اظہر سید
مغربی ممالک میں رہنے والے "امریکہ سپر پاور ہے" کی ڈفلی بجاتے رہیں ہالینڈ اور فرانس نے امریکی ٹریژری کو غیر محفوظ سمجھتے ہوئے اپنا سونا نکالنا شروع کر دیا ہے ۔صرف تین ماہ میں 78 ٹن سونا نیویارک سے نکال لیا ہے ۔فرانس نے بھی امریکی بینکوں کو غیر محفوظ سمجھ کر صرف تشویش ظاہر نہیں کی بلکہ عملی قدم اٹھاتے ہوئے 129 ٹن سونا مختلف مغربی ممالک منتقل کر دیا ہے ۔
جرمنی اسپین اور اٹلی نے اپنے سونے کے ذخائر امریکی ٹریژری سے نکالنے کیلئے اقدامات شروع کر دئے ہیں ۔
جرمنی اپنے 1236 ٹن سونے کے ذخائر چین منتقل کرنے کیلئے بات چیت کر رہا ہے ۔جرمن وزارت خزانہ کا ایک وفد اس وقت بیجنگ میں موجود ہے ۔
اٹلی 800 ٹن سونے کے ذخائر برطانیہ منتقل کرنے کیلئے بات چیت کر رہا ہے جبکہ ہالینڈ پہلے ہی 86 ٹن سونے کے ذخائر نیویارک سے لندن منتقل کر چکا ہے ۔
ایک طرف امریکی بانڈز دھرا دھر بھنوائے جا رہے ہیں دوسری طرف سونے کے محفوظ زخائر امریکہ سے نکالے جا رہے ہیں ۔
سعودی عرب کی تیل کی آمدن امریکہ سے معاہدہ کے تحت ڈالر میں امریکی بینکوں میں رکھی جاتی تھی لیکن ایران جنگ اور آبنائے ہرمز کی بندش سے سعودی ڈالر امریکی بینکوں میں جانے کا عمل ختم ہو رہا ہے ۔
اچانک کسی دن ڈالر کی موت کا اعلان ہونا ہے اور اس اعلان سے قبل سارے ملک اپنے دانے امریکہ سے نکال کر محفوظ ٹھکانوں پر منتقل کر رہے ہیں ۔
ڈالر کی مستقبل قریب میں تباہی دیوار پر لکھی ہے ۔عالمی معیشت دان متبادل کرنسی اور برکس کے تحت متبادل نظام معیشت تیار کر چکے ہیں ۔
امریکہ اور یورپی ممالک میں مقیم پاکستانی شتر مرغ کی طرح ریت میں سر چھپائے بیٹھے ہیں ۔کوئی انہیں بتائے طاقتور مغربی ملکوں کی طرح وہ بھی اپنا مستقبل محفوظ کریں اور اپنے اثاثے اپنے آبائی ملک منتقل کرنے کا کام فوری طور پر شروع کر دیں یہ نہ ہوا قیامت اجائے ۔
واپس کریں