اظہر سید
تامل ناڈو کے ایک سابق وزیراعلی کے جنازہ کو گینز ریکارڈ کے مطابق دنیا کا سب سے بڑا جنازہ کہا جاتا ہے ۔حال ہی میں ایرانی مذہبی پیشوا کے جنازہ کو دوسرا بڑا جنازہ کہا گیا ہے لیکن گینز بک والوں نے اسے تاحال اپنے ریکارڈ میں شامل نہیں کیا ۔
ایک تیسرا جنازہ ہونے جا رہا ہے پوری دنیا کے ماہرین معیشت کا اندازہ ہے یہ انسانی تاریخ کا سب سے بڑا جنازہ ہو گا جس میں دنیا کے چھ ارب نفوس کسی نہ کسی شکل میں شرکت کریں گے ۔یہ جنازہ امریکی معیشت کا ہے جسکی تیاریاں بہت تیزی سے حتمی شکل اختیار کر رہی ہیں ۔
امریکہ کی فیڈرل ٹریژری میں ایک افراتفری کا عالم ہے ۔ہر روز امریکی معیشت کو قرضوں کے سود کی مد میں لگ بھگ چار ارب ڈالر کی ادائیگیاں کرنا ہوتی ہیں ۔ ماہانہ ایک سو 17 ارب ڈالر صرف سود کی مد میں ادا کرنا ہوتے ہیں۔ فیڈرل ٹریژری ادائیگیوں کی سکت کھو چکی ہے ۔ہر سال دس بیس اور تیس سال کے بانڈز جاری کر کے معیشت کا حجم بڑھا کر اور امریکی سینٹ سے اجازت لے کر نادہندگی ٹالی جاتی ہے ۔
اب یہ سکت بھی ختم ہونے جا رہی ہے ۔کایاں چینی صرف تین سال کے دوران اپنے چھ سو ارب ڈالر کے بانڈز بھنا چکے ہیں اور ان سے سونا خرید چکے ہیں ۔اب چینی سرمایہ کاری امریکی بانڈز میں صرف چھ سو ارب ڈالر رہ گئی ہے ۔
فیڈرل ریزرو میں کہرام یہ مچا ہے جاپان ،جرمنی ،برازیل اور دیگر ممالک بھی اپنے بانڈز بیچنے نکل پڑے ہیں ۔
بھارتیوں نے بارہ ارب ڈالر بھنا لئے ہیں برازیل 68 ارب ڈالر چینی ایک سو 27 ارب ڈالر کے بانڈز بیچ چکے ہیں ۔صرف جون کے ایک مہینے میں 65 ارب ڈالر کے بانڈز بیچے جا چکے ہیں ۔
قیامت یہ مچی ہے امریکی بانڈز پہلے کی طرح قابل اعتماد نہیں رہے ۔تیس سالہ بانڈز کیلئے فیڈرل ریزرو کی شرح سود جو دس سال پہلے دو فیصد تھی اب اسکی قیمت ساڑھے پانچ فیصد ہو چکی ہے ۔
دس سال اور بیس سال کے بانڈز بھی جلد ہی چیختے چلاتے نظر آئیں گے "ہمیں کوئی نہیں لیتا"
بچ نکلنے کی کوئی صورت موجود نہیں ۔ابھی تو امریکیوں نے خود اپنے بانڈز خریدنا شروع کئے ہیں لیکن اس سے مقامی قرضہ بھی انڈے بچے دینے لگا ہے ۔
جاپان کی امریکی بانڈز میں سرمایہ کاری اس وقت سب سے زیادہ ہے ایک ٹریلین سے زیادہ ۔جاپانی ین کو بچانے کیلئے جاپانی بھی بھاگنے کے چکر میں ہیں ۔برطانیہ اپنے 950 ارب ڈالر کے بانڈز میں سے پانچ سو ارب ڈالر رواں سال فروخت کرنے کے کا ارادہ ظاہر کر چکا ہے ۔
ڈالر یتیم ہونے جا رہا ہے ۔امریکی معیشت کے تاریخی جنازہ کیلئے دنیا بھر کے معیشت دان سر نہوڑے بیٹھے ہیں ،عالمی معیشت کی وراثت کیسے تقسیم ہو گی ۔وراثتی جھگڑوں میں سر پھٹول کہیں تیسری عالمی جنگ کی صورت اختیار نہ کر لے ۔
واپس کریں