یہاں پر کوئی فٹبال کا سب سے بڑا تجزیہ نگار بن چکا ہے
ناصر بٹ
فضولیات پر تبصرے کی ضرورت تو نہیں ہوتی مگر اب یہ بک بک اتنی زیادہ ہو گئی ہے کہ مجھے مجبوراً یہ لکھنا پڑ رہا ہے۔
معاملہ ہے مصر اور ارجنٹائن کے میچ کا جس پر پاکستانیوں کو کسی صورت چین نہیں پڑ رہا تو اب میں اس میچ بارے بی کچھ بول ہی دوں کہ میں اسے کیا سمجھتا ہوں۔
پہلی بات تو یہ کہ مصر اور ارجنٹائن کی ان ٹیموں کے دس میچ کروائیں تو مصر شاید ہی کوئی میچ جیت سکے دونوں ٹیموں کی کلاس میں اتنا فرق ہے۔
دوسری بات یہ کہ مصر اور ارجنٹائن کے میچ میں ریفری کی کچھ غلطیاں موجود تھیں جو کہ کوئی عجوبے والی بات نہیں مگر ان پر بھی تنازعہ ہے کچھ کے نزدیک وہ غلط فیصلے تھے اور کچھ کے نزدیک درست۔
پاکستانیوں کا مگر ان فیصلوں کی ٹیکنیکل بنیادوں سے کچھ لینا دینا ہی نہیں اور اکثریت کو فٹ بال رولز کا بھی علم نہیں یہاں سارا مسلہ برادر اسلامی ملک کے ساتھ زیادتی کا بنا ہوا ہے اور پاکستانیوں کا جوشِ ایمانی انہیں کہیں چین سے بیٹھنے نہیں دے رہا کیونکہ بہرحال امت مسلمہ کی ذمہ داری تو ہمیں نے اٹھا رکھی ہے۔
اس ورلڈ کپ میں ارجنٹائن اور مصر کے میچ سے پہلے بھی کئی ملکوں کے خلاف ریفری کے متنازعہ فیصلے سامنے آئے جن پر بہت اعتراضات بھی ہوئے مگر اس پر کسی پاکستانی نے غور کرنا بھی مناسب نہیں سمجھا مگر صاحب مصر تو پھر مصر ہے ناں۔
میں فیصلوں کی باریک بینی میں نہیں جاتا میں سیدھا آتا ہوں 78 ویں منٹ پر جب مصر دو گول سے جیت رہا تھا اور دو گول کی لیڈ بھی ایسے وقت کم نہیں ہوتی جب کھیل ختم ہونے میں بارہ منٹ باقی ہوں۔
اب پیچھے کیا ہوا اسکو ایک طرف رکھیں مصر اتنی ہی کمال ٹیم تھی تو انہوں نے دو گول ڈیفنڈ کیوں نہیں کر لیے؟
پھر آپ مصری ٹیم کی اس ورلڈ کپ میں پرفارمنس پر غور کریں۔
وہ راؤنڈ آف 16 میں کیسے پہنچے
بلجیئم سے ڈرا کھیلا
ایران سے ڈرا کھیلا
اور نیوزی لینڈ کی ایک کمزور ترین ٹیم کے خلاف جیت حاصل کر پائے۔
مصر گروپ آف 32 میں آسٹریلیا جیسی ٹیم سے بھی پنلٹیز پر جیت پایا اور راؤنڈ آف 16 میں پہنچا
دوسری طرف ارجنٹائن نے گروپ مرحلے میں اپنے تینوں میچز الجزائر،آسٹریا،اردن کے خلاف جیتے راؤنڈ آف 32 میں کیپ وردے کو ہرایا جس نے سپین کے خلاف راؤنڈ میچ برابر کھیلا تھا
ارجنٹائن نے راؤنڈ آف 16 میں مصر کو ہرایا
کوارٹر فائنل میں سوئٹزرلینڈ کو ہرایا اور سیمی فائنل میں انگلینڈ کو ہرا کے فائنل میں پہنچے۔
مگر جناب پاکستانیوں کو صرف مصر کے خلاف میچ پر ارجنٹائن کے مخالفت کرنی ہے۔
میں پہلے بھی بتا چکا ہوں کہ میں میچ فٹبال والی عینک پہن کے دیکھتا ہوں مذھب کی عینک سے نہیں جو ٹیم اچھا کھیلے گی اسے داد دوں گا مگر یہاں فٹبال میں کیسی کیسی باتیں گھسا دی گئی ہیں۔
کوئی اسے سسرا عیل سی جوڑ رہا ہے کوئی میسی کو فیفا کے صدر کا لاڈلا بنا رہا ہے۔
مجھے یہ سمجھ نہیں آتی کہ آخر فیفا کو ارجنٹائن جیسے بھوکے ننگے ملک سے کیا دلچسپی ہو سکتی ہے جو پاکستانیوں کے نزدیک فیفا اس کی خاطر تمام قوانین کو بالائے طاق رکھ کر اسکی حمایت کریگا؟
اور پھر فائنل میں یہ حمایت کہاں گئی اور کہاں گئے وہ لوگ جو شرطیں لگا کے کہہ رہے تھے کہ فیفا فائنل ارجنٹائن کو جتوائے گا کیونکہ میسی فیفا کا لاڈلا ہے.
فائنل میں کیوں ارجنٹائن کے کھلاڑی کو ایک ایسے فاؤل پر جسے نظرانداز بھی کیا جا سکتا تھا ریڈ کارڈ دکھا کے باہر کیا گیا؟
اب گولڈن بال تک میسی کو نہیں دیا گیا جو بلاشبہ اس ایوارڈ کا حقدار تھا اور یہ ایوارڈ روڈری کو دیا گیا۔
کیا فائنل تک آتے آتے فیفا کا لاڈلا پن ختم ہو گیا تھا اور انہوں نے سپین کی شکل میں نیا لاڈلا ڈھونڈ لیا تھا؟
کوئی تو سینس کی بات کبھی کر لیا کریں میں خود نہیں چاہتا تھا کہ ارجنٹائن کی ٹیم فائنل جیتے کیونکہ سپین کی ٹیم ان سے کہیں بہتر کھیل رہی تھی اسی لیے لکھا تھا کہ اگر فائنل پنلٹیز پر جاتا ہے اور سپین ہارتا ہے تو یہ بہت ناانصافی والی بات ہو گی مگر اسکا مطلب یہ نہیں کہ ارجنٹائن اچھا کھیل کے فائنل تک نہیں پہنچا۔
سپین کی ٹیم نے ارجنٹائن کو بے بس کیا تو اپنے کھیل سے کیا اور یہی کام وہ ٹورنامنٹ کی سب سے دھرندر ٹیم فرانس کے ساتھ کر چکے تھے تو کیا فرانس بھی بے کار ٹیم تھی اور وہ بھی تمام خراب ٹیموں سے جیت کے سیمی فائنل میں پہنچی تھی؟
یہ تبصرہ میری رائے ہے اور مجھے اس کے جواب میں کسی کی رائے درکار نہیں کیونکہ یہاں پر کوئی فٹبال کا سب سے بڑا تجزیہ نگار بن چکا ہے اسی لیے اس پوسٹ پر کمنٹس مکمل طور پر بند رہیں گے کوئی جو سمجھتا ہے سمجھتا رہے مجھے کسی کی رائے سے کچھ لینا دینا نہیں۔
واپس کریں