دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
تباہی کی دستک ۔ اظہر سید
اظہر سید
اظہر سید
تیسری عالمی جنگ دروازوں پر دستک دے رہی ہے ۔کسی کو نہیں معلوم جنگ باقاعدہ کب شروع ہو گی اور کیسے ختم ہو گی ۔جنگ کے خاتمہ کے بعد دنیا کیسی ہو گی ۔
ایک بات سب کو نظر آرہی ہے تیسری عالمی جنگ سے پہلے ریاستیں درکار اقدامات کرنے لگی ہیں ۔ڈالر کے ممکنہ زوال کا خدشہ اسقدر توانا ہے بیشتر طاقتور معیشتیں متبادل نظام برکس کی صورت تیار کر چکی ہیں ۔
متعدد مغربی ریاستیں اپنے سونے کے ذخائر محفوظ امریکی ٹریژری سے نکال کر متبادل جگہوں پر منتقل کرنے لگی ہیں ۔
امریکی بانڈز میں سرمایہ کاری کرنے والے ممالک کا اعتماد ختم ہو چکا ہے ۔ اپنے بانڈز فروخت کرنے میں مسلسل مصروف ہیں ۔
خلیجی ریاستیں کمزور بادشاہتیں ہیں انہیں بانڈر بھنانے کی اجازت مل رہی ہے نہ اپنے ڈیپازٹس امریکی بینکوں سے نکالنے کی اجازت مل رہی ہے ۔
چند ماہ میں چینی سو ارب ڈالر سے زیادہ کے بانڈز بھنا کر سونے کے ذخائر خرید چکے ہیں ۔
رواں ہفتے کرپٹو کرنسی کے خوفناک ڈرامہ نے دنیا کے طاقتور ترین حصص بازاروں میں زلزلہ برپا کر دیا تھا ۔ابتدائی اشارے ہیں طاقتور امریکہ اور طاقتور ڈالر کوئی دن جاتا ہے ڈھرام سے گرے گا۔
مغربی ممالک عوام کو دو ماہ کے خوردونوش کے بندوبست کی باضابطہ ہدایات جاری کر چکے ہیں ۔
امریکیوں کو کچھ سمجھ نہیں آرہی نادہندہ معیشت کے ساتھ کتنی دیر مزید خود کو بچا پائیں گے ۔ایران پر خوفناک حملوں کے باوجود ملڑوں کی حکومت گرا نہیں پائے نئے حملے کریں گے کیسے کامیابی ملے گی ۔
زوال کا گھوڑا سرپٹ بھاگ رہا ہے ہاتھوں میں زین ہے نہ پا ہیں رکاب میں ۔
واپس کریں