طاہر سواتی
خمینی پاسدارانِ کی پاکستان کے خلاف تالبان کو ڈرون فراہم کرنے اور حوثیوں کے مدینہ منورہ پر حملے کے بعد پاکستان نے اس جنگ میں سنجیدگی سے حصہ لینے کا فیصلہ کیا ہے۔
رائٹرز کے مطابق، پاکستان نے چار کارگو طیارے عدن بھیجے ہیں، جن میں فضائی دفاعی نظام، توپ خانہ، ڈرون اور ڈرون شکن آلات شامل ہیں۔
دوسری جانب پاکستان نے سعودی عرب اور حرمین شریفین کے دفاع کے لیے چالیس ہزار فوجی تعینات کر دیے ہیں۔
یوں پاکستان اب ایران نواز حوثیوں کے ساتھ براہِ راست محاذ آرائی کے مزید قریب پہنچ رہا ہے۔
پاکستان فوج براہِ راست یمن میں داخل نہیں ہوگی۔
پاکستانی فوجی سعودی سرحدوں کی حفاظت اور حوثیوں کے میزائلوں اور ڈرونز کو روکنے میں مدد دے رہے ہیں۔ ان کی بنیادی ذمہ داری سعودی سرزمین، تیل کی تنصیبات اور مقدس اسلامی مقامات کا تحفظ ہے،
جبکہ دوسری جانب سعودی عرب باب المندب کو حوثیوں سے آزاد کرنے کے لیے ایک بڑے فوجی آپریشن کی تیاری کر رہا ہے۔
اس آپریشن میں ایک لاکھ یمنی فوج سعودی کمان میں جنگ لڑے گی، جسے سعودی ایئر فورس کی مدد حاصل ہوگی۔
ترکی نے ڈرون فراہم کیے ہیں، فرانس ینبو میں اپنی دفاعی موجودگی مضبوط کر رہا ہے، جبکہ امریکہ انٹیلی جنس اور فوجی مشاورت فراہم کر رہا ہے۔ یوں حوثیوں کو اب صرف بکھری ہوئی یمنی فورسز اور سعودی طیاروں کا سامنا نہیں؛ ان کے خلاف ایک وسیع تر عسکری ڈھانچہ تشکیل پاتا دکھائی دے رہا ہے۔
ایران کے خلاف جنگ امریکہ اور اسرائیل نے شروع کی تھی، لیکن پاسداران اور اس کے پراکسیز نے اسے ایران عرب کی جنگ میں تبدیل کر دیا۔
گزشتہ چار ماہ سے ایران نے اسرائیل کے خلاف ایک کنکر بھی نہیں پھینکا، جبکہ عرب ممالک کے خلاف ایک دن کا بھی ناغہ نہیں کیا، اور سب سے بڑا نشانہ سعودی عرب ہے، کیونکہ ایرانیوں کے نزدیک سعودی عرب کے علاوہ دیگر چھوٹے ممالک تنکے ہیں جو ایران کی فوجی طاقت کا مقابلہ نہیں کر سکتے، لیکن سعودی عرب کو کمزور کیے بغیر اس خطے میں اجارہ داری قائم کرنا مشکل ہے۔
اس تناظر میں فروری سے ہی ایران نے اپنے عراقی اور یمنی پراکسیز کے ذریعے سعودی عرب کو نشانے پر رکھا ہوا ہے، اور ساتھ ہی سعودی عرب کے خلاف اپنے مذموم پروپیگنڈے کے ذریعے اسے عالم اسلام میں تنہا کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
لیکن خدا کو کچھ اور منظور تھا؛ ایرانی ریشہ دوانیوں کے نتیجے میں مکہ معاہدے کی صورت میں ایک ایسا اتحاد تشکیل پایا جو ان شاء اللہ اس خطے سے خمینی وائرس کے خاتمے پر منتج ہوگا۔
حوثیوں کے خلاف فیصلہ کن کارروائی کے بعد ایران نے کل پاکستان کے ذریعے پیغام بھجوایا ہے کہ وہ سعودی عرب اور حوثیوں کے درمیان صلح کرانے میں مدد کی پیشکش کرتا ہے،
لیکن پاکستان اور سعودی عرب کو ایرانی چالوں میں آ کر ہرگز یہ تاریخی غلطی نہیں کرنی چاہیے۔
جب شروع میں پاکستان نے حوثیوں کی شکایت کی تھی تو ایرانیوں کا موقف تھا کہ ہمارا ان سے نہ کوئی تعلق ہے نہ ان پر کوئی کنٹرول۔
اب حوثیوں کے خلاف فیصلہ کن جنگ دیکھ کر یہ انہیں بچانے آئے ہیں؛ مذاکرات کی آڑ میں یہ وقت لے کر انہیں دوبارہ منظم کرنے کی کوشش کریں گے۔
اس خطے میں تالبان، پاسداران، ٹی ٹی پی یا حوثیوں سے مذاکرات کر کے امن نہیں لایا جا سکتا۔
ان فتنوں کا ایک ہی حل ہے کہ انہیں پوری قوت کے ساتھ کچلا جائے۔
یہ کام آج نہیں تو کل کرنا پڑے گا۔
اور تازہ ترین صورت حال یہ ہے کہ پاکستان میں تالبان اور پاسداران کی نمائندہ جماعت نے اپنے صوبے میں دھ شت گردی کے خلاف کسی قسم کے کاروائی سے صاف انکار کردیا ہے اور اس مخدوش حالات میں عوام کی زندگیوں کو خطرے میں ڈال کر احتجاجی راستہ اپنانے کا فیصلہ کرلیا ہے ۔
اب آپ خود نکتے ملائیں اور تصویر بنائیں ۔
واپس کریں