اظہر سید
اسٹیبلشمنٹ تمام تر طاقت کے باوجود صدر زرداری اور ن لیگ کے سربراہ میاں نواز شریف کو رام نہیں کر پائی، ناکام ہو گئی ہے ۔
مالکان کا سب سے بڑا مسلہ اٹھارویں آئینی ترامیم میں وفاقی محاصل میں صوبوں کا حصہ ہے ۔مالکان کے دلوں میں وطن سے بے پناہ پیار ، محبت کی وجہ سے اتفاق رائے ہے صوبوں کو ملنے والے اضافی وسائل سے سیاستدانوں کو قومی خزانہ پر غیر ضروری دسترس حاصل ہو چکی ہے ۔فنڈز کا بڑا حصہ ملکی معیشت کی ترقی کی بجائے غیر ضروری منصوبوں پر خرچ ہو جاتا ہے ۔
مالکان نے وفاقی محاصل میں وفاق کے حصہ میں اضافہ کیلئے آئینی ترامیم کیلئے مسلسل کوشش کی لیکن پیپلز پارٹی اور ن لیگ کے دونوں قائدین نے پکڑائی نہیں دیا ۔وقتی بندوبست کے زریعے صوبوں نے اپنے حصہ میں سے وفاق کو کچھ حصہ بطور قرض تو فراہم کر دیا لیکن اٹھارویں آئینی ترامیم اپنی جگہ موجود ہیں ۔
دوسری کوشش نئے صوبوں کی تجویز کے زریعے کی گئی ۔بنیادی مقصد وہی تھا نئے صوبوں کے قیام سے اٹھارویں آئینی ترامیم کے تحت وفاق اور صوبوں کے درمیان جو نیا سوشل کنٹریکٹ ہوا تھا غیر موثر ہو جائے اور وفاقی محاصل میں وفاق کا حصہ بڑھ جائے ۔
صدر زرداری اور میاں نواز شریف اس تجویز پر صاد کرنے کی بجائے نیویں نیویں ہو کر لندن جا پہنچے ۔پیچھے پیچھے چاچو بھی لندن چلے گئے ۔
مالکان ان ہنر مند میسنوں کی چالاکی کے سامنے دل ہی دل میں سوائے گندی گندی باتیں سوچنے کے کچھ نہیں کر پائے ۔ بے بسی کے ساتھ "واپس آجاؤ" کہنے پر چاچو اور صدر دونوں واپس آکر پوری محنت سے ملکی معیشت کے استحکام کیلئے پہلے کی طرح دن رات محنت کرنے لگے ۔
کہنہ زرداری اور نواز شریف اتنے عقلمند ہو چکے ہیں جان گئے ہیں مرشد واپس نہیں آئے گا اور مالکوں کو انہیں ہی برداشت کرنا ہو گا ۔
مالکان اگر سابق چیف مالک راحیل شریف کی تجویز پر مرشد کو ریلیف دیتے ہیں نو مئی ایک سوالیہ نشان بن جائے گا ۔طاقتور فوج کی طاقت کی علامتوں پر حملہ کرو اور پھر معافی تلافی کے زریعے دوبارہ اقتدارِ سنبھال لو ۔
یہ ہو گا نہیں اور یہ بات کہنہ نواز شریف پلس زرداری جان چکے ہیں ۔یہی وہ صورتحال ہے جس میں محاصل میں وفاق کا حصہ نہیں بڑھا اور نئے صوبوں کی تجویز ریڈ ٹیپ کا شکار ہو گئی ۔
واپس کریں