ناصر بٹ
ابھی چند دن پہلے ہی ہم نے پیپلز پارٹی کی مکارانہ اور پرفریب سیاسی تاریخ کا احوال تفصیل سے لکھا ہے جس میں انکی اصول اور جمہوریت پسندی کی تاریخ کھل کر بیان کی تھی اور تفصیل سے بتایا تھا کہ یہ کس طرح مکاری کے ساتھ سیاست کو ہیرا پھیری سے اپنے مفاد کے لیے استعمال کرتے آئے ہیں اور سب سے بڑی جمہوری پارٹی کا اعزاز بھی طلب کرتے آئے ہیں۔
اسکی تازہ ترین مثال آپکو اے جے کے الیکشن میں نظر آ گئی ہو گی۔۔
گلگت بلتستان میں بھی انہوں نے اتحاد کی بلیک میلنگ کے ذریعے حکومت مانگی حالانکہ ن لیگ وہاں بھی بڑے آرام سے حکومت بنا سکتی تھی اسی طرح انکا مطالبہ اے جے کے میں حکومت تھی مگر وہاں کے حالات اور پیپلز پارٹی کی حکومت ہونے کے باوجود ایکشن کمیٹی کے پھیلائے ہوئے فساد کے پھیلاؤ اور طوالت کی وجہ سے انکا ایکشن کمیٹی سے گٹھ جوڑ واضح ہو چکا تھا تو الیکشن میں انہیں بتا دیا گیا کہ اپنی قوت پر الیکشن لڑیں مگر پیپلز پارٹی لاڈو رانی بن کے روٹھ گئی۔
صدر زرداری نے ناراضگی دکھانے کے لیے ججز تقرری پر دستخط روک لیے۔
بلاول بھٹو زرداری اے جے کے میں پہلے مرحلے کے انتخابات تک بالکل خاموش رہا اسے وہاں انتخابی عمل میں کوئی پرابلم نظر نہیں آیا مگر جونہی پہلے مرحلے کے انتخابات کے نتیجے آنا شروع ہوئے پیپلز پارٹی کو ان میں دھاندلی نظر آنا شروع ہو گئی۔
دھاندلی کے بچگانہ الزامات لگا کر جنہیں رانا ثنااللہ گاہے بگاہے ایکسپوز بھی کرتے رہے،پیپلز پارٹی اصل میں اپنی ناراضگی بیان کر رہی تھی جو انہیں اےجے کے میں غیبی امداد نہ ملنے سے پیدا ہوئی تھی۔
ن لیگ کی اکثریت مکمل ہو گئی اے جے کے میں حکومت کس کی ہو گی یہ فیصلہ ہو گیا تو ن لیگ کو بھی بلیک میل ہونے کا سپیس مل گیا اور کل محسن عزیز کے ساتھ جو ہوا وہ اسی سپیس میں سے نکلا ہے۔
مجھے محسن عزیز سے دلی ہمدردی ہے وہ بظاہر پیپلز پارٹی کی اسی مکارانہ سیاست کی نذر ہوتے لگتے ہیں جس میں پیپلز پارٹی نے اپنے موجودہ وزیراعظم کے لیے فیس سیونگ مانگی تھی اور انہیں دی گئی ہے۔
اب مسلہ یہ پیدا ہو گیا ہے پیپلز پارٹی حلقہ غلط منتخب کر بیٹھی ہے کہ ایل اے 17 کی جس سیٹ سے پیپلز پارٹی کا وزیراعظم انتخاب لڑ رہا تھا اس سیٹ پر اسکی پوزیشن تیسرے نمبر پر تھی اور کچھ دن پہلے رانا ثنااللہ مین سٹریم میڈیا پر بیٹھ کے انکی شکست کی واضح پیش گوئی بھی کر چکے تھے۔
حلقے میں محسن عزیز کے جلسوں نے بھی انکی واضح برتری کے ثبوت مہیا کر دیے تھے اور اس سیٹ پر پیپلز پارٹی کے وزیراعظم مقابلے میں موجود ہی نہ تھے مگر پیپلز پارٹی نے اس سیٹ کو بلیک میلنگ سے حاصل کرنے کی کوشش میں اپنا منہ کالا کروا لیا اور آج انکے دھاندلی والے سارے شور شرابے کا ڈراپ سین بھی ہو گیا اور یہ علم بھی ہو گیا کہ وہ یہ سارا ڈرامہ اصل میں کیوں کر رہے تھے۔
آج صدر زرداری نے بھاگتے چور کی لنگوٹی پر اکتفا کرتے ہوئے ججز تقرری کی سمری پر دستخط بھی کر دیے ہیں۔
رہی بات محسن عزیز کی تو وہ جتنا دل چاہے اپنی کامیابی کے فول پروف ثبوت مہیا کر دے یہ شور مچا لے کہ گنتی ہی دوبارہ کروا دیں کہ یہ تو میرا حق ہے ،اسکا شاید انہیں کوئی فایدہ نہ ہو جیسے مفتاح اسماعیل کو قادر مندوخیل کے خلاف ضمنی الیکشن میں نہیں ہوا تھا۔
محسن عزیز کولیٹرل ڈیمج کا شکار ہوتے لگتے ہیں اللہ تعالیٰ ہی انکے ساتھ انصاف ممکن بنائے تو بنائے۔
واپس کریں