دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
تنقید ضرور کیجیے، مگر پوری حقیقت کے ساتھ
ناصر بٹ
ناصر بٹ
ایک دفعہ پھر پرانا راگ نئے سازوں کے ساتھ چھیڑا جا رہا ہے۔
ایسا تاثر دیا جا رہا ہے جیسے حکومت نے کوئی نیا فیصلہ کر دیا ہو کہ اگر چھ ماہ میں ایک بار بھی اے سی چلا لیا تو پروٹیکٹڈ صارف کی سہولت ختم ہو جائے گی اور عوام پر قیامت ٹوٹ پڑے گی۔
حقیقت یہ ہے کہ یہ کوئی نیا قانون یا نیا فیصلہ نہیں ہے۔ پروٹیکٹڈ صارفین کی یہ تعریف آج یا کل نہیں بنی بلکہ 2021 میں وزارتِ توانائی کی پالیسی گائیڈ لائنز کے تحت متعارف کرائی گئی تھی، جسے نیپرا نے ستمبر 2021 میں منظور کیا اور جولائی 2022 سے اس پر عمل درآمد شروع ہوا۔ اس پالیسی کے مطابق گزشتہ چھ ماہ کے دوران 200 یونٹ یا اس سے کم بجلی استعمال کرنے والے گھریلو صارفین کو "Protected Consumers" قرار دیا گیا۔ لہٰذا آج اس قانون کو اس انداز میں پیش کرنا کہ جیسے کوئی نیا ظلم نازل ہو گیا ہو، حقیقت کی مکمل تصویر نہیں۔
اس کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ بجلی مہنگی نہیں ہے۔ بجلی کے نرخ یقیناً زیادہ ہیں، لیکن کسی پرانے قانون کو "بریکنگ نیوز" بنا کر پیش کرنا اور عوام کو یہ باور کرانا کہ یہ سب آج سے شروع ہوا ہے، درست طرزِ عمل نہیں۔
اب آئیے اعداد و شمار کی روشنی میں دیکھتے ہیں کہ اصل حقیقت کیا ہے۔
سب سے پہلے اس دعوے کا جائزہ لیتے ہیں کہ "مہنگی بجلی نے غریب کا جینا دوبھر کر دیا۔"
میرے نزدیک غریب کا نام لے کر ہر بحث کو جذباتی بنا دینا آسان ضرور ہے، مگر مکمل حقیقت نہیں۔
حکومتی اعداد و شمار کے مطابق، جن کی اب تک کسی نے تردید نہیں کی، پاکستان کے تقریباً 63 فیصد گھریلو بجلی صارفین پروٹیکٹڈ صارفین ہیں۔ یعنی ان کا ماہانہ بجلی کا استعمال 200 یونٹ تک رہتا ہے اور انہیں خصوصی رعایتی ٹیرف دیا جاتا ہے۔
پروٹیکٹڈ صارفین بھی دو درجوں میں تقسیم ہیں۔
100 یونٹ تک بجلی استعمال کرنے والوں کی مؤثر قیمت تمام عمومی ٹیکسوں اور چارجز سمیت تقریباً 15 سے 16 روپے فی یونٹ بنتی ہے۔
101 سے 200 یونٹ استعمال کرنے والوں کی مؤثر قیمت تقریباً 18 سے 19 روپے فی یونٹ رہتی ہے۔
یعنی ملک کے تقریباً 63 فیصد گھریلو صارفین وہ مہنگے نرخ ادا ہی نہیں کر رہے جن کا ذکر عام طور پر کیا جاتا ہے۔
اس کے بعد ایک اور حقیقت ہے جسے اکثر نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔
ایسے صارفین بھی موجود ہیں جو پروٹیکٹڈ تو نہیں لیکن اس کے باوجود مختلف حکومتی سبسڈی یا رعایتی ٹیرف سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق تقریباً 86 فیصد گھریلو صارفین کسی نہ کسی شکل میں حکومتی سبسڈی حاصل کر رہے ہیں۔
میں یہ ہرگز نہیں کہتا کہ باقی 14 فیصد صارفین کے لیے بجلی سستی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ پروٹیکٹڈ کیٹیگری سے باہر آنے والے متوسط اور سفید پوش خاندانوں کے لیے بجلی کے بل یقیناً ایک بڑا مسئلہ ہیں۔
لیکن یہ کہنا کہ حکومت نے امیر اور غریب میں کوئی فرق ہی نہیں رکھا، یا ہر صارف سے یکساں نرخ وصول کیے جا رہے ہیں، حقائق سے مطابقت نہیں رکھتا۔
ایک سوال اکثر پوچھا جاتا ہے کہ آج کے دور میں آخر کون سے لوگ ہیں جن کا بل 200 یونٹ سے کم آتا ہے؟
شاید یہ سوال پوچھنے والے دیہی علاقوں، چھوٹے گھروں، کچی آبادیوں اور کم آمدنی والے لاکھوں خاندانوں کی زندگی سے واقف نہیں۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو پروٹیکٹڈ صارفین کی تعداد کروڑوں میں نہ ہوتی۔
اس کے ساتھ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ بعض گھروں میں ایک سے زیادہ بجلی میٹر موجود ہوتے ہیں، جس کے باعث ان کی کھپت مختلف میٹروں پر تقسیم ہو جاتی ہے اور وہ پروٹیکٹڈ ٹیرف کی شرائط کے اندر رہتے ہیں اور حکومتی سبسڈی کا فایدہ اٹھاتے ہیں۔
لہٰذا بجلی کے نرخوں کا مسئلہ نہ اتنا سادہ ہے اور نہ ہی اس کی پوری تصویر وہ ہے جو چند سرخیوں یا ٹی وی ٹکرز میں دکھائی جاتی ہے۔
تنقید ضرور کیجیے، مگر پوری حقیقت کے ساتھ۔
اگر بجلی مہنگی ہے تو اس کی بنیادی وجوہات آئی پی پیز کے معاہدے، گردشی قرضہ، مہنگی پیداواری لاگت اور بجلی کے شعبے کی دہائیوں پر محیط ساختی خرابیاں ہیں، نہ کہ کوئی ایسا قانون جو گزشتہ ہفتے یا گزشتہ ماہ بنایا گیا ہو حکومت اس سے نمٹنے کے لیے جس پالیسی پر عمل پیرا ہے اسکا احوال کسی اگلی پوسٹ میں بیان کرنے کی کوشش کرونگا۔
واپس کریں