دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
جنگل ۔ اظہر سید
اظہر سید
اظہر سید
حالیہ ماضی کے چند مناظر اور واقعات نے معاشرے کی اجتماعی سوچ کو بری طرح متاثر کیا ہے ۔یہ کہنا بہت آسان ہے جامعات اور کالجز کے طالبعلم عسکریت پسندی کی طرف مائل ہو رہے ہیں ۔بلوچستان میں ایک طالبعلم کو ایک سیکورٹی اہلکار نے ماں باپ کے سامنے دہشت گردی کے الزام میں گولی مار دی تھی ۔مقتول طالبعلم کی لاش کے سامنے ماں باپ کی بے بسی کی تصویر نے کتنے بلوچ نوجوانوں کو ریاست سے متنفر کیا اس کا حساب کتاب کبھی نہیں ہو گا ۔یہی واقعات ہیں جن سے ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ ایسے کردار لیڈر بنتے ہیں اور نہ معلوم کتنے اور نوجوانوں کو عسکریت پسند بنا دیتے ہیں۔
کراچی میں غلط شناخت کی بنا پر نقیب اللہ محسود پولیس مقابلہ کی مس ہینڈلنگ سے پختون تحفظ موومنٹ نے جنم لیا ۔ایک ایس پی کو بچانے کے عمل نے کتنے پختون نوجوانوں کو ریاست کے مرکزی دھارے سے کاٹا کبھی حساب کتاب نہیں ہو گا ۔اس طرح کے واقعات کی کوکھ سے منظور پشتین ایسے کردار لیڈر بن جاتے ہیں ۔نہ جانے کتنے نوجوانوں کو نفرت کی آگ کا ایندھن بنا ڈالتے ہیں۔
علیمہ خان کی نیو جرسی جائیداد کی خبروں کے دوران اچانک ساہیوال کی ایک فیملی دہشت گردی کے الزام میں سرعام قتل کر دی گئی ۔مقتول خاندان کے دو کم عمر بچوں کی خون لگے کپڑوں کے ساتھ سامنے آنے والی تصاویر نے معاشرے کے اجتماعی شعور پر کیا اثرات مرتب کئے کبھی حساب کتاب نہیں ہو گا ۔
رانی پور کے پیر کی حویلی میں ایک کمسن بچی کے مرنے کی ویڈیو سامنے آئی ۔بعد ازاں اس بچی کی پوسٹ مارٹم رپورٹ میں جنسی زیادتیوں کی تصدیق ہوئی ۔یہ پیر ماں کے معاف کر دینے پر ضمانت حاصل کر چکا ہے ۔پیر کی یہ رہائی کہاں کہاں کس ردعمل کا باعث بنتی ہے کبھی حساب کتاب نہیں ہوتا۔
سندھ کے ایک متحرک نوجوان کو علاقہ کے رکن قومی اسمبلی کے غنڈوں نے اس کے سگے بھائی کے زریعے بلوا کر ڈنڈوں سے تشدد کر کے قتل کر دیا ۔بعد میں مقتول کے بھائیوں کو پیسے دے کر صلح نامہ لکھوا لیا اور قانون کو جنگل کا قانون بنا دیا کبھی حساب کتاب ہو گا اور ڈر لگتا ہے حساب کتاب نہ جانے کیا شکل اختیار کرے گا ۔
لال مسجد آپریشن اور اکبر بگٹی قتل سے ریاست کی بنیادیں کس طرح کمزور ہوئیں ۔قانون نافذ کرنے والی سیکورٹی فورسز ہیرو سے ولن بنی کبھی حساب کتاب نہیں ہوا۔
مذہب کو بطور ہتھیار استعمال کرنے کی پالیسی نے معاشرے کے ایک حصہ کو کس طرح زومبیز بنا دیا ۔کاش کبھی حساب کتاب ہو ۔توہین مذہب کے نام پر ایک گینگ نے سات سو نوجوانوں کی زندگی پر سوالیہ نشان کھڑا کر دیا ہے ۔اس معاملہ کی اسلام آباد ہائی کورٹ میں کھلی سماعت سے معاشرے میں کس طرح تقسیم ہوئی کبھی حساب کتاب نہیں ہوا ۔
مہذب معاشرے کی تشکیل ہماری زندگی میں تو ممکن نہیں ہمارے بچوں کے سامنے ہوتی ہے یا نہیں یہ بچے جانیں اور ان کا مستقبل ۔
واپس کریں