دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
چند تلخ حقائق جان لیجئے
طاہر سواتی
طاہر سواتی
کل اسرائیل میں عام انتخابات منعقد ہوئے۔اسرائیل میں پہلے انتخابات 1949 میں قیام کے صرف ایک سال بعد منعقد ہوئے تھے اور گزشتہ 78 برسوں سے یہ عام انتخابات باقاعدگی سے ہوتے آرہے ہیں، حالانکہ اسرائیل اپنے قیام سے لے کر آج تک مسلسل حالتِ جنگ میں ہے۔ اس کے باوجود وہاں نہ کبھی مارشل لا لگا اور نہ ہی کبھی آئین معطل ہوا۔
ہم نو برس تک آئین تک نہ بنا سکے ، اور جب بن گیا تو
عملُ درآمد سے پہلے ہی ڈکٹیٹر کے ہاتھوں شہید ہوا ۔
یہ بات پوری امتِ مسلمہ کے لیے لمحۂ فکریہ ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں واحد جمہوری ملک صرف اسرائیل ہے۔ اس خطے کے 20 سے زائد عرب ممالک کی مجموعی آبادی 50 کروڑ سے زیادہ ہے، لیکن ووٹ کا حق صرف ان 20 لاکھ عرب مسلمانوں کو حاصل ہے جو اسرائیلی شہری ہیں۔ یہی نہیں، بلکہ صرف اسرائیل کے زیرِ انتظام یہودی علاقوں مقیمٗ عرب مسلمان ہی اپنی مرضی سے ووٹ ڈال سکتے ہیں؛
فلسطینی اتھارٹی اور حماس نے غزہ اور مغربی کنارے کے لوگوں کو گزشتہ 20 برسوں سے حقِ رائے دہی سے محروم رکھا ہوا ہے۔
کل لوگوں نے انتخابات میں نہایت جوش و خروش سے حصہ لیا؛ یہاں تک کہ عرب بدو اونٹوں اور گدھوں پر سوار ہو کر ووٹ ڈالنے آئے۔ اسرائیل کی الیکشن کمیٹی کے مطابق شام 8 بجے تک ووٹنگ کی شرح 77 فیصد سے تجاوز کر چکی تھی، جو کہ 1988ء کے بعد سب سے زیادہ شرحِ ووٹنگ ہے۔
کل تقریباً 20 لاکھ عرب شہری (جن میں اکثریت سنی مسلمانوں کی ہے) ووٹ ڈال رہے تھے اور درجنوں عرب، اسرائیلی پارلیمنٹ کی نشستوں کے لیے الیکشن لڑ رہے تھے۔ موجودہ پارلیمان میں عربوں کی 10 نشستیں ہیں۔ 120 ارکان پر مشتمل اسرائیلی پارلیمنٹ میں حکومت سازی کے لیے 61 نشستیں درکار ہوتی ہیں۔ ایسے میں جب کسی ایک پارٹی کو واضح اکثریت حاصل نہ ہو، تو مخلوط حکومت کی تشکیل میں یہ 10، 12 عرب نشستیں انتہائی فیصلہ کن کردار ادا کرتی ہیں۔
آپ کو یہ جان کر بھی حیرت ہوگی کہ وہاں "جماعتِ اسلامی اسرائیل" بھی موجود ہے، جو 'اسلامی تحریک' (Ra'am Party / القائمۃ العربیہ الموحدہ - رعام) کے نام سے انتخابات میں حصہ لیتی ہے۔ 2021ء کے انتخابات میں یہ جماعت 5 نشستیں حاصل کر کے 'کنگ میکر' بن کر ابھری تھی، اور اسی کی بدولت اسرائیل کو ایک طویل عرصے بعد مستحکم حکومت میسر آئی۔ اس پارٹی کے سربراہ منصور عباس نے کابینہ میں وزارت کا حلف بھی اٹھایا تھا۔
ابتدائی نتائج سے اخذ شدہ اندازوں کے مطابق،
وزیراعظم نیتن یاہو کی جماعت 'لیکوڈ' اسرائیلی پارلیمنٹ میں سب سے بڑی واحد جماعت بن کر ابھری ہے ،
لیکن اس کا اتحاد جس میں انتہائی دائیں بازو کی جماعتیں شامل ہیں ، تقریباً 50 نشستیں حاصل کرسکتا ہے۔
جو موجودہ 64 سیٹوں سے بہت کم ہے ۔
دوسری جانب سابق چیف آف اسٹاف گاڈی آئزنکوٹ کی قیادت میں اپوزیشن کیمپ 52 سے 53 نشستیں حاصل کر سکتا ہے،
یعنی حکومت سازی کے لیے فی الحال کسی کے پاس بھی سادہ اکثریت نہیں ہے۔
ایسے میں ریکارڈ تعداد ( 17 یا 18 ) میں نشستیں حاصل کرنے والی عرب اسرائیلی جماعتیں حکومت سازی میں ایک بار پھر فیصلہ کن کردار ادا کر سکتی ہیں۔
اب چند تلخ حقائق جان لیجئے ،
پوری دنیا اسرائیل پر نسل پرستی کا الزام لگاتی ہے ،اب کل سے پوری دنیا کا میڈیا کہہ رہا ہے کہ اس بار حکومت سازی میں عرب ووٹر فیصلہ کن ادا کریگا ،
بلکہ پاسدران کی 'فارس نیوز ایجنسی' اسرائیلی انتخابات میں عربوں کی شرکت کی اہمیت پر زور دے رہی ہے۔
سوال مگر یہ ہے کہ اسرائیل کی پارلیمنٹ، کنیسٹ، میں عرب اور مسلم جماعتیں 17 یا 18 نشستیں جیت رہی ہیں۔ مختلف عرب قصبوں میں ووٹنگ کا تناسب 70 فیصد سے بھی زیادہ رہا، جبکہ بعض دیہات میں یہ شرح 90 فیصد تک پہنچ گئی۔ صیہونی نسل پرستوں کے ہاں اسرائیلی پارلیمنٹ میں اب 20 فیصد آبادی پر مشتمل عربوں کے پاس تقریباً 14 فیصد نشستیں ہیں لیکن خمینت کے پارلیمان میں سنیوں کا کتنا تناسب ہے۔
جہاں کوئی سنی تہران شہر کا میئر نہیں بن سکتا،
خود 22 عرب ممالک کے پچاس کرؤڑ انسان حکومت سازی میں کیا کردار ادا کرسکتے ہیں ، اور بحیثیت مجموعی چار درجن سے زائد مسلم ممالک میں عام انسان کے ووٹ کو کتنی عزت دی جاتی ہے ۔
اس انتخابات سے ایک اور حقیقت واضح ہو گئی کہ جہاں آپ کو بیلٹ (ووٹ) کے ذریعے فیصلے کا اختیار دے دیا جائے، وہاں بلٹ (گولی) کا استعمال بے وقوفی اور خودکشی کے مترادف ہے۔
یہودی 1922ء سے 1948ء تک التجا کرتے رہے کہ اس علاقے میں عرب اور اسرائیل کے نام سے دو ریاستیں بنا دی جائیں اور القدس (یروشلم) کو بین الاقوامی/آزاد حیثیت دے دی جائے، لیکن عربوں نے اس پیشکش کو بار بار مسترد کیا۔
پھر جب اسرائیل معرضِ وجود میں آیا تو اس نے وہاں کے عربوں کو شہریت کی پیشکش کی؛ اور جن لوگوں نے اسے قبول کیا، انہیں وہ تمام شہری حقوق دیے گئے جو شاید 22 عرب ممالک میں سے کسی کے شہری کو میسر نہیں ہیں۔
لیکن دوسری طرف، پہلے 'الفتح' اور بعد میں 'حماس' نے بندوق کا راستہ اپنایا۔ آخرکار 1994ء میں جب سیاسی حل کے نتیجے میں انہیں محدود خودمختاری ملی، تو چاہیے یہ تھا کہ وہ اپنے لوگوں کا معیارِ زندگی بلند کرتے، انہیں جدید تعلیم اور ٹیکنالوجی سے روشناس کراتے اور ایک عمدہ نظامِ حکومت قائم کرتے۔ لیکن فلسطینی اتھارٹی اور حماس، دونوں نے کرپشن اور لوٹ مار کا بازار گرم رکھا، آپس میں لڑتے رہے، اور بار بار اسرائیل پر حملہ آور ہوتے رہے۔ اس کے نتیجے میں اسرائیل کی جوابی کارروائی سے مرنے والوں کی لاشیں میڈیا پر دکھا کر دنیا بھر سے ہمدردیاں اور بھاری مالی عطیات سمیٹتے رہے۔ اور آخر کار، پاسداران کے اشاروں پر ایک ایسی تاریخی غلطی کر بیٹھے جس کے بھیانک نتائج آج پورا خطہ بھگت رہا ہے۔
صرف ایک لمحے کے لئے سوچیں کہ اگر یہ لوگ بھی بندوق اٹھانے کی بجائے سیاسی راستہ اپنا لیتے توآج اسرائیل کے جمہوری نظام میں ان کا بڑا ووٹ بینک کتنا فیصلہ کن کردار ادا کرہا ہوتا ؟
واپس کریں