اظہر سید
یہ دنیا ماضی سے مکمل مختلف ہے ۔ہر شخص کی دنیا اس کے ہاتھوں میں موبائل فون کی صورت موجود ہے ۔ریاستوں کے مالک اسی فون کے زریعے ریاستوں کے فیصلے کر رہے ہیں ۔ہاتھوں میں موجود فون پر ریاست کی دسترس ختم ہوئی عوام خود اپنی تقدیر کے مالک بن جائیں گے ۔
امریکی صدر ٹرمپ کی الیکشن میں کامیابی امریکی اسٹیبلشمنٹ نے سوشل میڈیا کے زریعے ممکن بنائی ۔بھارتی بی جے پی کی انتخابات میں مسلسل تیسری کامیابی سوشل میڈیا کے موثر استعمال اور بھارتی فوجی جنتا نے ممکن بنائی۔
پاکستانی اسٹیبلشمنٹ نے بھی ففتھ جنریشن وار کے پراپیگنڈہ سے اپنا مرشد مسلط کیا لیکن پاکستان کے غریب مالکان سے عالمی اسٹیبلشمنٹ کے امیر مالکان نے اس مرشد پر قابو پا لیا ۔افراتفری میں اس سے جان چھڑانا پڑی ۔
آزاد کشمیر میں جو کچھ ہو رہا ہے اس کا نقد فائدہ سوشل میڈیا کے زریعے پھیلائی جانے والی وہ نفرت ہے جو کشمیری نوجوانوں میں پاکستان کے خلاف پیدا کی جا رہی ہے ۔
پاکستان نے چالیس سال طالبعلموں کی مدد کی ۔بھارتیوں نے ہمیشہ سوویت یونین کے دور میں سوویت یونین کے مسلط افغان حکمرانوں اور امریکی تسلط کے دوران امریکی مسلط افغان حکمرانوں کی مدد کی ۔میلہ بھارتیوں نے لوٹ لیا اور افغان طالبعلموں کو قابو کر لیا ۔پاکستان اب ان بھارتی پراکسیوں کا سامنا کر رہا ہے جو کبھی پاکستان کی پراکسیاں تھے ۔
آزاد کشمیر اور مقبوضہ کشمیر میں پاکستان کو ہمیشہ کشمیریوں کی حمایت حاصل رہی لیکن یہ میلہ بھی بھارتی لوٹ لئے گئے ہیں ۔بھارتی چینلز پر پرائم ٹائم سارے پروگرام چار روز پہلے تک جنتر منتر پر بھارتی طالبعلم تھے ۔گزشتہ چار روز سے سارے پروگرام آزاد کشمیر میں پاکستانی مظالم پر ہیں ۔
ماضی قریب میں سری لنکا،نیپال اور بنگلادیش میں حکومتیں بظاہر عوامی احتجاج نے تبدیل کیں، لیکن اس تبدیلی کے پیچھے عوام نہیں ان ملکوں کی اسٹیبلشمنٹ تھی جنہوں نے چینی معاونت سے عوام کو استعمال کر کے حکومتیں تبدیل کرائیں ۔پاکستان میں اسٹیبلشمنٹ نے عوامی احتجاج کے بغیر اپنے مرشد سے جان چھڑائی لیکن اس کے پیچھے بھی چینی تھے ۔
لاکھوں جعلی سوشل میڈیا اکاؤنٹس سے رائے عامہ ہموار کی جا سکتی ہے اور ایسا امریکہ،بھارت،نیپال اور سری لنکا میں ہو چکا ہے ۔
پاکستان بھی اسکا نشانہ ہے ۔ایٹمی صلاحیت کی حامل طاقتور فوج کو مرشد کے بعد سے بلوچستان،خیبرپختونخوا اور اب ازاد کشمیر میں ہدف بنایا جا رہا ہے ۔مرشد کے حمایتی سوشل میڈیا اکاؤنٹس سے جو کام شروع ہوا اس کے نتایج سامنے آرہے ہیں ۔صرف پنجابی بچے ہیں باقی سوشل میڈیا کے بلوچ،پختون اور کشمیری اکاؤنٹس سے فوج کو نفرت انگیز مہم کا نشانہ بنایا جا رہا ہے ۔
بھارت میں طلبا کی جنتر منتر کی تحریک اس لئے کامیاب ہوئی بھارت کا ریاستی ڈھانچہ جمہوری ہے ۔پیچھے کوئی سیاسی جماعت یا بھارتی اسٹیبلشمنٹ نہیں تھی ۔سوشل میڈیا نے طلبا کو بے پناہ حمایت دلا دی ۔اس تحریک کا انجام بھی ایک یونین منسٹر کا استعفیٰ تھا حکومت تبدیلی نہیں ۔
دنیا تبدیلیوں سے گزر رہی ہے ۔پاکستان کے عام عوام ایک دوسرے سے نفرت نہیں کرتے ۔سوشل میڈیا نے نفرت،لسانیت اور قوم پرستی کے زریعے پھیلائی ہے ۔پروفیسر اسماعیل ایسے باشعور پختون بھی بڑے آرام سے سارے الزامات ،"پنجابیت" پر دھر دیتے ہیں ۔سوشل میڈیا کی نفرت نے گویا پاکستانیت قتل کر دی ہے ۔نقار خانہ میں طوطی کی آواز کوئی نہیں سنتا لیکن فوج درمیان سے ہٹ گئی نفرت اتنی پھیلا دی گئی ہے سب گلی محلوں میں ایک دوسرے کو پنجابی،پختون،بلوچ اور کشمیری بن کر قتل کریں گے ۔پنجابیت جاگ جائے گی اور نقصان دوسروں کو ہو گا جن کے اربوں روپیہ کے کاروبار اور جائیدادیں پنجاب میں ہیں ۔
باشعور طبقہ نفرت کی آگ پھیلانے کی بجائے اسے بجھانے کا کام کرے گا تو بات بنے گی ورنہ خانہ جنگی ہی فیصلہ کرے گی کس نے نفع اٹھایا اور کس نے نقصان ۔
واپس کریں