دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
پہلے پراکسیاں لڑتی ہیں
اظہر سید
اظہر سید
یوکرائن میں یورپ اور امریکہ اکیلے روس کے ساتھ پراکسیوں کے زریعے لڑ رہے ہیں ۔کوئی دن جاتا ہے بے پناہ تزویراتی نقصانات سے عاجز آکر روسی کمانڈ سٹرکچر ٹوٹ جائے ۔روسی صدر پوٹن کو قتل کر دیا جائے ۔ایسا ہوا تو روسی طاقت اور عالمی کردار ختم ہو جائے گا ۔روسی مغرب کی طفیلی ریاست بن جائیں گے ۔بچ نکلنے کی راہیں ختم ہو جائیں تو بڑے بڑے فیصلے ہوتے ہیں ۔بڑے بڑے فیصلے بڑی بڑی جنگوں کا سبب بنتے ہیں ۔
روسی کمانڈ سٹرکچر کے پاس بڑے بڑے فیصلوں کا وقت تیزی کے ساتھ ختم ہو رہا ہے ۔یوکرائن کے ساتھ معاملات اسی طرح چند ماہ اور چلتے رہے مغربی ممالک کی سپلائی لائن روس کے دفاعی انفراسٹرکچر کو کسی عالمی جنگ میں بھر پور حصہ لینے کے قابل نہیں چھوڑے گی ۔
پاکستان کو افغانستان کے زریعے ٹریپ کیا جا رہا ہے ۔بلوچ عسکریت پسندوں اور طالبعلموں کے زریعے مسلسل زچ کیا جا رہا ہے ۔یہ سلسلہ کچھ عرصہ اور چلتا رہا ریاست مخالف پراکسیوں کو جدید ترین ٹیکنالوجی کی سپلائی لائن قائم ہو جائے گی ۔
امریکی اور اس سے پہلے سوویت یونین والے افغانستان پہنچے مخالف قوتوں نے ایک مسلسل سپلائی لائین قائم کر دی ۔پراکیسوں کے ذریعے سوویت یونین اور امریکہ کو مسلسل زخم لگا کر اتنا نڈھال کر دیا دونوں اپنی معیشت برباد کروا کر بوریا بستر لپیٹ کر نیویں نیویں ہو کر چپکے سے نکل لئے ۔
سارے منتظر ہیں امریکی ایران میں فوج اتار دیں ۔پہلے سے نادہندہ امریکی معیشت کو پراکسیوں کے زریعے اتنے زخم لگائے جائیں ہاتھی نڈھال ہو کر گر پڑے ۔
دنیا اپنے منطقی انجام کی طرف سرپٹ دوڑ رہی ہے ۔کسی کے ہاتھ میں لگام نہیں پاؤں میں رکاب نہیں ۔شائد موجود نوجوان نسل یا شائد اس سے اگلی نسل اگلے چند سالوں میں ،دو تین دہائیوں میں ایسی دنیا میں پہنچ جائے جہاں لوگوں کے گرو بچ رہنے والے وسائل کے حصول کیلئے پتھروں سے لڑائیاں لڑیں ۔
جو کچھ دنیا میں چل رہا ہے اس کے نتایج آنے ہیں ۔سب نے بھگتنے ہیں ۔ڈالر بیس عالمی معیشت کی تباہی بہت تیزی سے قریب آرہی ہے ۔چینی مستقبل کے خطرات سے بچنے کیلئے دھڑا دھڑ سونے کے ذخائر جمع کرتے ہی جا رہے ہیں ۔متبادل کرنسی کے نظام خود بھی اپنا رہے ہیں دیگر ممالک کو بھی برکس کے چھتری فراہم کر کے تباہی سے بچانے کی جدوجہد میں مصروف ہیں ۔
شائد دنیا کے موجودہ نظام کا وقت پورا ہو چکا ہے ۔اب انتظار کرنا ہے پہلے روس یوکرائن کو چھوٹے ایٹمی ہتھیاروں سے نشانہ بناتا ہے یا امریکہ ایران کو ۔جس دن اس کام کی ابتدا ہو گی وہی دن موجودہ دنیا کا انجام بھی طے کرے گا
واپس کریں