دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
پاکستان میں ٹیکس کولیکشن میں ناکامی
ناصر بٹ
ناصر بٹ
پاکستان اور انڈیا میں پٹرول کی قیمت میں موازنہ آج کل ہر سوشل میڈیا وارئیرز کا محبوب مشغلہ ہے اور انڈیا میں آج کل پٹرول کی پاکستان سے کم قیمت کو لے کر پاکستان حکومت کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے چلیں تھوڑا پوسٹ مارٹم اس کا بھی کرتے ہیں۔
پاکستان میں پٹرول کی قیمت انڈیا سے زیادہ کبھی بھی نہیں رہی سوائے ایران امریکہ جنگ کے بعد سے جب پاکستان میں حکومت نے پٹرول کی قیمتیں بڑھائی ہیں اور اسے لگ بھگ ابھی تین ماہ ہوئے ہیں۔
انڈیا میں 2010 سے مسلسل پٹرول کی قیمت پاکستان سے زیادہ چلی آ رہی تھی اور یہ اسکے باوجود تھا کہ انڈیا روس کے ساتھ اپنے پرانے سٹریٹجک تعلقات اور روس پر مختلف پابندیوں کی وجہ سے تیل عالمی مارکیٹ سے 30 فیصد کم پر خرید رہا تھا اور اس سے اربوں ڈالر کما رہا تھا۔
2016 میں جب پاکستان میں پٹرول 67 روپے لیٹر تھا اس وقت بھی انڈیا میں پٹرول کی قیمت پاکستانی روپوں میں 107 روپے تھی اور یہ اس وقت کی بات ہے جب پاکستان میں ڈالر 104 روپے کا تھا یعنی انڈیا میں پٹرول پاکستان سے 38 سینٹ مہنگا تھا مطلب ہر سوا دو لیٹر پر انڈیا پاکستان سے ایک ڈالر زیادہ کما رہا تھا اور انڈیا کی روزانہ پٹرول کی کھپت 9 کروڑ 12 لاکھ لیٹر تھی جس سے اسے پاکستان سے روزانہ ساڑھے تین کروڑ ڈالر زیادہ حاصل ہوتے تھے جو کہ ماہانہ ایک ارب ڈالر سے زیادہ بنتے ہیں اور تھوڑے بہت فرق کے ساتھ یہ سلسلہ پچھلے 16 سال سے جاری تھا۔
پاکستان میں ٹیکس کولیکشن میں ناکامی حکومت پاکستان کی بڑی ناکامیوں میں سے ایک ہے جس کی مختلف وجوہات تو ضرور ہیں مگر یہ بہرحال ناکامی ہی تصور ہو گی۔
ٹیکس اہداف پورے کرنے کے لیے حکومت نے تیل کی قیمت زیادہ کرنے کا طریقہ اپنایا ہے جو کہ مہنگائی میں اضافے کا باعث بنا ہے اسے فی الفور واپس ہونا چاہیے یہ ایک بات ہے۔
دوسری بات یہ ہے کہ اس آڑ میں جو لوگ پاکستان میں پٹرول کی قیمتیں انڈیا سے زیادہ ہونے کا واویلا کرتے ہیں اور یوں بتاتے ہیں جیسے انڈیا میں ہمیشہ عوام کو سستا تیل فراہم کیا جاتا رہا وہ اوپر دیئے گئے اعدادوشمار کو چیک کر لیں اور بتائیں کہ کیا انہوں نے برسوں پاکستان میں پٹرول کی قیمت انڈیا سے کم رکھنے پر کسی حکومت کی تعریف کی تھی یا اس وقت بھی پٹرول مہنگا ہونے کی ہی دھائیاں تھیں؟
استاد امام دین گجراتی سے منسوب ایک شعر یاد آ رہا ہے آپ بھی سن لیں
کر کر خدمتاں تیریاں سوہنیاں وے
گھس گھس کے ٹانگے دے دھرے ہو گئے
آج اوہناں "نوں ہن میں کیہہ آکھاں"
اوہ چنگے تے اسی برے ہو گئے؟
(استاد نے "اوہناں" دی جگہ کجھ ہور کہیا سی میں اوس نوں سنسر کر دتا اے)
واپس کریں