دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
تم نے بونگیاں مارنا چھوڑنا ہے اور نہ کرپشن کرنا
ناصر بٹ
ناصر بٹ
آج کل پنجاب کے کچھ باسی جیالے سیالکوٹ کھاریاں اسلام آباد موٹر وے کو لےکر پھر اپنے دل کی اسی طرح بھڑاس نکال رہے ہیں جیسے لاہور اسلام آباد ایم ٹو کے وقت نکالا کرتے تھے ایک ہمارے دوست نے تو یہ بھی کہہ دیا کہ نواز شریف ایم ٹو لاہور اسلام آباد موٹر وے 100 کلو میٹر لمبی بنوا بیٹھا تھا اسلیے اب شہباز شریف اس غلطی کا مداوا کرتے ہوئے سو کلومیٹر چھوٹی بنوا رہا ہے۔
(انکی باتوں سے لگتا ہے کہ شہباز شریف نے خود انہیں یہ بات بتائی تھی۔
جب میں یہ کہتا ہوں کہ اپنی کمزوریوں کے باوجود ن لیگ ہی واحد پارٹی ہے جو تعمیر و ترقی کا ایجنڈا رکھتی ہے اور اس پر عمل کرتی ہے تو لوگ بھانت بھانت کی بولیاں بولتے ہیں مگر آپ کے سامنے ہے کہ ن لیگ کا متبادل یہ لوگ ہیں جنہیں خود کچھ کرنے کی نہ توفیق ہے نہ اھلیت مگر باتیں کروا لو ان سے جتنی دل چاہے۔
جیالوں کو یہ بات کرتے شرم بھی نہیں آتی کہ جس سو کلومیٹر زیادہ لمبائی کا وہ ذکر کرتے ہیں وہ سو کلومیٹر زیادہ موٹروے جہاں سے گزری وہاں کے لوگوں سے پوچھیں کہ یہ انکے لیے کتنی بڑی نعمت ہے۔
ہمارے پنڈ دادن خاں کے ایک دوست کہا کرتے تھے کہ ہمارے لیے تو پاکستان اب بنا ہے ورنہ تو لاہور بھی ہمیں بیرون ملک لگتا تھا۔
پیپلز پارٹی کی جاگیردار قیادت کے خمیر میں ہی انفراسٹرکچر کی جدت شامل نہیں یہ پورے ملک کو اندرون سندھ جیسا بنائے رکھنا چاہتے ہیں تاکہ انکا بھٹو ذندہ رہے۔
جیالےاس بات پر بھی تنقید فرماتے ہیں کہ سکھر حیدرآباد موٹر وے تو ن لیگ مکمل نہ کر پائی مگر پنجاب میں دو مزید موٹر ویز بنا رہے ہیں۔
گزارش ہے کہ ویسے تو "بھٹو ذندہ ہے" پارٹی خود بھی لاہور اسلام آباد موٹر وے بننے کے بعد دو دفعہ اقتدار میں آئی ہے کوئی ان سے پوچھے کہ انہیں سکھر حیدرآباد موٹر وے بنانے کی توفیق کیوں نہیں ہوئی؟
تمہارا کام بس لٹو تے پھٹو اور جئے بھٹو ہی ہے؟
اب اگلی بات سنئے۔
ایسا نہیں کہ لٹو پھٹو پارٹی نے کچھ نہیں کیا تو ن لیگ بھی اس پر خاموش بیٹھ گئی ہو موٹر وے کی تکمیل نواز شریف کا خواب تھا اور ن لیگ اسے ہر حال میں مکمل کرنا چاہتی ہے۔
سکھر حیدرآباد موٹر وے کے لیے ن لیگ نے جون 2022 میں زمین کی خریداری کے لیے ابتدائی فنڈز وہاں کی ضلعی انتظامیہ کے اکاؤنٹس میں منتقل کئے۔
پھر کیا تھا رقم دیکھ کے سندھ کی کرپٹ بیوروکریسی جنہیں سیاسی رہنماؤں کا پورا تحفظ حاصل تھا انکی رالیں ٹپک پڑیں اور لوٹ مار کا بازار گرم کر دیا اورسکھرحیدرآباد موٹروے (M-6) کی تعمیر سے پہلے ہی اس کی زمینوں کی خریداری ایک بڑے اسکینڈل میں تبدیل ہو گئی۔
جون 2022 میں این ایچ اے نے زمین کی خریداری کے لیے اربوں روپے ضلعی انتظامیہ کو منتقل کیے اور نومبر 2022 میں انکشاف ہوا کہ تقریباً 2.14 ارب روپے کی مشکوک مالی سرگرمیاں ہوئیں، بعد میں نیب نے 5.8 ارب روپے کے مبینہ اسکینڈل کا ریفرنس دائر کیا تحقیقات میں سابق ڈپٹی کمشنر مٹیاری عدنان رشید، سابق ڈپٹی کمشنر نوشہرو فیروز تشفین عالم خان، سابق اسسٹنٹ کمشنر نیو سعید آباد منصور عباسی، بعض بینک افسران اور ریونیو اہلکاروں کے نام سامنے آئے الزامات میں زمین مالکان کو ادائیگی کے بجائے رقوم کی نقد نکلوائی، مشکوک اکاؤنٹس میں منتقلی اور مالی بے ضابطگیاں شامل تھیں کچھ ملزمان گرفتار ہوئے، بعض کے خلاف ریفرنس دائر ہوئے جبکہ کچھ افراد عدالتوں سے بری ہو گئے کچھ بیرون ملک بھاگ گئے اور کئی مقدمات ابھی بھی زیر سماعت ہیں۔
نتیجہ یہ نکلا کہ M-6 منصوبہ تاخیر کا شکار ہوا اور اس کی لاگت میں بھی نمایاں اضافہ ہو گیا۔
جہاں پپل پالٹی کا نام آ جائے وہاں قومی خزانے کی لوٹ مار نہ ہو یہ ہو ہی نہیں سکتا مگر کمال ڈھٹائی سے یہ لوگ اسے پنجاب کے مقابل سندھ کی محرومیوں میں تبدیل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
ہائے ووئے شوھدے جیالو ساری عمر نہ تم نے بونگیاں مارنا چھوڑنا ہے اور نہ کرپشن کرنا۔
واپس کریں