اظہر سید
ریاست اپنی ترجیہات میں کچھ بھی شامل کر لے جب تک ان تین مسائل پر قابو نہیں پایا جاتا معاشرتی ڈھانچہ ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوتا رہے گا ۔ایک دن ایسا آتا ہے لوگ خانہ جنگی کا انتظار کرتے ہیں لوٹ مار کر سکیں ۔
ہر دوسرے روز کسی گھر میں کوئی آئیس کا عادی والدین ،بیوی،بچوں اور بھائیوں کو قتل کرتا ہے ۔خیبر پختونخوا کے حالات خوفناک حد تک خراب ہیں ۔وزیراعلی اپنے صوبے کے نوجوانوں کو نشہ سے نجات دلانے کی بجائے ایک نشئی کی آزادی کیلئے صوبے کے سارے وسائل استعمال کر رہا ہے ۔نشئی بھی وہ ہے جیسے میثاق جمہوریت کے بعد مالکوں نے گملے میں اگایا تھا ۔
پورے ملک کے اعداوشمار جمع کر لیں سب سے زیادہ پختون نوجوان قتل ہو رہے ہیں اور قتل کرنے والے بھی پختون نوجوان ہی ہیں ۔قاتلوں اور مقتولین کی تحقیقات کر لیں کوئی ایک قاتل یا مقتول ستر فیصد کیسز میں آئس کا عادی ہو گا ۔
ہونا تو یہ چاہئے وزیر اعلی ریاستی اداروں کے ساتھ مل کر آئس اور دیگر منشیات بنانے والوں پر ہاتھ ڈالیں ،سپلائی چین تباہ کریں لیکن متعلقہ ادارے صرف کیرئر پر ہاتھ ڈالتے ہیں ۔سپلائی چین اور مرکزی کردار بے خوف نوجوانوں کو اپنا شکار بنا رہے ہیں ۔
پنجاب میں صرف تین روز کے دوران ایک ماں نے غربت سے تنگ آکر اپنے تین بچوں کو قتل کرنے کی کوشش کی ۔
ایک باپ نے غربت کی وجہ سے بیوی کے ناراض ہو کر میکے چلے جانے پر تین بچوں کو نہر میں پھینک کر مار دیا۔
کراچی میں سالے کے گھر چوری کیلئے جانے والے آئس کے عادی بہنوئی نے سالے کی بیوی اور تین بچوں کو قتل کر دیا ۔
یہ واقعات تسلسل سے ہو رہے ہیں ۔ہر دوسرے تیسرے روز کوئی نہ کوئی گھر اس کا نشانہ بن رہا ہے ۔
غربت ہے کہ بے پناہ ہے بڑھتی ہی جا رہی ہے ۔یوں لگتا ہے نوئے فیصد پاکستانی وسائل اور آمدن کیلئے چوری،دھوکہ،فراڈ کے راستے پر چل نکلے ہیں ۔روزگار موجود نہیں ۔سینکڑوں نوجوان ایجنٹوں کو فیس دے کر غیر قانونی طور پر بیرون ملک جانے کی کوشش کرتے ہیں تاریک راہوں میں مارے جاتے ہیں ۔
ہزاروں پاکستانی صرف بھیک مانگنے کیلئے بیرون ملک جاتے ہیں ۔
جو یہ نہیں کر سکتے وہ چوری ،ڈکیتی اور فراڈ کی طرف پڑتے ہیں ۔غریب لوگ بجلی کا بل دینے سے قاصر ہیں ۔پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ نے لوگوں کی قوت خرید ہی نہیں توڑی کاروبار بھی برباد کر دئے ہیں ۔بے شمار تاجر گاہکوں کی کمی کا شکار ہیں ۔
سندھ کی دیہی علاقوں اور پنجاب کی سرائیکی پٹی سے بے شمار نوجوان کراچی اور دیگر بڑے شہروں میں صرف ڈکیتیاں کرنے آنے لگے ہیں ۔
ریاستی اور معاشرتی ڈھانچہ کو ٹوٹنے سے بچانا ہے تو منشیات کی سپلائی چین توڑی جائے ۔عوام کو بجلی اور پٹرول کے عفریت سے بچایا جائے اور ترجیہات کو ازسرنو تعین کیا جائے ۔
آگ لگی تو سب لپیٹ میں آئیں گے ۔
واپس کریں