دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
انجینئر محمد علی مرزا
طاہر سواتی
طاہر سواتی
میں ہر مسلک کے مولویوں سے بیزار جبکہ اس کے عام انسانوں سے مجھے پیار ہے۔ ابلیس سے لیکر مرزا غلام احمد تک ہر فتنہ گر اپنے وقت کا مولوی ہی رہا ہے۔جس نے بھی ان کو چیلنج کیا اس کا انجام عبرتناک ہی رہا ہے ۔ابھی حال ہی میں خیبرپختونخوا کے مفتی شاکر کا قتل اس کی زندہ مثال ہے، تراویح بیس رکعت پڑھنی چاہئے یا آٹھ صرف اسی بات پرُ مساجد میں کشت و خون رہا ہے،لیکن مفتی شاکر نے تراویح کو عام نفل بتاکر اس جھگڑے کی بنیاد ہی ختم کردی ، جس سے دین اسلام کو تو کوئی خطرہ نہیں تھا لیکن مولویوں کی روزی روٹی میں تو لات مار دی ،
جہلم کے اینجنئر مرزا کو توہینُ مذہب کے جرم میں گرفتار کرلیا گیا ، اس کا جرمُ توہین مذہب نہیں توہین مولوی ہے ، لیکنُ جہاں مولوی مذہب کا درجہ اختیار کرلے وہاں احتیاط کرنی چاہئے ،
اس ملک میں آپ خادم گالوی کی طرح سر عام سر تن سے جدا کے نعرے لگائیں یا مولوی عبدالعزیز کی طرح ریاست کی رٹ چیلنج کریں نہ آپ کے خلاف مقدمہ درج ہوگا نہ گرفتاری ہوگی ، بلکہُ پورا پروٹوکول ملے گا ۔
مرزا نہ تو سر تن سے جدا کے نعرے لگاتا ہے نہ خوش خط بمباروں کی ترجمانی کرتا ہے ، بلکہ وہ ذاکرنایئک کی بجائے سوال کرنے والی لڑکی کے ساتھ کھڑا ہوجاتا ہے، وہ مساجد اور مدارس میں زیادتی کا شکار ہونے والے بچوں کے حق میں بولتا ہےاور یہی اس کا جرم ہے۔
مرزا کا دوسرا جرم یہ ہے کہ اتنی بڑی جسارت وہ اکیلے کررہا ہے، اگر وہ بھی ایک پرتشدد جتہ بناکر میدان میں کھودتا پھر کوئیُ مائی کا لعل اسے گرفتار کرکے دکھاتا۔
خادمُ گالوی جلسے میںُ تقریر کررہا تھا اس وقت قریب کی مسجد میں اذان شروع ہوگئی ، گالوی کہتا ہے جاری رکھو ، وہابیوں کی اذان کون سے اذان ہے ، یہ تو سور جیسی ہے۔
اب اذان میں اللہ اور رسول اللہ صلی علیہ والہ وسلمُ دونوں کے نام آتے ہیں ، نہ کسی نے توہین مذہب کا مقدمہُ درج کیا ، نہ کسی کو توہین رسالت یاد رہا نہ کسی وہابی میں اس کے خلاف بولنے کی ہمت ہوئی ، کیونکہُ جنرلُ فیض کا وہ پالتو باولوں کی پوری پلاٹون لیکر گھومتا تھا۔
مرزا کے خیالات سے مجھے کوئی عرض نہیں ، لیکن اگر سب فرقوں کے فتنہ گر مولوی اس کے خلاف کمربستہ ہیں تو اس کا مطلب ہے کہُ یہ شخص تاریخ کی درست سمت میں کھڑا ہے۔
واپس کریں