دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
سوشل میڈیا اب ایک تماشا گھر
ناصر بٹ
ناصر بٹ
سوشل میڈیا اب سوائے ایک تماشا گھر کے کچھ نہیں جہاں لوگوں کو جو بھی تماشا دکھایا جانا مقصود ہو دکھایا جاتا ہے اور پرفارمنس کے مطابق داد یا تنقید وصول کی جاتی ہے۔
تازہ تماشا آوارہ کتوں کے اتلاف پر سوشل میڈیا کی ذبردست تنقید کی شکل میں سامنے ہے جس میں روزانہ لاکھوں مرغیاں،بکرے،بیل کاٹ کے کھانے والے "جانور دوست" عوام آوارہ کتوں کے اتلاف پر سخت دل گرفتہ ہیں اور جانوروں کے ساتھ ظلم پر آٹھ آٹھ آنسو بہاتے ہوئے سخت برہمی کا اظہار بھی کر رہے ہیں۔
ان آوارہ کتوں کی بہتات سے مسلہ یہ پیش آتا ہے کہ انکے کسی انسان کو کاٹنے سے انسان کو ربیز ہو سکتی ہے جو کہ ایک جان لیوا مرض ہے اور اس میں انسان کی موت سو فیصد طے ہے اور اگر ایسا ہوتا ہے تو عوام اسکا ذمہ دار بھی حکومتوں کو قرار دیتی ہے اسکے کئی مظاہر ماضی قریب میں اپکو خاص طور پر سندھ میں نظر آئے ہونگے
آوارہ کتوں کا کوئی مستقل ٹھکانہ نہیں ہوتا جہاں سے جا کے انہیں گرفتار کیا جا سکے نہ یہ کسی گاڑی پر سفر کرتے ہیں جو انہیں ناکہ لگا کر پکڑا جا سکے انکو ذہر یا کچلا دے کر تلف کرنا ہی ہمیشہ سے ایک علاج سمجھا گیا ہے جو آج بھی کیا جا رہا تھا کہ اچانک ہاتھوں میں موبائل فون لے کے انکے تلف کیے جانے کی وڈیوز بنانے والے حرکت میں آئے اور سوشل میڈیا پر جا بجا کتوں کے مرنے کی وڈیوز دکھا دکھا کر وہ رونا دھونا مچایا کہ ہر طرف آوارہ کتوں کے ساتھ ہمدردی کا سیلاب آ گیا اور جانوروں کے حقوق کا وہ وہ بیانیہ سامنے آیا جسے دیکھ کر ہمیشہ سے جاری یہ طریقہ ایسا ظلم بن گیا جس کی طرف وڈیوز سے پہلے کبھی کسی کا دھیان ہی نہ گیا تھا شاید پہلے ہم ہلاکو خان کے دور میں ہی رہتے تھے۔
جناب من جانور تو مرغی بھی ہے،بکرا بھی اور بیل بھی جنہیں یہاں روزانہ کاٹ کے کھایا جاتا ہے ابھی کچھ دنوں بعد عید الاضحیٰ ہے تو ہر طرف گلیوں بازاروں میں جانور ذبح کیے جائیں گے جن کی وڈیوز بنا کے لوگ سوشل میڈیا پر شئیر بھی کریں گے مگر چونکہ وہ بعد میں تکے کباب اور قورمے بنا کر کھانے کے کام آتے ہیں اور اسکا ثواب بھی ملے گا تو ہم اس پر ایک دوسرے کو مبارکباد دے کر یہ کہیں گے کہ اللہ قبول فرمائے۔
مگر چونکہ کتے کے ساتھ یہ معاملہ نہیں ہے تو ہمیں یہ وہ ظلم لگ رہا ہے جس کی تاریخ میں کوئی مثال نہیں ملتی۔
یہاں ایک چیز کلئیر کر دوں کہ خدا نخواستہ میں انسانی خوراک کے لیے حلال جانور کے گوشت کا استعمال کرنے کے ہر گز خلاف نہیں نہ ہی میں قربانی کے مذھبی فریضے کی ادائیگی کے خلاف ہوں میں صرف ایک منافقت پر بات کر رہا ہوں جو صرف آوارہ کتوں کے اتلاف پر سامنے آئی ہے اور اس پر ڈفانگ کھڑا کر دیا ہے۔
دنیا بھرمیں ماحولیات یا خاص طور پر انسانی زندگی کے لیے نقصان دہ جانوروں کا اتلاف کوئی نئی چیز نہیں آسٹریلیا میں خرگوشوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کو جو کہ ماحولیاتی تباھی کا باعث بن رہے تھے ،جس طرح تلف کیا گیا تھا اسکی روداد ہر کوئی جان سکتا ہے۔
میرے نزدیک مسلہ کتوں کو مارنے سے پیدا نہیں ہوا مسلہ ان کتوں کو مارنے کی وڈیوز سوشل میڈیا پر شئیر کرنے سے ہوا ہے ۔
میرے نزدیک کسی بھی جانور کی ہلاکت پر مبنی ایسی وڈیوز سوشل میڈیا پر شئیر کرنے پر قانون سازی کر کے پابندی عائد ہونا چاہیے تاکہ لائیکس شئیر کے چکر میں یہاں کسی بھی چیز کو بربریت بنا کے دکھانا ممکن نہ رہے۔
واپس کریں