اظہر سید
بھارت میں انقلاب آگیا ہے ۔انتہا پسند ہندوؤں کی برسر اقتدار جماعت بے جے پی نے طالبعلموں کے سامنے گھٹنے ٹیک دئے ہیں ۔وزیر تعلیم نے استعفیٰ دے دیا ہے ۔طلبا کے احتجاج نے بھارتی سیکولرازم کو دوبارہ طاقت بھی فراہم کر دی ہے ۔
لوگ باگ کہتے ہیں پاکستان میں بھی طلبا انقلاب لا سکتے ہیں ۔ہمارے پاس دلائل ہیں پاکستان میں انقلاب ممکن ہی نہیں ۔یہاں خانہ جنگی تو ہو سکتی ہے پر امن احتجاج کے ساتھ تبدیلی طالبعلم لا سکتے ہیں نہ کوئی سیاسی جماعت ۔غربت کی چکی میں پسنے والے غریب لوگ بھی انقلاب لانے کی اہلیت نہیں رکھتے ۔
طلبا اور نوجوانوں کا جوش و جذبہ بہت بڑی طاقت ہے لیکن یہ طاقت جھوٹ ،دھوکہ اور فراڈ کی وجہ سے کوئی تبدیلی نہیں لا سکتی ۔
طلبا یونین پر پابندی نے طالبعلموں سے سیاسی شعور چھین لیا ہے ۔پاکستانی طلبا تعلیمی اداروں میں سیاسی جماعتوں کے ونگ تو بنا سکتے ہیں لیکن جمہوری شعور میں کوئی کردار ادا نہیں کر سکتے ۔
جنرل ضیا اور جنرل مشرف کے بعد سیاسی حکومتیں بنی تو ضرور لیکن کوئی سیاسی حکومت طلبا یونین پر پابندی ختم نہیں کر سکی ۔اس کا دوسرا مطلب یہ ہے جنرل ضیا اور جنرل مشرف کے بعد بھی کبھی عوام کی حقیقی نمایندہ حکومت بنی ہی نہیں ۔
نوجوان نسل اور طالبعلموں کی اکثریت کا لیڈر ایک زناکار مرشد ہے ۔یہ مرشد مالکوں نے عدلیہ،میڈیا اور ففتھ جنریشن وار کے پراپیگنڈہ کے زور پر میثاق جمہوریت کے خلاف میدان میں اتارا تھا ۔مرشد کی تعمیر اور خرابی کے تمام مراحل دیکھ لیں سوشل میڈیا کے جھوٹ پر مبنی ہیں ۔جس مرشد کی بنیاد ہی جھوٹ ،دھوکہ اور فراڈ پر ہو وہاں انقلاب نہیں آتے ۔
نو مئی کے روز جو احتجاج ہوا اس میں حقیقی تبدیلی کے خواہشمند نوجوان موجود تھے لیکن انکی توانائیاں فوج کے خلاف موڑ کر نوجوانوں کے جوش و جذبہ کو برباد کر دیا گیا ۔
ٹائر پنکچر لگانے والا تین سو روپیہ کے پنکچر کیلئے تیس ہزار کے ٹائر میں سوئے سے سوراخ کر دیتا ہے ۔
غریب گوالا جعلی دودھ بناتا ہے ۔
سبزی منڈی کے غریب پھلوں سبزیوں کی پیٹیاں بناتے وقت گلے سڑے پھل اور سبزیاں چپکے سے شامل کر دیتے ہیں ۔
کہیں کوئی غریب جعلی مشروبات بناتا ہے ،کوئی جعلی ادویات ۔ہسپتالوں میں پیسے لے کر جعلی سرٹیفکیٹ بنائے جاتے ہیں ۔نچلا عملہ دوائیاں چوری کرتا ہے اور بیچ دیتا ہے ۔غریب ڈرائیور ڈیزل اور پٹرول چوری کرتا ہے ۔
کسی بھی غریب کو دیکھ لیں اکثریت بے ایمان ہے۔
انقلاب کیلئے سچائی،خلوص اور جذبہ درکار ہے ۔جنکی زندگی جھوٹ ،دھوکہ اور فراڈ سے چل رہی ہو وہاں پر امن انقلاب نہیں آتے ۔
کوئی سیاسی جماعت آزاد اور خودمختار نہیں ۔ساری جماعتوں کو بیساکھیوں کی ضرورت ہے ۔لیڈر بھی اقتدار کیلئے عوام کی طرف نہیں دیکھتا کہ عوام اپنے ووٹ کی طاقت سے اسے اقتدار نہیں دلا سکتے ۔
بلوچ طالبعلم پراکسیاں بن گئے ہیں ۔افغانستان سے آنے والے طالبعلم بھی پراکسیاں ہیں ۔یہ فوج کو طاقتور اور ناگزیر تو بنا سکتے ہیں تبدیلی،جمہوریت یا انقلاب ان سے کوسوں دور ہے ۔
پختون تحفظ موومنٹ کی اٹھان شاندار تھی ۔یہ تنظیم تبدیلی لا سکتی تھی اور سارے پاکستان کی دلوں کی دھڑکن بن سکتی تھی ۔اس تنظیم کو پہلی ضرب محسن ڈاور نے الگ تنظیم بنا کر لگائی اور دوسری مہلک ضرب منظور پشتیں نے افغان بر کے نعرہ سے لگا دی ۔اب خود مالکوں کی صفوں میں اس تنظیم کیلئے جو ہمدردی کی لہر پیدا ہوئی تھی ختم ہو چکی ہے ۔
پاکستان میں اس وقت صرف بے بسی ہے ۔غریب لوگ زندگی گزارنے کیلئے بے ایمانی پر مجبور ہیں ۔امیر لوگ مزید امید ہونے کی لت کا شکار ہیں ۔سیاستدان تبدیلی کی بجائے اقتدار کے اسیر ہیں ۔
حکمران وقت ٹپاؤ کی پالیسی پر چل رہے ہیں ۔ججوں کی تنخواہیں،اراکین پارلیمنٹ کی مراعات،بیوروکریسی کے اختیارات اور طاقت ہر جگہ خود غرضی ہے ۔یہاں انقلاب ممکن نہیں البتہ خانہ جنگی ممکن ہے ۔
واپس کریں