ناصر بٹ
پاکستان کے ٹیکس چور مافیاز نے ایک اور واردات یہ کر رکھی ہے کہ جب بھی انکی ٹیکس چوریوں پر بات کی جائے وہ حکمرانوں کے اللے تللے،عیاشیوں،پروٹوکول کی کہانی چھیڑ کر کے بات خود سے ہٹا دیتے ہیں اور سیاست زدہ قوم کا رخ اس طرف موڑ دیتے ہیں۔
آئیے ذرا اسکا بھی پوسٹ مارٹم کرتے ہیں پہلے یہ بات ذھن نشین کر لیں کہ میں حکمرانوں اور بیوروکریسی کے حد سے زیادہ اخراجات کے بالکل حق میں نہیں ہوں میں صرف پاکستان میں موجودہ خراب معاشی حالت کی درست وجوہات جاننے کے متعلق بات کر رہا ہوں۔
پاکستان کا 2025/26 کا بجٹ 17570 ارب روپے تھا جس میں سود کی ادائیگی پر 8200 روپے خرچ ہونا ہیں
دفاع پر 2250 ارب کا خرچ ہے
پینشن پر 1050 ارب اخراجات ہیں
اور سبسڈیز پر 1180 ارب روپے خرچ ہونا ہیں
اور پاکستان کی سول حکومت کے اخراجات کل 917 ارب روپے ہیں جس میں وفاقی وزارتیں، بیوروکریسی، وزیراعظم آفس، کابینہ ڈویژن، سرکاری افسران کی تنخواہیں، دفاتر، گاڑیاں، سیکریٹریٹ، سفارت خانے وغیرہ شامل ہوتے ہیں۔
اب پہلے تو یہ دیکھ لیں کہ سول حکومت کے اخراجات وفاقی بجٹ کا اٹھارہواں حصہ ہیں اور اگر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ یہ اٹھارویں حصہ ہی پاکستان کے تمام مسائل کی وجہ ہے تو چلیں یہ بھی مان لیتے ہیں اور دیکھتے ہیں کہ آپ اس حصے میں سے کیا کیا چیز ختم کر سکتے ہیں۔
بیوروکریسی کو مکمل طور پر ختم کیا جا سکتا ہے؟
تمام سرکاری ملازمین کو گھر بھیجا جا سکتا ہے تاکہ اخراجات کم کر لیے جائیں؟
کیا تمام ملکوں میں سفارت خانے بند کیے جا سکتے ہیں تاکہ ان پر اٹھنے والے خرچے بند ہو جائیں؟
اگر نہیں تو زیادہ سے زیادہ کیا کیا جا سکتا ہے؟
یہ کیا جا سکتا ہے کہ بقول عوام انکے اللے تللے ،عیاشیاں، اور بھاری پروٹوکول بند کر دیے جائیں جن سے انکے حقیقی اخراجات میں شاید 100 ارب کا فرق آ جاتا ہے۔
تو جناب یہ ہیں اللوں تللوں،عیاشیوں اور پروٹوکولز کے وہ کل اخراجات جو پاکستان میں غربت،قرضوں اور مہنگائی کی وجہ قرار دیے جاتے ہیں یعنی 17570 ارب میں سے ایک سو ارب روپیہ۔
میں ایک دفعہ پھر یہ کہنا چاہتا ہوں کہ میں اس ایک سو ارب کے خرچے کے بالکل حق میں نہیں اور اسے فی الفور بند کرنا چاہیے مگر کہنے کا مقصد یہ ہے کہ یہ ایک سو ارب کا بند کرنا ایک مثال بنانے کے لیے تو درست ہو گا یہ پاکستان کے مسائل کا حل ہر گز ہر گز نہیں ہے اور جسے پاکستان کے تمام ٹیکس چور اصل تے وڈا مسلہ بنا کے عوام کی پوری توجہ ہمیشہ اس پر مرکوز کروائے رکھتے ہیں اور عوام یہ منجن بڑے شوق سے بیچتے رہتے ہیں۔
واپس کریں