دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
پی ٹی آئی الوادع ۔ اظہر سید
اظہر سید
اظہر سید
جو فارم سنتالیس سے تبدیلی لا سکتے ہیں ۔جو پالتو ججوں کو آزاد پروازی سے روکنے کیلئے بال و پر کاٹ سکتے ہیں ۔ وہ خیبرپختونخوا میں ن لیگ یا مولانا کی سربراہی میں صوبائی حکومت بھی بنا سکتے تھے ۔انہوں نے ایسا نہیں کیا ۔میثاق جمہوریت والوں پر تلوار لٹکائے رکھنا ضروری سمجھا ۔پی ٹی آئی والے شکر گزار ہوتے ۔کوئی راستہ نکل ہی آتا ۔
گورنر راج پورا لگ گیا تو پی ٹی آئی کی کہانی بھی ختم شد ۔بھٹو کو پھانسی دے دی ۔محترمہ بینظیر بھٹو کو سڑک پر مار دیا ۔جاگ پنجابی جاگ کا نعرہ لگا کر پیپلز پارٹی سے پنجاب چھین لیا ۔
دو تہائی اکثریت والی نواز شریف حکومت کو غلیظ پالتو ججوں کی مدد سے فارغ کر دیا ۔
پلے بوائے کو پراپیگنڈہ کے زور پر لیڈر بنا دیا ۔ججوں انتظامیہ اور ریاستی اداروں کی مدد سے وزارت عظمیٰ پر بٹھا دیا ۔پلے بوائے کو نکال کر بھی اسے سیاسی طور پر زندہ رکھا اور وہ صوبائی حکومت دے دی جو ابتدائی مورچہ تھا ۔
خیبرپختونخوا میں کوئی سیاسی چہرہ ہوتا شائد مرشد کو لٹکتی تلوار بنائے رکھتے لیکن اب شائد کہانی ختم کرنے لگے ہیں ۔
خیبر پختونخوا آخری مورچہ تھا یہاں بیٹھ کر سیاسی اثاثے بچائے جا سکتے تھے ۔کسی نہ کسی وقت بات چیت ممکن تھی ۔کوئی راستہ نکل سکتا تھا ۔اکبر بگٹی ،محترمہ بینظیر بھٹو اور ذوالفقار علی بھٹو کو اللہ میاں اٹھا سکتا ہے تو مرشد تو ویسے ہی گملے میں اگایا ہائی برڈ بوٹا تھا ۔اسے بھی کاٹ کو پھینکا جا سکتا تھا ۔ ایسا کچھ نہ کیا گیا ۔جیل میں فائیو سٹار ہوٹل ایسی سہولتیں دی گئیں اور صوبائی حکومت بھی نہیں چھینی گئی۔یہ محبتیں نو مئی کے باوجود کی گئیں ۔
گورنر راج جزوی لگا تو شائد ہوش کے ناخن لیں ۔شائد مستقبل میں کبھی واپسی ہو جائے کہ نواز شریف اور زرداری موقع ملتے ہی جمہوریت جمہوریت کھیلنے لگیں گے اور اس کھیل سے سخت چڑ ہے جو مرشد کیلئے خیبرپختونخوا میں فارم سنتالیس کا بندوبست نہیں کرتے ۔ضد کی ۔اڑی کی ۔سر تسلیم خم نہ کیا تو مکمل گورنر راج اور ہمیشہ کیلئے چھٹی ۔
واپس کریں