دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
اب ایران کی جنگ بھی ایک حتمی انجام تک پہنچ جائے گی
طاہر سواتی
طاہر سواتی
حسبِ روایت، امریکہ کے مڈٹرم الیکشن میں حزبِ مخالف جماعت ڈیموکریٹ نے میدان مار لیا۔ اس پر پاکستانی رنگا رنگ تبصرے کر رہے ہیں۔
تالبان اور پاسداران کی دلدادہ مذہبی زومبیز اسے اسلام کی فتح اور امریکہ کی شکست سے تعبیر کر رہے ہیں۔
اس کے علاوہ ٹرمپ کی شکست پر خوشی منانے والے سوشلسٹ انقلابی ہیں، جن کے نزدیک انسانیت کی فلاح روس اور چین کے نظاموں میں ہے۔
دو سال قبل جب ٹرمپ نے کامیابی حاصل کی تھی تو میرے گورے مالکِ مکان نے شام کی چائے پر گپ شپ لگاتے ہوئے مجھ سے پوچھا کہ میں ٹرمپ کی جیت پر بہت فکرمند ہوں۔ میں نے کہا: میں تو بالکل بھی نہیں، کیونکہ وہ ایک جمہوری صدر ہیں اور جمہوریت ایسا نظام ہے جو اپنی غلطیوں کو خودکار طریقے سے درست کر لیتی ہے۔ ہاں، فکر کی بات تب ہوتی اگر ٹرمپ جیسا شخص کوئی بادشاہ یا ڈکٹیٹر ہوتا۔
لیکن ٹرمپ کی شکست پر خوشیاں منانے والے زیادہ تر پوٹن، ہیبت اللہ اور آیت اللہ جیسے ڈکٹیٹروں اور فاشسٹوں کے پیروکار ہیں۔ جو جمہوریت ٹرمپ کو لے کر آئی تھی، آج وہی اسے گھر چھوڑ کر آ رہی ہے۔ لیکن پوٹن اور آیت اللہ کو کس طرح نکالو گے؟
کلنٹن اور بش کے ادوار کے علاوہ گزشتہ 76 برسوں میں جب بھی مڈٹرم الیکشن ہوئے، ایوانِ نمائندگان میں اپوزیشن کو اکثریت ملی ہے۔ امریکہ میں ایوانِ نمائندگان میں حزبِ مخالف کو اکثریت ملنا ایک عام روایت ہے۔ لیکن اس بار سینیٹ میں بھی اپوزیشن کو اکثریت حاصل ہوئی ہے۔ 1950 سے لے کر اب تک یہ چوتھی دفعہ ہو رہا ہے کہ سینیٹ اور ایوانِ نمائندگان دونوں میں اپوزیشن کو اکثریت مل گئی۔
یہ امریکی نظام کا کمال ہے کہ وہ دو سال بعد عوام سے رجوع کرتے ہیں اور دنیا کے طاقتور ترین صدر کو لگام ڈالتے ہیں۔
یہ مغربی جمہوریت کی خوبی ہے، جس میں رشی سونک برطانیہ کا وزیرِ اعظم، حمدانی نیویارک اور صادق خان لندن کا میئر، اور مصری نژاد عبدالرحمن محمد السید امریکہ کا سینیٹر بن جاتا ہے۔ لیکن جو پاکستانی ان فتحوں پر شادیانے بجا رہے ہیں، وہ خود اپنے ملک میں کسی غیر مسلم کو صدر ماننے کے لیے تیار نہیں۔ منافقت کا اس سے اعلیٰ معیار اس دنیا میں ملنا ناممکن ہے۔
جس وجہ سے ٹرمپ کو فتح نصیب ہوئی، آج وہی اس کی شکست کا سبب بنی۔ وہ چیز ہے معیشت۔
اس کے پہلے دور میں کورونا کی وبا آئی، پوری کی معیشت دباؤ میں رہی، جس کی وجہ سے وہ دوبارہ صدر منتخب نہ ہو سکے، ورنہ زیادہ تر صدور مسلسل دو بار منتخب ہو جاتے ہیں۔ لیکن جو بائیڈن کے دور میں معیشت مزید خراب ہو گئی اور لوگ ٹرمپ کے دور کو یاد کرنے لگے۔ اسی امید پر لوگوں نے اسے دوبارہ ووٹ دیا، لیکن ایران جنگ کی وجہ سے توانائی کی قیمتیں زیادہ رہیں۔ اوپر سے اس نے پاکستان اور ایک عرب ملک کے جھانسے میں آ کر ایران کے ملاوں کا کام بھی تمام نہیں کیا۔ اس لیے لوگ متنفر ہو گئے کہ جس برائی کے خاتمے کے نام پر ہم مہنگائی برداشت کر رہے ہیں، وہ تو قائم و دائم ہے۔ لیکن ٹرمپ کے ابھی دو سال باقی ہیں۔ امریکی عوام کی رائے بدلنے میں دیر نہیں لگتی۔
دوسری جانب عالمی ساہوکار عوام کی طرح جذبات کی بجائے کسی زاویے سے معیشت کے فیصلے کرتے ہیں۔ ڈیموکریٹ کی فتح سے ٹیک کمپنیوں کے کھربوں ڈالر ڈوب گئے ہیں۔ صرف کل امریکہ میں ایپل، نوویڈیا اور ٹیسلا جیسی بڑی کمپنیوں نے ایک ہزار ارب ڈالر سے زیادہ کا نقصان کیا ہے۔ جاپان، تائیوان اور جنوبی کوریا کی کمپنیوں کے شیئرز میں کھربوں ڈالر کی کمی ہوئی ہے۔
اس کی وجہ وہ خوف ہے کہ ڈیموکریٹ برسرِ اقتدار آ کر آرٹیفیشل انٹیلی جنس کی رفتار کو سست کریں گے۔
اب سوال یہ ہے کہ ان انتخابات کے بعد امریکی نظام میں کیا تبدیلیاں رونما پذیر ہو سکتی ہیں۔ ایک خطرہ ٹل گیا، وہ تھا ٹرمپ کا تیسری مرتبہ صدر بننے کا خواب، جس کے لیے وہ متعدد بار آئینی ترمیم کا اشارہ کر چکے تھے۔ اب وہ آئینی ترمیم کا راستہ بند ہو گیا۔
صدر کے پاس کانگریس کی طرف سے منظور شدہ بل کو ویٹو کی پاور سے مسترد کرنے کا اختیار ہے۔ کانگریس اس معاملے میں صدر کو ایک طریقے سے ہی غیر مؤثر کر سکتی ہے کہ اگر وہ دوبارہ وہی بل دو تہائی اکثریت سے پاس کرے، جو ڈیموکریٹس کے پاس بظاہر ابھی نہیں۔ امریکی صدر ویٹو کا بے جا استعمال نہیں کرتا،
لیکن صدر ٹرمپ مزید دو سال صدر رہیں گے، اور حسبِ عادت کھل کر کھیلیں گے، کیونکہ یہ اس کا آخری عہد صدارت ہے اسے اب کھونے کا ڈر نہیں ۔
اور اب ایران کی جنگ بھی ایک حتمی انجام تک پہنچ جائے گی۔
اس پورے منظرنامے میں ایک ذہنی مریض کے پیروکاروں کا رویہ قابلِ رحم رہے۔ یہ لوگ دو سال قبل بھنگڑے ڈال رہی تھی کہ ٹرمپ صدارتی حلف اٹھانے کے بعد سب سے پہلے شہباز شریف کو ایک فون کال کریں گے اور کپتان رہا ہو گا۔ اور اب ٹرمپ کی شکست اور ڈیموکریٹ کی جیت کے بعد خان کو جیل میں رکھنا ناممکن ہے،
حالانکہ بائیڈن نے اپنے دورِ صدارت میں اس سے رسمی فون کال تک نہیں کی ۔
آج یہ مخلوق ان ڈیموکریٹ کی جیت پر خوش ہورہی ہے جنہوں نے پاکستان میں رجیم چینج کی سازش کی،
اور ان ریپبلکنز سینٹرز کی ہار پر تالیاں بجا رہے ہیں جنہوں نے کپتان کی رہائی کے لئے خطوط لکھے ۔
اور اس باجوہ کو شادیوں پر بلا کر اس کی بلائیں لے رہے ہیں جس میر جعفر نے ڈیموکریٹ سے ملکر ان کی حکومت گرائی ۔
اور اس سب کے باوجود یہ اپنے آپ کو سب سے بڑے جمہوری انقلابی اور باشعور سمجھتے ہیں ۔
واپس کریں