اظہر سید
پہلی اور دوسری جنگ عظیم سے پہلے والی کساد بازاری دنیا بھر کے طاقتور سمجھے جانے والے ملکوں کے دروازوں پر دستک دے رہی ہے ۔ایک سادہ سی مثال ہے ۔بھاری ٹیرف سے اگر بھارت کی پچاس ارب ڈالر کی مصنوعات امریکی منڈی سے محروم ہونگی تو ان مصنوعات کی ویلیو ایڈیشن کیلئے کم از کم بیس سے تیس ارب ڈالر کا خام مال کسی نہ کسی ملک سے درآمد ہوا ہو گا ۔یعنی وہ ملک بھی بیس سے تیس ارب ڈالر سے محروم ہو جائے گا ۔
یورپی یونین ،بھارت یا دوسرے ملک روسی ،ایرانی اور وینویلا کے تیل سے محروم ہونگے انکی اربوں ڈالر کی ویلیو ایڈیشن متاثر ہو گی ۔عالمی معیشت قطار میں رکھی اینٹیں ہوتی ہیں ۔ایک گر جائے تو اپنے ساتھ وہ دوسری اینٹ کو گرا دیتی ہے ۔یہی کساد بازاری ہے ۔
سب مقروض ہیں اور سب اپنے خرچے بچا رہے ہیں ساتھ ساتھ طاقت کے زور پر دوسروں کے وسائل ہڑپ کرنے کیلئے پر تول رہے ہیں۔ابھی دنیا بھر کے متعلقہ ممالک امریکی طاقت سے الجھنے کی بجائے بچ کر نکلنے کی حکمت عملی پر چل رہے ہیں لیکن ساتھ ساتھ اپنے مہرے بھی مناسب جگہوں پر رکھ رہے ہیں۔
بہت جلد اس حمام میں سب ننگے ہوں گے اور ایک بڑی جنگ کا آغاز ہو جائے گا۔
پہلی اور دوسری عالمی جنگ بھی وسائل پر قبضے کیلئے تھے ۔اج تک جتنی بھی سلطنتیں بنیں اور تباہ ہوئیں وسائل کی ہی جنگیں تھیں ۔
پہلی اور دوسری عالمی جنگ سے پہلے دنیا کساد بازاری کا شکار تھی ۔سونے کی قیمتیں بڑھ رہی تھیں ۔مختلف ممالک دفاعی معاہدوں میں منسلک ہو رہے تھے ۔
آج بھی یہی صورتحال ہے ۔مختلف ممالک دفاعی معاہدوں سے منسلک ہو رہے ہیں ۔طاقتور ملکوں کی معیشتیں لرز رہی ہیں ۔تیزی سے قریب آنے والے خطرات سے نپٹنے کیلئے ہر ملک سونے کے زخائر جمع کر رہا ہے ۔
پہلی جنگ عظیم نے سلطنت عثمانیہ کے دانت اور ناخن نکالے ۔برطانیہ سپر پاور بن گیا ۔
دوسری جنگ عظیم نے برطانیہ کے دانت اور ناخن نکالے امریکہ سپر پاور بن گیا ۔
تیسری عالمی جنگ امریکہ کے دانت اور ناخن نکالے گی چین سپر پاور کے طور پر سامنے آئے گا۔
یہی تاریخ کا چکر ہے جو گھومتا رہتا ہے ۔
واپس کریں