اظہر سید
سعودی عرب نے پاکستان کے ساتھ دفاعی معاہدہ کیا ہے لیکن ایرانی حملوں کے جواب میں پاکستان سعودی عرب کا دفاع نہیں کر رہا ۔سعودی عرب نے غصہ کے اظہار کیلئے تین ماہ کیلئے دئے گئے تین ارب ڈالر واپس مانگ لئے ۔پاکستان کو عالمی مارکیٹ میں تین ارب ڈالر کے یورو بانڈز جاری کرنا پڑے اور یہ صرف چار روز پہلے ہوا ہے ۔
مسلہ یہ ہے پاکستان کے ساتھ سعودی عرب کا دفاعی معاہدہ دو ماہ پہلے ہوا ہے ۔ایرانی میزائل حملے چار ماہ سے قطر،اردن،سعودی عرب،بحرین اور یو اے ای پر جاری ہیں ۔سعودی عرب کے پاس جدید ترین امریکی ہتھیار موجود ہیں ۔امریکہ کے ساتھ دفاعی معاہدہ بھی ہے ۔سعودی عرب ہی نہیں قطر،بحرین،اردن اور یو اے ای کے دفاع کیلئے بھی امریکی ہر سال خچرے عربوں سے دو سو ارب ڈالر لیتے ہیں ۔ان سب ملکوں نے کل ملا کر چار ماہ میں ایران پر ایک میزائل بھی نہیں مارا ۔
خود کوئی ملک ایرانی میزائلوں کا جواب نہیں دیتا اور پاکستان کو غصہ دکھاتے ہیں ایران کے خلاف دفاع کیوں نہیں کیا ۔اپنے تین ارب ڈالر واپس مانگ لیتے ہیں ۔
پاکستان نے حوثی باغیوں پر براہ راست حملہ تو نہیں کیا لیکن سعودی عرب نے حوثیوں کے خلاف جو کاروائیاں کی یا کر رہے ہیں سارا بلیو پرنٹ پاکستانی آرکٹیکٹوں کا ہے ۔پاکستانی مفکر اتنے شاندار ہیں ایران یا حوثی باغیوں پر براہ راست حملہ نہیں کرتے ۔ابھرتی ہوئی نئی سپر پاور چین کے خیلج میں کھیلے جانے والے کھیل میں براہ راست شامل تو نہیں لیکن ریفری کا کردار ضرور ادا کر رہے ہیں ۔
چھ ماہ کے دوران ایران پر اسرائیل اور امریکہ کے جنگی طیارے سینکڑوں حملے کر چکے ہیں ۔جواب میں چینی ایرانیوں کی اس طرح مدد کر رہے ہیں بظاہر امریکی طیارہ بردار جہاز جارج واشنگٹن پر جن ایرانی بلاسٹک میزائلوں سے حملہ کیا گیا لیکن اصل میں وہ چینی میزائل ہیں ۔
جس قدر درستگی کے ساتھ قطر،اردن ،بحرین ،کویت اور سعودی عرب میں امریکی اڈوں کو ایرانی میزائلوں نے ایسا نقصان پہنچایا ہے امریکیوں کو تمام اڈوں سے فوجی محفوظ جگہوں پر منتقل کرنے پڑے ہیں ،جس طرح جیرالڈ فورڈ اور ابرہیم لنکن ایسے طیارہ بردار جہاز ایرانی میزائل حملوں کے بعد محفوظ مقامات پر منتقل کرنے پڑے تھے ۔
چینی اگر مصر میں بیٹھ کر خلیج میں نئے سیکورٹی بندوبست کی بات کرتے ہیں اصل میں امریکیوں کو "دفع ہو جاؤ" کا حکم دیتے ہیں ۔
حوثی باغیوں نے سعودی عرب میں جو حالیہ حملے کئے ہیں سارے ہتھیار چینی ہیں ۔
امریکیوں نے پاک سعودی دفاعی معاہدہ اگر کروایا ہے کہ پاکستان حوثی باغیوں اور ایران کے خلاف جنگ میں شامل ہو جائے گا تو پاکستانی ہنر مند قابو آنے والے نہیں ہیں ۔
چینیوں کا قرضہ 28 ارب ڈالر ہے سعودیوں کا قرضہ پانچ ارب ڈالر ہے ۔
چینی سعودیوں کو ناراض نہیں ہونے دیں گے اور پاکستان کو جھکنے نہیں دیں گے ۔
ایران امریکہ جنگ کا کھیل جتنا طویل ہو گا نقصان امریکہ اور اس کے حواریوں کا ہو گا اور بس ۔
واپس کریں