طاہر سواتی
بدلے بدلے سے مودی سرکار نظر آتے ہیں ،سندھ طاس معاہدہ معطل کرنے والا بھارت اب خود اسی معاہدے کے تحت پاکستان کے ساتھ دریاؤں کے پانی کا ڈیٹا شئیر کرنے لگا ہے۔ آخر اس اچانک تبدیلی کی وجہ کیا ہے؟سال قبل مودی اور نیازی دونوں کو چاچا ٹرمپ کے آنے کا شدت سے انتظار تھا ۔ نیازی کو تو اس نے حلف اٹھاتے ہی آزاد کروانا تھا ،جبکہ مودی کا خیال تھا کہ جس طرح ٹرمپ کے پچھلے دور میں اس نے کشمیر ہڑپ کرکے الٹا پاکستان پر حملہ کردیا اور پھر چوبیس گھنٹوں کے اندر ابی نندن کو بھی واپس لے لیا تھا ، اس بار بھی پاکستان پرُ حملہ کرکے ایک جانب خطے کا ڈان بن جائے گا اور دوسری جانب اندورن ملک انتخابی مہمُ مار لے گا،لیکن اس مرتبہ سب کچھ الٹ پڑگیا ، ایک جانب اگر پاکستان نے چین کی مدد سے اس کی درگت بنائی تو دوسری جانب ٹرمپ بھی گنڈاسا لیکر میدان آگیا ۔کل تو ٹرمپ حالیہ جنگ میں تباہٗ ہونے جہازوں کی تعداد سات تک لے گیا،ایسے میں تپے ہوئے مودی جی ٹرمپ کی مخالفت میں چین کی جانب لٹک گئے ، اور چین جو گزشتہ کئی عشروں سے اس موقعے کے انتظار میں تھا اس نے اپنا وزیر خارجہ وہاں بھیج دیا ، اس سے مجھے آج سے ۲۵ سال قبل چینی پروفیسر کی وہ بات یاد گئی کہ امریکہ بھارت کو ہمارے خلاف استعمال کروانا چاہتا ہے لیکن چین بھارت کو امریکی گود میں جانے نہیں دیگا۔
چینی وزیر خارجہ نے پہلے بھارت اور پھر پاکستان کا دورہ کرکے ماحول کو ٹھنڈا کرنے میں اہم کردار ادا کیا ، لیکن کیا مودی جیسا گھاگ صرف ایک دورے سے اتنا موم ہو گیا یا اس کے پیچھے کوئی اور کہانی ہے ؟ بھارت اور پاکستان کے درمیانُ آخر جنگ کے امکانات کیا کیا ہیں ؟ پہلا ایٹمیٗ جنگ : بھارت کو یہ معلوم ہے کہ اس کا مکان انتہائی کم ہے، دوسرا روایتی جنگ : بھارت ہمیشہ روایتی جنگ میں اپنے برتری کے گھمنڈ رہا ، لیکن حالیہ جنگ نے وہ غرور بھی خاک میں ملا دیا ،
تیسرا پانی کا ہتھیار : بھارت کے پاس پاکستان کے خلاف آخری ہتھیار پانی کا ہے جسے مودی نے حالیہ جنگ سے قبل ہی سندھ طاس معاہدُے کے معطلی کی صورت میں استعمال کردیا ۔
لیکن چین نے اسی طرز پر پانی کا ہتھیار بھارت کے خلاف استعمال کرکے مودی کا دماغی فتور مکمل طور صاف کردیا ۔ چین نے بھارت کے سرحد سے۵۰ کلومیٹر کی دوری پر دریائے برہمُ پترا پر دنیا کے سب سے بڑے ڈیم کی تعمیر شروع کردی ہے ،
یہ دنیا کاُ سب بڑا ہائڈرو پاور پراجیکٹ ہے جس میں پانچ ہائڈرو پاور اسٹیشن تعمیر کئے جائیں گے ،اس ڈیمُ پر 168 ارب ڈالر کی لاگت آئے گی ،مطلب ہمارے پورے سی پیک سے چار گنا ذیادہ کی لاگت والا یہ پراجیکٹ 2033 تک مکمل کرلیا جائے گا۔
اس ڈیم سے چین اپنی ایک تہائی یعنی تقریبا 48 کروڑ آبادی کی بجلی کی ضروریات پوری کریگا، دوسرے الفاظ میں صرف یہ ایک ڈیم پاکستان جیسے دو ممالک کی بجلی کی ضروریات پوری کرنے کے لئے کافی ہے ،
دریائے برہم پترا چین کے تبت سے بھارت اور اس سے آگے بنگلہ دیش میں داخل ہوتا ہے۔ اس ڈیم کی تعمیر سے بھارت میں دریائے برہم پترا کی پانی میں ۸۰ فیصد تک کمی آسکتی ہے ۔ اب بھارت کو چھٹی کا دودھ یاد آگیا،
اور وہ مودی جو پاکستانیوں کو قطرے قطرے کے لئے ترسنے کی دھمکیاں دے رہا تھا، وہ اب عالمی برادری سے اپنی عوام کی زندگی کی بھیک مانگ رہا ہے ،
لیکن اس سارے قضیے میںُ دلچسپ بات یہ ہے کہ سندھ طاس معاہدے کی طرح بھارت اور چینُ کے درمیان پانی کا کوئی معاہدہ موجود نہیں ، کوئی تیسرا ملک یا بین لا قومی فورمُ بھارت کی داد رسی نہیں کرسکتا اور یوں پانی کے معاملے میں اب بھارت مکمل طور پر چین کے رحمُ و کرم پر ہے ،
آپ خود اندازہ لگائیں کہ چینی وزیر خارجہ نے اپنے حالیہ دورے میں آخرٗ مودی کے کان میںُ کیا سرگوشی کی ہوگی جس سے اس بڈھے کا دماغ یکدمُ ٹھیک ہو گیا۔
واپس کریں