دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
کیا کمرمشانی کراچی بن رہا ہے؟
عصمت اللہ نیازی
عصمت اللہ نیازی
جب حکمران پولیس کو عوام کی حفاظت کے بجائے اپنے سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنا شروع کر دیں تو پھر نتیجہ وہی نکلتا ہے جو آج کمرمشانی جیسے شہر میں دکھائی دے رہا ہے۔ پولیس کے اپنے فرائض بری طرح متاثر ہو رہے ہیں، اہلکار ذہنی دباؤ کا شکار ہیں تھانے کا ماحول عام آدمی کے لیے خوف کی علامت بنتا جا رہا ہے اور دوسری طرف جرائم پیشہ عناصر کے حوصلے دن بدن بلند ہوتے جا رہے ہیں۔ پولیس اگر دن رات سیاسی مصروفیات میں الجھی رہے گی تو گشت کون کرے گا؟ جرائم کی روک تھام کون کرے گا؟ اور زیرِ تفتیش مقدمات کی تفتیش کون مکمل کرے گا؟ شاید یہی وجہ ہے کہ اب چور اور ڈاکو بھی اس قدر بے خوف ہو گئے ہیں کہ رات کے اندھیرے کا انتظار کرنے کے بجائے دن کے اجالے میں سڑکوں پر نکل آتے ہیں۔ کمرمشانی میں دن دہاڑے وارداتیں اب معمول بنتی جا رہی ہیں۔ چند دن قبل ونجاری روڈ پر شہزاد نامی ایک دکاندار سے مبینہ طور پر کمرمشانی شہر سے تقریباً تین کلومیٹر دور سہ پہر ساڑھے چھ بجے نامعلوم موٹر سائیکل سواروں نے آنکھوں میں مرچیں ڈال کر 30 لاکھ روپے سے زائد مالیت کے موبائل فون چھین لیے۔ افسوس ناک امر یہ ہے کہ اس واقعہ کی ایف آئی آر بھی تین دن بعد بڑی مشکل اور مختلف پولیس افسران کی منت سماجت کے بعد درج ہوئی۔ اب 29 ستمبر بروز منگل تقریباً ایک بجے دن کے وقت پیلا بورنگ کے قریب مبینہ طور پر نامعلوم ڈاکوؤں نے ایک طالب علم سے موٹر سائیکل چھین لی۔ ذرائع کے مطابق ڈاکوؤں نے طالب علم کی تلاشی لے کر اس کا بٹوا بھی نکال لیا اور اسے تھپڑ بھی مارے۔ یعنی اب کمرمشانی کی سڑکوں پر واردات کے لیے رات کی تاریکی بھی ضروری نہیں رہی۔ سوال یہ ہے کہ آخر عوام جائیں تو جائیں کہاں؟
کمرمشانی کے ہمارے نام نہاد چٹ پوش بھی شاید اس صورت حال کے خاموش تماشائی بن چکے ہیں۔ عوام کو ڈاکوؤں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا ہے اور ہمارے سیاسی عمائدین اپنی اپنی مستی میں مست ہیں۔ حکومت میں شامل مقامی لوگ ویسے بھی کافی عرصے سے اپنی عوام سے ناراض اور نالاں دکھائی دیتے ہیں۔ ایم این اے صاحب گرفتار ہو کر جیل میں سکون فرما رہے ہیں، جبکہ ایم پی اے صاحب اسلام آباد کی اپنی کوٹھی میں احتیاطاً مقیم ہیں اور سنا ہے کہ انہیں کچھ استثنیٰ بھی حاصل ہے۔ مگر جناب! عوام کو بھی تو کوئی استثنیٰ نہیں ملا۔ انہیں تو اسی کمرمشانی میں رہنا ہے انہی سڑکوں پر سفر کرنا ہے انہی بازاروں میں کاروبار کرنا ہے اور انہی راستوں سے اپنے گھروں کو واپس جانا ہے۔ جب چور ڈاکو سڑکوں پر دندناتے پھریں، دن دہاڑے لوگوں کو لوٹیں اور شہری خود کو غیر محفوظ محسوس کرنے لگیں تو پھر یہ سوال ضرور پیدا ہوتا ہے کہ غریب عوام کس کے دروازے پر دستک دے؟ کس سے فریاد کرے؟ اور کس سے تحفظ مانگے؟
ایسے میں امید کی آخری کرن ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر وقار عظیم کھرل ہیں۔ ان سے فریاد ہے کہ خدارا کمرمشانی کے عوام کو سرعام لٹنے سے بچائیں۔ تھانہ کمرمشانی پر خصوصی توجہ دیں اور یہاں کوئی ینگ، دبنگ اور فعال قسم کا ایس ایچ او تعینات کریں، جو تھانے میں بیٹھ کر صرف کاغذی کارروائی نہ کرے بلکہ علاقے کی سڑکوں پر بھی پولیس کی موجودگی محسوس ہو۔ کیونکہ یہ کوئی مشکل سائنس نہیں ہے۔ کمرمشانی کے حالات کسی سے پوشیدہ نہیں۔ سارا دن بڑے بالوں والے مالگرے جن کے گھروں میں پکانے کے لیے سبزی تک میسر نہیں ہوتی، ہنڈا 125 پر کاٹن کا استری شدہ سوٹ پہن کر دندناتے پھرتے ہیں اور پھر اپنے اخراجات پورے کرنے کے لیے رات کو گیدڑوں کی طرح سڑکوں پر نکل آتے ہیں اور لوگوں کو لوٹتے ہیں۔ بس ضرورت صرف اتنی ہے کہ پولیس انہیں پہچاننے اور پکڑنے میں دلچسپی لے۔ کمرمشانی کے صحافی بھائیوں سے بھی ہاتھ باندھ کر التماس ہے کہ وہ پولیس کی تعریفوں سے "رج" گئے ہوں اور سو موٹر سائیکلوں کو چالان کرنے کی خبر پولیس کی کارکردگی کے طور پر پیش کر چکے ہوں تو کمرمشانی کے موجودہ حالات بھی افسران بالا تک پہنچانے کی کوشش کریں، بے شک جب حالات ٹھیک ہو جائیں تو دوبارہ تعریفیں شروع کر دیں۔ دوسری طرف ایم پی اے صاحب سے بھی گزارش ہے کہ ذرا اپنی کوٹھی سے باہر تشریف لائیں۔ کمرمشانی کی سڑکوں، بازاروں اور عوام کا حال اپنی آنکھوں سے دیکھیں اور اسمبلی میں لا اینڈ آرڈر کی اس بدترین صورت حال کا مسئلہ اٹھائیں۔ کیونکہ اگر آج بھی عوام کی فریاد نہ سنی گئی تو پھر یہ سوال پوچھنا بالکل بجا ہوگا کہ کیا کمرمشانی کراچی بن رہا ہے؟
واپس کریں