دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
سیاست میں نہ کوئی مستقل دوست ہوتا ہے، نہ مستقل دشمن
ناصر بٹ
ناصر بٹ
کئی دہائیوں سے ہم مختلف سیاست دانوں کی زبان سے ایک ہی قسم کے دعوے سنتے آ رہے ہیں "ہم نہ ہوتے تو نواز شریف کی سیاست ختم ہو چکی ہوتی"، "ہم نے فلاں موقع پر نواز شریف کو بچایا"، "ہم نے ساتھ نہ دیا ہوتا تو ن لیگ کا وجود نہ رہتا۔"
میرا ماننا ہے کہ سیاست میں کوئی بھی بڑا سیاست دان کسی دوسرے کا بے لوث ساتھی نہیں ہوتا۔ بے غرض ساتھ دینے والے کارکن ہو سکتے ہیں، لیکن سیاست دان ہر فیصلہ اپنے سیاسی مفاد، طاقت اور مستقبل کو سامنے رکھ کر کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اپنی ہی جماعت میں ٹکٹ نہ ملے تو بہت سے سیاست دان لمحوں میں وفاداری بدل کر دوسری جماعت میں چلے جاتے ہیں۔ ایسے ماحول میں یہ دعویٰ کرنا کہ کسی نے محض ہمدردی یا احسان کے طور پر کسی جماعت کا ساتھ دیا، حقیقت سے زیادہ سیاسی بیانیہ معلوم ہوتا ہے۔
آج بعض لوگ بڑے جوش سے کہتے ہیں کہ مولانا فضل الرحمان نے نواز شریف اور ن لیگ کو بچایا، ورنہ ن لیگ ختم ہو جاتی۔ سوال یہ ہے کہ کیا ن لیگ پہلی مرتبہ کسی بحران کا شکار ہوئی تھی؟ ن لیگ اس سے پہلے بھی دو مرتبہ اقتدار سے نکالی گئی، اس کی قیادت نے جیلیں کاٹیں، جلاوطنی دیکھی اور شدید سیاسی دباؤ برداشت کیا۔ اس وقت کون سا مولانا انہیں بچانے آیا تھا؟ اس کے باوجود ن لیگ دوبارہ اقتدار میں واپس آئی۔
دوسری طرف یہ بھی حقیقت ہے کہ پی ڈی ایم کے قیام سے مولانا فضل الرحمان کی قومی سیاست کو بھی نئی زندگی ملی۔ وہ اتحاد کے سربراہ تھے، میڈیا کی توجہ کا مرکز بنے رہے، ہر سیاسی بحث میں ان کا نام لیا جاتا تھا اور ان کا سیاسی وزن پہلے سے کہیں زیادہ محسوس کیا جانے لگا۔ اگر اس اتحاد سے ن لیگ کو فائدہ ہوا تو مولانا صاحب بھی اس سے کم فائدہ نہیں اٹھا رہے تھے۔ یہ دو طرفہ سیاسی مفاد تھا، کسی ایک کا دوسرے پر احسان نہیں۔
آج جب مولانا صاحب پی ٹی آئی کے ساتھ سیاسی ہم آہنگی دکھاتے ہیں تو کیا اس کی وجہ یہ ہے کہ پی ٹی آئی نے ماضی میں ان پر کوئی احسان کیا تھا؟ ہرگز نہیں۔ ماضی میں دونوں ایک دوسرے کے سخت ترین مخالف رہے، لیکن حالات اور سیاسی مفادات بدلنے پر قربت پیدا ہو گئی۔ یہی سیاست کی حقیقت ہے۔
اسی طرح اگر کل محمود خان اچکزئی یہ دعویٰ کریں کہ "میں نے پی ٹی آئی کو بچایا"، تو یہ بات بھی اتنی ہی مضحکہ خیز ہوگی۔ حقیقت یہ ہے کہ پی ٹی آئی کے پلیٹ فارم سے انہیں قومی سطح پر زیادہ نمایاں کردار ملا، وہ اپوزیشن اتحاد کی قیادت میں آئے اور لیڈر آف دی اپوزیشن جیسے اہم منصب تک پہنچے۔ اس میں ان کا بھی سیاسی فائدہ تھا۔
اسی منطق کو آگے بڑھائیں تو آصف علی زرداری بھی کہہ سکتے ہیں کہ "ہم نے ن لیگ کی حکومت بنوائی اور چلنے دی۔" لیکن کیا یہ کسی پر احسان تھا؟ اگر حکومت سازی میں تعاون کیا گیا تو اس کے بدلے سیاسی اختیارات، آئینی عہدے، قانون سازی میں اثر و رسوخ اور دیگر سیاسی فوائد بھی حاصل کیے گئے۔ یہ ایک سیاسی لین دین تھا، خیرات یا قربانی نہیں۔
سیاست میں اتحاد ہمیشہ مشترکہ مفادات، مشترکہ اہداف یا مشترکہ مخالف کے خلاف بنتے ہیں۔ ہر جماعت اور ہر رہنما اپنا فائدہ دیکھ کر فیصلے کرتا ہے۔ اس لیے بعد میں یہ کہنا کہ "ہم نے فلاں کو بچایا" یا "ہم نہ ہوتے تو فلاں ختم ہو جاتا"، حقیقت سے زیادہ سیاسی پروپیگنڈا معلوم ہوتا ہے۔
سیاست میں نہ کوئی مستقل دوست ہوتا ہے، نہ مستقل دشمن، صرف مفادات مستقل ہوتے ہیں۔ اسی لیے کسی اتحاد یا تعاون کو احسان بنا کر پیش کرنا درست نہیں، کیونکہ ہر فریق اپنے حصے کا سیاسی فائدہ حاصل کر رہا ہوتا ہے۔
واپس کریں