمجھے جانے والے مغربی میڈیا میں تسلسل کے ساتھ بریکینگ نیوز چلائی گئی ریڈ آرمی کے سربراہ کو سی آئی اے کیلئے جاسوسی کے الزام میں برطرف کر دیا گیا ۔
وال سٹریٹ جنرل اور نیویارک ٹائمز میں لکھے گئے بعض آرٹیکلز میں آرمی چیف کی گرفتاری کی اطلاعات بھی دی گئیں ۔سی این این فاکس نیوز اور سکائی نیوز میں عظیم دانشوروں نے ریڈ آرمی میں سی آئی اے کے اثرورسوخ کے متعلق تبصرے کئے ۔
امریکی یا مغربی ممالک کے صحافیوں کے سر پر دو سینگ ہوتے ہیں نہ ہی انہیں خواب میں خبریں ملتی ہیں ۔سی آئی اے کی عظمت کی ساری خبریں ،تبصرے اور تجزیے امریکی میڈیا سے شروع ہوئے ۔
خبر کسی کو بھی نہیں چینی پولٹ بیورو میں کیا ہوا ہے ۔جو آہنی پردہ کبھی سوویت یونین پر تھا وہی پردہ چینی فیصلہ ساز اداروں پر ہے ۔عظیم امریکی صحافیوں نے جو خبریں چلائی ہیں وہ ساری کی ساری فیڈڈ خبریں ہیں ۔یہ وہی میڈیا مینجمنٹ ہے جس میں افغانستان پر حملہ سے قبل اسامہ بن لادن کا انٹرویو ارینج کروایا تھا اور اس میں ایٹم بم کی تیاری کی دھمکی دی گئی تھی ۔
صحافی استعمال ہوتے ہیں ۔ملکی مفاد کے نام پر خود کو دلال بنا کر بیچ دو اور بہت بڑے صحافی بن جاؤ ۔
امریکی صحافی بھی دلالی کر رہے ہیں ۔امریکہ اور یورپ کے تمام بڑے میڈیا ہاؤسز امریکی اور مغربی مفادات کے تحت کام کرتے ہیں ۔بی بی سی ہو یا الجزیرہ سب کے سب رائے عامہ متاثر کرنے کا کام مالکوں کے اشارے پر کرتے ہیں۔
ایک مثال ہے سابقہ مالکوں کے دور میں ایجنسی کا پالتو جج راول ڈیم میں نیول کلب کے خلاف شمشیر برہنہ بن کر عوام سے واہ واہ وصولتا تھا ۔کبھی دامن کوہ سے اوپر بنے ہوٹل کو سرکاری اراضی قرار دیتا تھا اور فوج کے حق ملکیت پر سوال اٹھا کر قانون و انصاف کا پرچم بردار بنتا تھا۔چونکہ پالتو تھا اس لئے تحریک عدم اعتماد کی رات عدالت کھول کر بیٹھ جاتا تھا ۔معاوضے میں سپریم کورٹ کی ججی عطا ہوتی تھی ۔
یہی حال عالمی سطح پر معتبر سمجھے جانے والے میڈیا ہاؤسز کا ہے ۔اوریجنل خبریں اور پروگرام کر کے عوام کا اعتبار قائم رکھتے ہیں لیکن مالکوں کے اشارے پر رائے عامہ کو گمراہ بھی کرتے ہیں۔
چینی نظام کیمونسٹ پارٹی کی مکمل گرفت میں ہے ۔وہاں کوئی دوسری سیاسی جماعت یا تنظیم نہیں ۔سب کچھ کیمونسٹ پارٹی کے اندر ہے ۔کارخانوں میں بھی کیمونسٹ پارٹی کی تنظیم ہے۔
عالمی منظر نامے جتنی تیزی سے تبدیل ہو رہا ہے صرف تجزیہ کیا جا سکتا ہے پولٹ بیورو میں اختلاف رائے ہوا ہے ۔وینویلا اور ایران پر امریکی ممکنہ حملہ کے تناظر میں چینی پولٹ بیورو نے اختلاف رائے ختم کرنے کیلئے ریڈ آرمی کے سربراہ کو سائڈ لائن کیا ہے ۔یہ چینی پولٹ بیورو کی طاقت کا اظہار ہے نہ کہ سی آئی اے کا پولٹ بیورو میں پہنچنا ۔
واپس کریں