دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
اثاثہ کی تباہی ۔ اظہر سید
اظہر سید
اظہر سید
خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی کا نفاذ گملے میں اگائے بوٹے کو جڑ سمیت نکالنے کا فیصلہ ہے ۔جب پہلی مرتبہ مرشد کو خیبرپختونخوا کی صوبائی حکومت دی گئی پالنے میں بچے کے پاؤں نظر آ گئے تھے لیڈر ہے نہ اصلاح کار محض فراڈ ہے ۔
ن لیگ اور پیپلز پارٹی کے درمیان میثاق جمہوریت کا خوف اسقدر توانا تھا اس فراڈ پر داؤ لگا دیا ۔ففتھ جنریشن وار کے نام پر اربوں روپیہ قومی خزانہ سے خرچ کر دئے ۔ایسی سیاسی انجینئرنگ کی دونوں بڑی جماعتوں کے تگڑے الیکٹیبل نکیل ڈال کر اسکی جھولی میں ڈال دئے ۔
پالتو ججوں اور ریاستی اداروں کی اسقدر معاونت دی ایجنسیوں کے سابق فخر نواز شریف کو بھی نہیں ملی ۔بدلے میں کیا ملا ؟
جس قدر بدنام ففتھ جنریشن وار پلاٹون کے بھگوڑوں نے کیا بھارتی اربوں ڈالر کا بجٹ خرچ کر کے بھی نہ کر پاتے ۔جنہوں نے خیبرپختونخوا کی پہلی حکومت کا حال دیکھتے ہوئے بھی اس پر داؤ لگایا ڈفر تھے بہت اعلی نسل کے ڈفر ۔نو مئی کے باوجود اسے داماد بنا کر رکھا ۔
خیبرپختونخوا کی حکومت بھی دے دی ۔سارے ملک میں جس فارم سنتالیس سے مرشد کا ووٹ بینک غائب کیا اسی فارم سنتالیس سے خیبرپختونخوا میں مولانا،عوامی نیشنل پارٹی ،ن لیگ اور پیپلز پارٹی کا ووٹ غائب کر کے اسے اہم ترین صوبے میں کامیاب کروا دیا ۔
اعلی نسل کا احمق پہلی صوبائی حکومت میں ثابت ہو گیا تھا بعد میں بھی اپنی حماقت کی توثیق کرتا رہا ۔
چوہدری پرویز الٰہی سمجھاتا رہا ،وزیر اعلی خیبرپختونخوا مںت کرتا رہا صوبائی حکومتیں مت توڑو احمق تھا ہوا کے گھوڑے سے اترا ہی نہیں ۔پالتو جج اور جنرل فیض کے ہمنوا الیکشن بنا کر دیں گے اور پھر جیت جاؤں گا ۔ اسمبلیاں توڑ دیں ۔ اپنے ہاتھ پاؤں خود ہی توڑ لئے ۔الیکشن ملے نہ جیت ۔
جنرل فیض بھی کڑکی لگ گیا ۔پالتو جج بھی پیا دیس پدھارے۔
سیاستدان ہوتا ،معافی مانگ لیتا ۔جنہوں نے احسان کیا تھا انہیں دشمن نہ بناتا ۔وہ کبھی اس اثاثہ کو ضائع نہ کرتے ۔ن لیگ اور پیپلز پارٹی کے سامنے یہ محنت سے بنایا گیا اثاثہ تھا ۔
اب کہانی ختم ہو گئی ہے ۔پیپلز پارٹی ایسی اینٹی اسٹیبلشمنٹ جماعت اس ملک میں آئی نہ کبھی اسکے گی ۔یہ جماعت بھی ایمرجنسی کی حمایت کر کے عوام کی سیاست چھوڑ گئی ہے ۔
پی ٹی آئی تو جھوٹ ،دھوکہ اور فراڈ پر قائم عمارت تھی ۔لیکن اس کے پاس نوجوان نسل پر مشتمل بہت بڑا ووٹ بینک تھا ۔یہ ووٹ بینک بہت بڑی طاقت تھا ۔اس ووٹ بینک کے زریعے پیپلز پارٹی اور مولانا سے جھپیاں ڈالی جا سکتی تھیں ۔یہ ووٹ بینک اسے بچا سکتا تھا ۔تحفظ دے سکتا تھا ۔مستقبل میں وزارت عظمیٰ بھی دلا سکتا تھا ۔
مالکوں سے سینگ لڑانے تھے تو ن لیگ اور پیپلز پارٹی کے ساتھ مل جاتا ۔
کوئی نیا میثاق جمہوریت کر لیتا ۔کوئی نئی آئینی ترامیم کر لیتا ۔ ریاست کی خارجہ اور داخلہ پالیسیوں کی ملکیت جمہوریت کو مل جاتی ۔
لڑ کر دیکھ لیا ۔ اب چھٹی ۔پی ٹی آئی اب مستقبل کی ایم کیو ایم ہے ۔پنجاب کی پیپلز پارٹی ہے ۔خیبر پختونخوا کی اے این پی ہے ۔موجودہ دور کی جماعت اسلامی ہے اور بس ۔
مرشد گیا تو پارٹی بھی گئی کہ اس جماعت کی کوئی نظریاتی اساس نہیں ۔یہ مالکوں نے بنائی تھی اور مالکوں نے ہی ختم کر دی ہے ۔
واپس کریں