دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
آگے بس تاریخ کا کوڑہ دان ہے
طاہر سواتی
طاہر سواتی
پی ٹی آئی کے سیکرٹری جنرل سلمان اکرم راجہ اقرار کر رہے ہیں کہ ہمارے مذاکرات دہشت گردی کے معاملات پر ناکام ہو گئے ہیں۔ جو جماعت دہشت گردی کے معاملے میں ریاست کی بجائے دہشت گردوں کے ساتھ کھڑی ہو، اس پر دہشت گردوں کی طرح پابندی لگانی چاہیے۔
سہیل آفریدی نے اپنا مارچ خیبر پختون خواہ کے ان جنوبی اضلاع سے شروع کیا جہاں اس وقت دہشت گردی عروج پر ہے اور عام لوگوں کے لیے دن کے وقت بھی یہ علاقہ غیر محفوظ ہے، لیکن پی ٹی آئی کا قافلہ بغیر کسی سیکیورٹی کے رات کو بھی مکمل سکون سے سفر کر سکتا ہے۔
اس وقت آفریدی کی سب سے بڑی خواہش یہ ہے کہ ایمرجنسی یا گورنر راج لگا کر اسے سیاسی شہادت کے درجے پر فائز کیا جائے، لیکن ن لیگ اور پیپلز پارٹی جیسی گھاگ جماعتوں نے فیصلہ کیا ہے کہ ذرا اسے کھیلنے دیا جائے۔
تازہ ترین اطلاعات کے مطابق، تمام تر سرکاری وسائل کے باوجود مارچ میں شرکا کی تعداد توقع سے انتہائی کم ہے، اور تین دن بعد جب یہ صوابی انٹر چینج پہنچیں گے تو سوائے دہاڑی دار مزدوروں اور چند افغانوں یا ٹی ٹی پی کے پیادوں کے علاوہ عام کارکن نہ ہونے کے برابر رہ جائیں گے۔ اس مایوس کن صورت حال میں اگر وہ مارچ کو ملتوی یا کینسل کرتے ہیں تو یہ اس پارٹی کی سیاست میں آخری کیل ثابت ہوگی، جس کے بعد یہ کسی بڑے سرکس کے قابل نہیں رہیں گے۔
اور اگر یہ اپنے چند سرپھروں کو لے کر آگے بڑھتے ہیں تو پنجاب میں داخل ہونے کے بعد پیچھے ایمرجنسی لگا دی جائے گی، اور سہیل آفریدی اپنے سیکیورٹی پروٹوکول ہی میں ہاتھوں گرفتار ہوں گے۔
ان کے خلاف ریاست مخالف اور دہشت گردی کے مکمل کیسز تیار پڑے ہوئے ہیں، جس کے بعد سہیل آفریدی اور ان کے سرپھرے کئی سالوں تک سلاخوں کے پیچھے ہی رہیں گے۔
یوں اس جماعت کے سرپھرے گروپ کا مکمل خاتمہ ہوگا۔
ان کا اسد قیصر نامی دانشور، دھمکی دے رہا ہے کہ:
"ہم نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ اگر یہ گورنر راج یا ایمرجنسی لگاتے ہیں یا سہیل آفریدی کو نااہل کرتے ہیں تو ہم تمام اسمبلیوں سے استعفے دے کر نظام سے نکل جائیں گے۔"
اگر ان لوگوں نے یہ کام کر دیا تو اس سے بڑی خوشی کی بات اور کیا ہوگی کہ پورا نظام اس گند سے صاف ہو جائے گا۔
ضمنی الیکشن میں ان کی سیٹیں کم ہو سکتی ہیں، زیادہ تو نہیں ہو سکتیں۔ ویسے بھی پنجاب میں مشکل سے ان کو کوئی جیتنے دے، اور کوئی فیض حمید بھی نہیں جو کے پی کے میں ان کو پھر سے جتوا دے۔
گنڈا پور ہو یا سہیل آفریدی، صرف صوبائی وسائل کے بل بوتے پر آئے روز یہ تماشے کرتے آرہے ہیں، ورنہ باقی تینوں صوبوں میں ان کے احتجاجی سیاست کا جنازہ کب سے نکل چکا ہے۔
اب استعفے دے کر یہ خود ہی فاتحہ پڑھیں گے۔
آگے بس تاریخ کا کوڑہ دان ہے۔
واپس کریں