اظہر سید
حکومتی اندازوں کے مطابق سولر سے بجلی کی پیداوار 36 ہزار میگاواٹ تک پہنچ چکی ہے جبکہ حقیقی پیداوار 51 ہزار میگاواٹ ہے ۔بہت بڑا نجی شعبہ صنعت ،تجارت اور کاروبار ایسا ہے جو حکومتی اعداوشمار میں شامل نہیں لیکن بحرحال سولر پلیٹیں لگا کر بجلی پیدا کر رہا ہے ۔
سولر سے صرف کم قیمت بجلی پیدا نہیں ہوتی ڈیزل،فرنس آئل اور ایل این جی سے بجلی بنانے کی بھی بچت ہوتی ہے اور قیمتی زرمبادلہ بچتا ہے ۔
ایک اندازہ کے مطابق سولر سے بجلی بنانے میں حکومت کو سالانہ پانچ ارب ڈالر کے زرمبادلہ کی بچت ہو رہی ہے جس میں حکومتی سرمایہ کاری صفر ہے ۔ساری بجلی نجی شعبہ اپنی سرمایہ کاری سے بنا رہا ہے ۔
پاکستان دنیا کا واحد ملک ہے جس نے گزشتہ چار سال کے دوران پوری دنیا میں سب سے زیادہ سولر سے اوسط بجلی بنائی ۔
ایران اور خلیج میں تیل کی عالمی گذرگاہوں کی بندش کا سب سے کم اثر جن ملکوں پر ہوا ہے ان میں پاکستان سر فہرست ہے ۔جنوبی ایشیا کے تمام ممالک خاص طور پر بھارت،سری لنکا اور بنگلادیش میں نجی شعبہ کی طرف سے سولر سے بجلی بنانے کی شرح پاکستان سے بہت کم ہے ۔ایل این جی کی درآمد بند ہونے کے باوجود پاکستان میں بجلی کی پیداوار سے عام شہری بہت کم متاثر ہوئے ہیں کہ بہت بڑا حصہ سولر سے بجلی بنا رہا ہے ۔
موسم سرما کے آغاز سے بجلی کی طلب میں مزید کمی ہو گی اور پاکستان پر عالمی بحران کے اثرات مزید کم ہو جائیں گے ۔
پاکستان کا واحد مسلہ فوسل فیول سے ٹرانسپورٹ چلانا ہے اور اس مسلہ کا بہترین حل حکومت نے ڈیزل اور پٹرول کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ کر کے نکالا ہے ۔اس حل سے حکومت کو مزید مالی فوائد بھی حاصل ہو رہے ہیں اور سارا بوجھ حکومت کی بجائے عوام پر منتقل ہو گیا ہے ۔سرکاری ٹرانسپورٹ پر جو فیول خرچ ہوتا ہے وہ فرق بھی عوام سے وصول ہو جاتا ہے ۔
واپس کریں