دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
مگر نواز شریف خاموش ہے
ناصر بٹ
ناصر بٹ
مریم نواز کے خلاف جہاز لگایا گیا تبھی اس بات کا علم تھا کہ یہ سب کچھ بے سبب نہیں۔کچھ دن پہلے لکھا تھا کہ صوبوں کے معاملے پر ن لیگ میں کوئی جو کچھ دل چاہے کہتا رہے اسکی کوئی حیثیت نہیں ۔۔۔۔۔ جب تک نواز شریف خاموش ہیں۔ دیکھیے ہم نے کیا لکھا تھا "آج جب ہر طرف نئے صوبوں کا شور ہے مگر نواز شریف خاموش ہے۔
پاکستان کی سیاست اس وقت مکمل طور پر لاک ہے وہ اس وقت تک ان لاک نہیں ہو سکتی جب تک نواز شریف اسے ان لاک نہیں کرتا۔"
نواز شریف اب بھی خاموش ہے مگر بزور قوت نئے صوبے بنانے کا شوق رکھنے والوں کو علم ہو چکا ہے کہ اس خاموشی کا مطلب کیا ہے۔
یہ منصور علی خان،ندیم ملک،محمد مالک جیسے رنگ برنگے اینکرز کو کیا ہم نہیں جانتے کہ جب نواز شریف کے پیچھے پانامہ لگایا گیا تھا تو یہ کسطرح شام کو سکرینوں پر عدالتیں لگا کے بیٹھا کرتے تھے اور ہمیں انقلاب کی بشارتیں دیا کرتے تھے؟
مریم نواز پر تنقید جس قدر روا تھی اتنی ہی ہوتی تو ہمیں بھی کوئی اعتراض نہ تھا مگر یہ ایک ایجنڈا بیس تنقید تھی جو اس وجہ سے ہوئی کہ نواز شریف نے صاحبوں کے عظیم الشان نئے صوبے پراجیکٹ کی حمایت میں لب کشائی نہیں کی۔
آج مختلف کونوں کھدروں سے باتیں نکل کے آ رہی ہیں جو اس بات کی تصدیق کر رہی ہیں کہ مسلہ مریم نواز کے جہاز کو نجی مقصد کے لیے استعمال کرنا نہیں تھا بلکہ صوبوں کے معاملے پر نواز شریف کا بازو مروڑنا تھا۔۔ایسا کرنے والے مگر پھر نواز شریف کو شاید جانتے ہی نہیں۔
کھل کے کہتا ہوں کہ یہ حکومت دے کر نواز شریف کی پارٹی پر کوئی احسان نہیں کیا گیا بلکہ یہ نواز شریف کی مہربانی ہے کہ انہوں نے اپنی سیاست داؤ پر لگا کے ملک کی مخدوش حالت بہتر کرنے کے لیے یہ حکومت قبول کی۔
چیلنج ہے کہ کل نہیں آج ن لیگ کو ہٹا دیں اور پھر دیکھ لیں کہ اس ملک کی حالت کیا ہوتی ہے جس میں ایک طرف اڈیالوی کھوتا دولتیاں جھاڑ رہا ہوگا،دوسری طرف پپل پالٹی بھٹو زندہ کر رہی ہو گی اور تیسری طرف جنات سلامی مسائل کا یہ حل بتا رہی ہو گی کہ "لو فیر آیا جے غوری"
وما علینا الاالبلاغ
واپس کریں