طاہر سواتی
“ صادق آمین “ عمران نیازی کے بعد مارکیٹ میں "اصول پرست مولانا" کا ایک نیا بیانیہ گردش کر رہا ہے، جس کے مطابق ن لیگ اور پیپلز پارٹی کرپٹ، خودغرض، موقع پرست اور اسٹبلشمنٹ کی غلام جماعتیں ہیں۔ جب ضرورت تھی تو مولانا کو سر پر بٹھایا گیا تھا، اور آج اسٹبلشمنٹ کی گود میں بیٹھ کر علما کے سرتاج پر بھونک رہے ہیں۔ ان جماعتوں کا کوئی دین اور اصول نہیں۔ اور اس وقت ملک میں واحد حق پرست اور اینٹی اسٹبلشمنٹ توانا آواز صرف مولانا کی ہے۔
چلو، مان لیا، تسلیم کر لیا۔
لیکن اس حق پرست دیوتا اور اینٹی اسٹبلشمنٹ مہاتما کے اپنے بھی کوئی اصول ہیں، یا صرف وصولی ہے؟ پرانے مردے نہیں اکھاڑتے، صرف آٹھ سالہ تاریخ کو دہرا لیتے ہیں۔
2018 کے انتخابات اور اس کے تحت بننے والی اسمبلی مولانا کے نزدیک جعلی تھی۔ اگرچہ ن لیگ کو مولانا سے زیادہ تحفظات تھے، کیونکہ آر ٹی ایس بٹھا کر ان کا مینڈیٹ چرایا گیا تھا، لیکن ن لیگ اور پیپلز پارٹی پھر بھی پارلیمانی سیاست ہی کے قائل تھے۔ لیکن جو مولانا مشرف جیسے آئین شکن ڈکٹیٹر کے ایل ایف پر حلف اٹھا کر اپوزیشن لیڈر بنے اور اسے باوردی صدر منتخب کروانے کو حلال سمجھ رہے تھے، وہی 2018 کی اسمبلی میں حلف اٹھانے کو حرام سمجھتے رہے۔ لیکن مولانا اور ان کی جماعت کے اراکین نے پھر بھی اس "حرام" اسمبلی کا حلف اٹھایا اور ساری مراعات سمیٹیں۔
پھر جمہوریت پسند مولانا نے اسٹبلشمنٹ کی بی ٹیم (جنرل سرفراز اور ساتھیوں) کے اشارے پر آزادی مارچ کیا۔ جب پی ڈی ایم بنی اور وہ اس کے صدر بنے، اور اسی پی ڈی ایم نے تحریک عدم اعتماد کے ذریعے نیازی کو نکالا، تو مولانا نہ صرف آگے آگے تھے بلکہ ببانگ دہل اس کا کریڈٹ بھی لیتے رہے۔ جب نیازی نے سائفر اور بیرونی سازش کا ڈرامہ رچایا، تو ایک جلسے سے خطاب کرتے ہوئے مولانا نے سینے پر ہاتھ رکھ کر اسے چیلنج دیا:
"عمران خان کہتا ہے کہ میری حکومت امریکہ نے گرائی ہے، میں اسے بتانا چاہتا ہوں کہ آپ کی حکومت امریکہ نے نہیں، فضل الرحمان نے گرائی ہے۔"
اصولی مولانا نے اس حکومت میں سب سے زیادہ حصہ وصول کیا۔ 342 سیٹوں کی پارلیمان میں مولانا کی کل 15 نشستیں، یعنی 4 فیصد حصہ تھا، لیکن اصولی مولانا نے 34 وزرا کی کابینہ میں 5 وزارتیں لے کر 15 فیصد حصہ وصول کیا، جس میں مراد سعید کی وزارت مواصلات جیسے مالا مال وزرات ان کے بیٹے کو عنایت کی گئی۔
یہی نہیں، بلکہ اپنے سمدھی غلام علی کو گورنر خیبر پختونخوا اور اکرم درانی کے بیٹے کو ڈپٹی اسپیکر لگوایا، بلکہ خیبر پختونخوا کا نگران وزیر اعلیٰ بھی ان کی مرضی کا لگوایا گیا۔ لیکن اتنا سب کچھ وصول کرنے کے بعد، جب مولانا کو موجودہ سیٹ اپ میں کچھ حصہ نہ مل سکا، تو حضرت کو "وصولی سیاست" یاد آگئی کہ یہ تحریک عدم اعتماد تو ن لیگ اور پیپلز پارٹی باجوہ اور فیض کے کہنے پر لائے تھے، میں نے مجبوراً ساتھ دیا۔
حالانکہ 2022 میں پی ڈی ایم کی حکومت بننے کے بعد پہلی میٹنگ میں ن لیگ نے فوری طور پر نئے الیکشن کا مطالبہ کیا، لیکن مولانا نے اس کی مخالفت کی۔ یہی نہیں، ڈیڑھ سال بعد جب انتخابات منعقد کروانے کے لیے نگران حکومتیں بنیں، تو مولانا روزانہ الیکشن ملتوی کروانے اور اس "حرام" پارلیمان کو پانچ سال بعد بھی قائم رکھنے پر زور دیتے رہے۔
اس دوران اسی اسٹبلشمنٹ کے بارے میں مولانا کا فرمان تھا کہ وہ ملکی معیشت درست کرنا چاہتی ہے، لیکن نیازی پارٹی ایسا نہیں کرنے دے رہی۔
2024 کے الیکشن سے قبل اسی اسٹبلشمنٹ کو خوش کرنے کے لیے وہ افغانستان کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے کا کارڈ لے آئے اور کابل کے متعدد دورے کیے۔ اس دوران افغان طالبان کی وساطت سے ان کے فیض حمید سے بھی رابطے بن گئے اور وکٹ کے دونوں جانب کھلنے لگے، اور انہوں نے حافظ سے 60 سیٹوں کا مطالبہ کر دیا۔ لیکن الیکشن میں جب کچھ وصول نہ ہو سکا، تو وہ ایک بار پھر وصولی سیاست کی طرف آگئے۔
ہم نے تو ڈیڑھ سال قبل عرض کر دیا تھا کہ مولانا عمرانڈو بن چکے ہیں۔ آج وہ اسی نیازی کا بیانیہ بیان کرتے ہیں جسے کبھی وہ یہودی ایجنٹ کہتے تھے۔ علیم خان نے الیکشن کی شام کہا تھا کہ ہماری 180 سیٹیں تھیں، اور اس کے بعد فارم 47 کا بیانیہ جاری ہوا۔ آج وہی بیانیہ مولانا کی زبان پر ہے۔
آج ان کے فرزند ارجمند کے بقول وفاق، پنجاب، بلوچستان اور سندھ کی حکومتیں جعلی ہیں، لیکن خیبر پختونخوا میں پی ٹی آئی کی حکومت جائز تھی، جہاں ان کے بقول ان کا مینڈیٹ پی ٹی آئی کو دیا گیا تھا۔ اسی وفاقی میں ان کی سیٹیں اصلی ہیں، باقی سب جعلی ہیں۔
اسی گورنر راج سے دو دن قبل حکومتی وزرا سے ان کی ملاقاتوں کی ویڈیوز دیکھیں، بانچھین کھلیں اور خوشی دیدنی ہے۔ انہوں نے ایک بار بھی گورنر راج یا ایمرجنسی کی مخالفت نہیں کی، لیکن جب گورنر راج لگا اور کچھ وصولی نہ ہو سکی، تو پھر 73 کے آئین کے تناظر میں "اصولی سیاست" لے آئے۔
میں یا برادر ناصر بٹ جیسے سوشل میڈیا پر لکھنے والے گمراہ یا جاہل ہو سکتے ہیں، وہ کسی غلط پارٹی یا لیڈر کے پیروکار بن سکتے ہیں، لیکن ہم اپنے ہاتھ سے کمانے والے مزدور ہیں۔ پڈم جیسے اتحادوں کی حکومت میں ہم جیسے مزدوروں کو نہیں، مولانا جیسے اصول پرست ہی اپنا حصہ وصول کرتے ہیں۔
لہٰذا!
دامن کو ذرا دیکھ، ذرا بند بند قبا دیکھ۔
واپس کریں