ناصر بٹ
اسلام آباد ہائی کورٹ نے حکم دیا تھا کہ لانگ مارچ کے لیے کسی قسم کے سرکاری وسائل استعمال نہ کیے جائیں اور پی ٹی آئی نے اسکی تحریری یقین دہانی بھی کروائی تھی جس کا احترام یہ کیا گیا ہے کہ آج لانگ مارچ کے آغاز کے لیے وزیراعلیٰ کےپی کے سرکاری ہیلی کاپٹر پر پورے پروٹوکول کے ساتھ لکی مروت پہنچے اور سرکاری گاڑیوں پر لانگ مارچ کا آغاز کیا ہے۔
ہمارے دوست طاہر سواتی نے سوال کیا ہے کہ کیا اقامے پر وزیراعظم کو نااھل کرنے والی عدالتیں اس توہین عدالت کا نوٹس لیں گی؟
طاہر کا مزید لکھنا ہے کہ
"احتجاجی ریلی میں مسلح افراد موجود ہیں، جن کے ہاتھوں میں کلاشنکوف دیکھی جا سکتی ہیں۔ مبینہ طور پر ٹی ٹی پی اور افگانڈو لفنڈے بھی اس میں شامل ہیں۔ دوسری جانب پی ٹی آئی انصاف یوتھ ونگ پشاور کے جنرل سیکرٹری آصف بنگش نے پنجاب پولیس اور اسلام آباد پولیس کی وردیاں تیار کروائی ہیں،
یعنی ایک اور ایک اور ۹ مئی کی تیاری مکمل ہے، تاکہ ہر جگہ آگ لگانے اور حملے کرنے کا الزام پولیس پر لگایا جا سکے۔جھوٹے پروپیگنڈے میں غفور نیٹ ورک مکمل ایکٹیو ہے۔
سوال یہ ہے کہ آخر اتنے واضح ریاست مخالف اقدامات کے باوجود پی ٹی آئی کو بچا کون رہا ہے؟
اگر ریاستی وسائل ہی ریاست کے خلاف استعمال ہو رہے ہوں، تو پہلا سوال یہی بنتا ہے کہ کیا کسی بھی اگلے اقدام سے پہلے ان وسائل کی سپلائی لائن کاٹنا ریاست کی بنیادی ذمہ داری نہیں؟ تو پھر کس چیز کا انتظار ہے؟"
میرا اس پر تبصرہ یہ ہے کہ پی ٹی آئی اب سرکاری وسائل کے بغیر کوئی احتجاج کرنے کے قابل ہی نہیں ورنہ کے پی کے کے علاؤہ بھی کسی صوبے میں کسی قسم کی ہلچل تو نظر آتی۔
میرا یہ بھی ماننا ہے کہ اس دفعہ واقعی میں انکا مکو ٹھپ دیا جائیگا اور ایسا سبق سکھایا جائیگا کہ یہ کسی بھی قسم کا لونگ مارچ بھول جائیں گے صرف گوہرزمان کی اس سے بچنے کی بھاگ دوڑ ہے جو آڑے آ سکتی ہے ورنہ انکا مکو ٹھپنا طے ہے۔
واپس کریں