طاہر سواتی
جب تقریباً دو سال قبل فضل الرحمٰن کے بارے میں پیش گوئی کی تھی تو بہت سارے احباب ناراض ہو گئے تھے، لیکن الحمد للہ، وقت کے ساتھ حضرت نے اسے حرف بہ حرف سچ ثابت کر دیا۔
فضل الرحمٰن نے خواجہ آصف پر طنز کرتے ہوئے قومی اسمبلی میں سوال اٹھایا کہ "ایران میں دفاعی معاہدہ ہو رہا ہے اور وزیرِ دفاع یہاں بیٹھے ہوئے ہیں"۔
ویسے تو ایران میں کوئی دفاعی معاہدہ نہیں ہورہا ۔
سعودی عرب اور قطر کے ساتھ ہمارے جو دفاعی معاہدے ہوئے اس میں وزیر دفاع موجود تھے۔
لیکن پھر ایک عام پاکستانی کو اس قسم کے سوالات پوچھنے کا حق ہے،
لیکن کم ازکم فضل الرحمٰن کو اس موضوع پر منہ کھولتے ہوئے کوئی شرم، کوئی حیا کرنی چاہیے۔
نقوی وہی کر رہا ہے جو فضل الرحمٰن گزشتہ چار دہائیوں سے کرتے آ رہے ہیں۔ فضل الرحمٰن کس حیثیت سے افغانستان کے دورے کرتے رہے،
جبکہ اس وقت ملک میں وزیرِ خارجہ موجود تھے اور یہی خواجہ آصف وزیرِ دفاع تھے؟
اپنے ہم مسلک طالبان کے پاس آپ کو ایلچی بنا کر بھیجا جائے تو ٹھیک، لیکن اگر وہی کام نقوی کرے تو غلط؟ کوئی شرم، کوئی حیا!
فضل الرحمٰن فرماتے ہیں کہ "اس ریاست نے مجھے کیا دیا، میں اس پر تھوکتا ہوں"۔ سبحان اللہ!
تین نسلیں اس ریاست پر پلنے کے بعد آپ آج پوچھ رہے ہیں کہ اس ریاست نے مجھے کیا دیا؟
اس ریاست نے آپ کے والد کو وزارتِ اعلیٰ دی، حالانکہ وہ چپڑاسی بننے کے لائق بھی نہیں تھے۔
آپ کی، آپ کے بھائیوں اور بیٹے کی کیا قابلیت (کوالیفیکیشن) ہے جو پارلیمان اور وزارتوں کے مزے لوٹتے رہے؟
اس ریاست سے باہر دنیا کے کسی بھی ملک میں آپ کو کوئی ٹرک ڈرائیور بھی نہ رکھے۔ مغربی دنیا اور عرب دنیا کو چھوڑیں، جو قذافی آپ کا مہربان تھا اور جس سے بھاری بھرکم عطیات لیتے تھے، اگر آپ اسی قذافی کی ریاست میں ہوتے تو زیادہ سے زیادہ ایک مسجد کے خطیب ہوتے اور صرف جمعے کے روز لکھا ہوا سرکاری خطبہ پڑھ رہے ہوتے۔
آج بھی آپ کے محبوب وطن افغانستان میں کسی مولوی کو اپنی مرضی سے خطبہِ جمعہ پڑھنے کی اجازت ہے؟ یہ صرف پاکستان ہے جہاں آپ اپنی مرضی سے دندناتے پھرتے ہیں اور جو مرضی بکواس کرتے رہیں۔
کل آپ کی پارٹی کی خواتین زرق برق لباس پہنے قومی اسمبلی میں چہک رہی تھیں؛ یہ اسی ریاست کا کمال ہے، ورنہ جس افغانستان میں آپ کے ہم مسلکوں کی حکومت ہے، وہاں خواتین گھر کے اندر بھی اونچی آواز میں بات نہیں کر سکتیں۔
اس مولوی کی منافقت دیکھیں کہ: ایک جانب یہ دنیا بھر کی تنظیموں کو پاکستان میں انسانی حقوق کی پامالی پر ایکشن لینے کی دعوت دے رہے ہیں، لیکن وہی تنظیمیں جب طالبان حکومت کے جابرانہ اقدامات پر اعتراض کرتی ہیں، تو یہ اسے اسلام کے خلاف سازش قرار دیتے ہیں۔
فضل الرحمٰن اس قسم کا ناٹک کر کے دراصل سرکاری زمین پر غیر قانونی طور پر تعمیر شدہ مفتی محمود مرکز کے تجاوزات کو بچانے کی کوشش کر رہے ہیں،
لیکن اب وقت آ گیا ہے کہ ان مذہب فروشوں کی بلیک میلنگ کو ہمیشہ کے لیے ختم کر دیا جائے۔
صرف یہی نہیں، بلکہ مدارس کی مکمل رجسٹریشن ہو، ان کا باقاعدہ آڈٹ ہو، ان کا ایک نصاب ہو جس میں جدید سائنسی علوم شامل ہوں۔
یہ ہاسٹل کا نظام ختم کر کے دیگر اسکولوں کی طرح دوپہر کو سارے بچے گھروں کو جائیں تاکہ وہ ان حرام خور مولویوں کے ہاتھوں جسمانی اور جنسی تشدد سے محفوظ رہیں۔ اور فضل الرحمٰن سمیت جو بھی مولوی اس کے خلاف مزاحمت کرے، اس کے ساتھ قانون کے مطابق سلوک کیا جائے۔
آپ آج اقتدار کے ایوانوں سے دور ہیں تو ریاست پر تھوک رہے ہیں؛ لعنت ہو آپ کی اس غلیظ سوچ پر، تھو ہے آپ کی دستار پر!
میں ایک عام مزدور ہوں اور گزشتہ سترہ برسوں سے بیرونِ ملک زرمبادلہ کما کر اس ملک میں بھیج رہا ہوں۔ لیکن میں پھر بھی اس ریاست کی مٹی کو چومنا اپنے لیے سعادت سمجھتا ہوں۔ ججوں اور جرنیلوں سمیت جس نے بھی اس ریاست کے ساتھ کھلواڑ کیا، ہم اس کے خلاف ہیں۔ لیکن وہ ریاست نہیں ہیں؛
یہ سرزمین، اس کے باشندے اور اس کا آئین مل کر ایک ریاست بناتے ہیں۔ آپ جرنیلوں پر تنقید کریں، لیکن ریاست کو اپنی غلیظ سیاست سے دور رکھیں۔
واپس کریں