دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
پاکستان انڈر اٹیک ۔ اظہر سید
اظہر سید
اظہر سید
ایران اکیلا نہیں پاکستان بھی امریکہ چین مسابقت کی وجہ سے حملہ کی زد میں ہے ۔تیسری عالمی جنگ کا باضابطہ آغاز گیارہ ستمبر سے ہوا تھا ۔ڈوبتی ہوئی امریکی معیشت کو جنگی صنعتوں کی فروخت سے بچانے کا عمل ٹوئن ٹاور پر حملوں سے ہوا ۔
گیارہ ستمبر کے واقعات جب ہوئے چینی منظر عام پر نہیں تھے ۔دنیا یک طاقتی محور کے گرد گھوم رہی تھی ۔بظاہر امریکی معیشت بھاگنے لگی لیکن حقیقت ایک دلدل تھی جس میں بتدریج ایک سپر پاور دھنس رہی تھی ۔
گیارہ ستمبر کے واقعات نے چند دہائیوں تک امریکی معیشت کو بچایا اور سپر پاور کی حیثیت بھی بچائے رکھی ۔اج پھر امریکی معیشت دیوالیہ ہے لیکن اب منظر میں چین سپر پاور کے طور پر موجود ہے ۔
وینزویلا یا ایران پر حملہ اصل میں چینیوں کو سپر پاور کے منظر نامہ سے ہٹانے کیلئے تھا ۔پاکستان پر ابھی حملہ کا آغاز ہے ۔چین مخالف قوتیں بہت جلد اس حملہ کا دائرہ کار بڑھائیں گی ۔بھارتیوں کو پاکستان نے بامعنی مذاکرات میں انگیج نہ کیا جلد ہی وہ بھی اس حملہ میں شامل ہو جائیں گے ۔
بلوچستان میں اس وقت کوئی حقوقِ کی جدوجہد نہیں ہو رہی سیدھی سیدھی امریکہ چین لڑائی ہو رہی ہے ۔بلوچ نوجوانوں کو پراکسیاں بنا کر حملے کروائے جا رہے ہیں۔جدید ترین مواصلاتی نظام،جدید ترین اسلحہ ،رات کو دیکھنے والے سارے آلات امریکہ کے افغانستان میں چھوڑے ہوئے اسلحہ کا حصہ نہیں بلکہ نئی کھیپوں میں سے مل رہے ہیں ۔
یہ جنگ چینی جیت جائیں گے کہ جذباتی نہیں قدرت کے فطری اصولوں کے تحت تجزیہ ہے ۔ایک سپر پاور ختم ہوتی ہے دوسری آجاتی ہے ۔ازل سے ایسا ہوتا آیا ہے ۔ابد تک ایسا ہی ہو گا ۔
ایران یا پاکستان بہانہ ہیں اصل میں چینی نشانہ ہیں ۔امریکی معیشت ڈوب چکی ہے ۔چین کو توانائی کے درکار زخائر سے محروم کر کے امریکی سپر پاور کی حیثیت برقرار نہیں رکھ سکتے ۔چینی ردعمل بہت ساری جگہوں پر آرہا ہے ۔پاکستان اور ایران میں بھی چینی ردعمل دیں گے اسی طرح جس طرح بھارتیوں کے آپریشن سیندور میں دیا تھا ۔بلوچستان میں پاکستان کو تنگ کیا جا سکتا ہے شکست دینا ممکن نہیں ۔
بھارتی حملہ نہ کرتے مشرقی پاکستان آج بھی پاکستان کا حصہ ہوتا ۔اس وقت یعنی 1971 میں دنیا اور تھی ۔اج کی دنیا اور ہے ۔اج پاکستان پر بھارتی حملہ کر بھی دیں پہلے ایسے نتایج ممکن نہیں کہ پاکستان ایٹمی طاقت ہے ۔
بلوچستان میں شورش پر قابو پا لیا جائے گا کہ ریاست سے کوئی نہیں لڑ سکتا ۔تامل ٹائیگر ہار گئے تھے ۔مسلح طالبعلم ہار گئے تھے بلوچ عسکریت پسند کیا بیچتے ہیں ۔
تیسری عالمی جنگ ہونا ہی ہے ۔دوسرا کوئی آپشن موجود نہیں ۔صرف ایک آپشن ہے سوویت یونین کی طرح امریکی دنیا کو تیسری عالمی جنگ سے بچا لیں اور سپر پاور کی حیث چھوڑ کر 52 ریاستوں کو آزاد ہونے کی اجازت دے دیں اور بس ۔
پاکستان بھارت کو بات چیت میں انگیج کر لے ۔پاک بھارت دوستی ہو جائے تیسری عالمی جنگ کی ہولناکیوں سے کم از کم جنوبی ایشیا بچ جائے گا ۔
واپس کریں