دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
آگے کی کہانی خود مکمل کریں
طاہر سواتی
طاہر سواتی
کل حکومت، پیپلز پارٹی اور پی ٹی آئی کے درمیان دس گھنٹے طویل مذاکرات ہوئے، جن میں چار مرتبہ مسودہ تبدیل ہوا اور پی ٹی آئی کے مطالبات شامل کیے گئے۔ جب وزیر داخلہ محسن نقوی فائنل مسودہ لے کر وزیرِ اعظم اور صدرِ مملکت کے پاس پہنچے، تو پیچھے سے سہیل آفریدی نے اسے ماننے سے انکار کر دیا اور نئے مطالبات شامل کر کے اس فائنل معاہدے کو ناکام بنا دیا۔ حالانکہ حکومتی مذاکراتی ٹیم نے خیبر پختونخوا کی صوبائی حکومت کو بھی مذاکرات میں شرکت کی دعوت دی تھی، لیکن نہ وہ خود مذاکراتی عمل میں شامل ہوئے اور نہ ہی اپنا قابلِ عمل مسودہ بروقت اپنی مرکزی مذاکراتی وفد کو پیش کیا۔ بلکہ جب سب کچھ فائنل ہو گیا، تو عین آخری لمحے متفقہ مسودے پر دستخط سے انکار کر کے احتجاجی تحریک چلانے کا اعلان کر دیا۔
مذاکرات میں شامل رانا ثناء اللہ سمیت سبھی لوگ یہ تسلیم کر رہے ہیں کہ ڈیڈ لاک عمران نیازی سے ملاقات کی وجہ سے پیدا نہیں ہوا، کیونکہ حکومت پہلے ہی ان کا یہ مطالبہ مان چکی تھی؛ بلکہ دراصل پی ٹی آئی نے اپنے عسکری ونگ ٹی ٹی پی کے خلاف کسی قسم کی کارروائی سے صاف انکار کر دیا۔
جس حتمی مسودے پر پی ٹی آئی کی مرکزی قیادت، خیبر پختونخوا حکومت نے اتفاق کیا تھا اور جسے 72 گھنٹوں کے اندر قابلِ عمل منصوبے کی شکل دینی تھی، اس میں درج ذیل امور شامل تھے:
۱۔ سکیورٹی صورتحال کو سیاسی مداخلت سے محفوظ رکھنا اور پولیس ایکٹ 2026 پر نظرِ ثانی
۲۔ خیبر پختونخوا میں دہشت گردوں کی آزادانہ نقل و حرکت اور محفوظ پناہ گاہوں کو روکنا
۳۔ کالعدم ٹی ٹی پی، ٹی ٹی اے اور تمام دیگر دہشت گرد گروہوں کی دہشت گردانہ کارروائیوں کی کھل کر مذمت کرنا
۴۔ قومی پالیسی کے تحت غیر رجسٹرڈ افغان مہاجرین کی باعزت واپسی اور خیبر پختونخوا میں افغان کیمپوں کے خاتمے کی حمایت
۵۔ تالبان حکومت سے کسی بھی قسم کا رابطہ نہ رکھنا
۶۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پولیس کو فنڈز اور جدید آلات کی فراہمی
۷۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں صوبائی حکومت خیبر پختونخوا کا ذمہ داری قبول کرنا اور مسلح افواج کے ساتھ مزید مؤثر تعاون کو یقینی بنانا
۸۔ قبائلی اضلاع میں انسدادِ دہشت گردی سے متعلق فیصلے کرنا اور قومی ایکشن پلان پر عمل درآمد کرنا
اب ان میں کون سی شق خلافِ آئین یا خلافِ قانون ہے؟ نہ ہی اس کا سیاست سے کوئی تعلق ہے۔ بلکہ سہیل آفریدی اور کابینہ و صوبائی و قومی اسمبلی کے ممبران ریاست پاکستان کے جس آئین کے مراعات اور اختیارات استعمال کر رہے ہیں، اس کے تحت صوبائی حکومت کو ان اقدامات پر خود بخود پہلے سے عمل درآمد کرنا چاہیے تھا۔ ذرا وزیرِ اعلیٰ، صوبائی وزراء اور ممبرانِ پارلیمان کے حلف نامے پڑھیں۔
لیکن جو جماعت ٹی ٹی پی کے لیے دفاتر کھول رہی تھی، وہ اس کے خلاف کارروائی کیسے کر سکتی ہے؟
دہشت گردی سیاسی نہیں، ریاستی مسئلہ ہے۔ لیکن جہاں ریاست کے خلاف لڑنے والے دہشت گرد ایک سیاسی جماعت کا عسکری ونگ ہوں، وہاں آپ اسے سیاسی جماعت کیسے کہہ سکتے ہیں؟ آئین کی کون سی شق اسے یہ حقوق دیتی ہے؟
بندہ ناچیز بار بار عرض کر چکا ہے کہ نہ عمران نیازی سیاسی لیڈر ہے، نہ پی ٹی آئی سیاسی جماعت، نہ اس کے پیروکار سیاسی کارکن۔
ایک جرنیلی پلان کے تحت ملک کی بڑی سیاسی جماعتوں کو سیاست سے آؤٹ کرنے کے لیے یہ وائرس پیدا کیا گیا، جو اب کینسر کی شکل اختیار کر چکا ہے۔ حمید گل، پاشا، شریں شریف، ظہیر السلام، باجوہ اور فیض سمیت سارے جرنیل قومی مجرم ہیں، جنہوں نے اس زہریلے درخت کی آبیاری کی۔
مذاکراتی ٹیم میں شامل پیپلز پارٹی کی شریں رحمان لکھتی ہیں:
”پارلیمنٹ میں اپنے پچیس برسوں کے دوران میں نے کبھی سیاسی اعتماد سازی کے اقدامات شروع کرنے اور برسوں کی تلخ سیاسی تقسیم کے بعد پاکستان میں استحکام لانے کے کسی موقع کو اس قدر غیر ذمہ داری سے ضائع ہوتے نہیں دیکھا۔“
اب صورت حال یہ ہے کہ وزیرِ اعلیٰ سہیل آفریدی سرکاری ہیلی کاپٹر اور پروٹوکول کے ساتھ احتجاجی تحریک کی قیادت کے لیے لکی مروت پہنچ گئے ہیں۔ مریم نواز اگر سرکاری جہاز کا کرایہ جیب سے دے کر ذاتی استعمال میں لائیں، تو میڈیا دن رات اس پر تنقید کرتا ہے؛ لیکن اب وہی میڈیا خاموش ہے۔ دنیا کے کس جمہوری ملک میں ریاستی وسائل کسی جماعت کی سیاست کے لیے استعمال ہوتے ہیں؟ یہاں ایک وزیرِ اعلیٰ ریاستی وسائل کو اپنی سیاست کے لیے نہیں، بلکہ ریاست ہی کے خلاف استعمال کر رہا ہے۔
اسلام آباد ہائی کورٹ نے لانگ مارچ کے لیے سرکاری وسائل استعمال کرنے پر پابندی کا حکم دیا تھا اور پی ٹی آئی نے اس کی تحریری یقین دہانی بھی کرائی تھی۔ اقامے پر ایک وزیرِ اعظم کو نااہل کرنے والی عدالتیں کیا اس عمرانی کلٹ کے خلاف توہینِ عدالت کی کارروائی کریں گی؟
احتجاجی ریلی میں مسلح افراد موجود ہیں، جن کے ہاتھوں میں کلاشنکوف دیکھی جا سکتی ہیں۔ مبینہ طور پر ٹی ٹی پی اور افغان لفنڈے بھی اس میں شامل ہیں۔ دوسری جانب پی ٹی آئی انصاف یوتھ ونگ پشاور کے جنرل سیکرٹری آصف بنگش نے پنجاب پولیس اور اسلام آباد پولیس کی وردیاں تیار کروائی ہیں،
یعنی ایک اور ایک اور ۹ مئی کی تیاری مکمل ہے، تاکہ ہر جگہ آگ لگانے اور حملے کرنے کا الزام پولیس پر لگایا جا سکے۔جھوٹے پروپیگنڈے میں غفور نیٹ ورک مکمل ایکٹیو ہے۔
سوال یہ ہے کہ آخر اتنے واضح ریاست مخالف اقدامات کے باوجود پی ٹی آئی کو بچا کون رہا ہے؟
اگر ریاستی وسائل ہی ریاست کے خلاف استعمال ہو رہے ہوں، تو پہلا سوال یہی بنتا ہے: کیا کسی بھی اگلے اقدام سے پہلے ان وسائل کی سپلائی لائن کاٹنا ریاست کی بنیادی ذمہ داری نہیں؟ تو پھر کس چیز کا انتظار ہے؟
آخری کس قوت کے سہارے سہیل آفریدی اپنی ہی مرکزی قیادت کے خلاف جا رہا ہے؟ ۹ مئی کے اس کھلے مجرم کو ابھی تک کس نے تحفظ دیا ہے؟
حالانکہ اسے وزیرِ اعلیٰ نہیں، جیل کی سلاخوں کے پیچھے ہونا چاہیے تھا۔ تو جناب، یہ باجوہ کے تعینات کردہ وہ محب وطن فیض یاب ہیں جو ابھی تک سہولت کاری کر رہے ہیں۔ اکتوبر میں ان کے گھر جانے کا وقت ہوا چاہتا ہے؛ اب جانے سے قبل کچھ تماشہ تو لگائیں گے۔
ایک جانب افغان تالبان اور ٹی ٹی پی ، پی ٹی آئی کو مکمل سپورٹ کر رہے ہیں ، اور پی ٹی آئی ، ٹی ٹی پی کے خلاف کسی قسم کے اقدام سے انکاری ہے۔ دوسری جانب پاکستان میں پاسداران کا نمائندہ راجہ ناصر عباس پی ٹی آئی کی مرکزی قیادت کر رہا ہے اور مذاکرات کی ناکامی کی خوشی اس کے چہرے سے ٹپک رہی ہے۔
آگے کی کہانی خود مکمل کریں۔
واپس کریں