دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
ڈی ایچ کیو ہسپتال میانوالی میں موبائل کی خاموشی، بولتا ہوا المیہ"
عصمت اللہ نیازی
عصمت اللہ نیازی
ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال میانوالی کی نئی عمارت جہاں کچھ عرصہ قبل سسٹم کو منتقل کیا گیا ہے بظاہر جدید سہولیات کا تاثر دیتی ہے مگر اس کے اندر داخل ہوتے ہی ایک ایسا مسئلہ منہ کھولے کھڑا ہے جو مریضوں، تیمارداروں اور ایمرجنسی عملے سب کے لئے اذیت کا باعث بن چکا ہے۔ ہسپتال کے احاطہ میں کسی بھی موبائل کمپنی کے سگنلز دستیاب نہیں اور افسوس کی بات ہے کہ یہ مسئلہ کسی تکنیکی خرابی کا نہیں بلکہ انتظامی بے حسی کا نتیجہ ہے۔
چونکہ ڈی ایچ کیو ہسپتال کو سنٹرل جیل میانوالی کے بالکل پہلو میں منتقل کیا گیا ہے اس لئے جیل میں نصب سگنل جیمرز کی زد میں آ کر ہسپتال کا پورا علاقہ موبائل کمیونیکیشن سے محروم ہو چکا ہے جس کے نتیجہ میں ایمرجنسی میں لائے گئے مریضوں کے لواحقین نہ اپنے گھر والوں سے رابطہ کر سکتے ہیں، نہ خون کے عطیات دینے والوں کو فون کر سکتے ہیں اور نہ ہی کسی قسم کی فوری مدد طلب کر سکتے ہیں۔ یہ محض سگنلز کا مسئلہ نہیں بلکہ یہ براہِ راست انسانی جانوں کا مسئلہ ہے۔ آپ ذرا تصور کریں کہ جب ایمرجنسی وارڈ میں ڈاکٹر خون کا مطالبہ کرے اور تیماردار ہاتھ میں موبائل لئے دیواروں کے سائے تلاش کرتا پھرے مگر ایک کال تک نہ مل سکے تو اس کیفیت میں ایمرجنسی مریض کے ساتھ آنے والے کی کیا ذہنی کیفیت ہو گی۔ اس اہم مسئلے کی نشان دہی ہمارے سینئر صحافی مطیع اللہ خان مجاہد نے گذشتہ دنوں ڈپٹی کمشنر میانوالی کے سامنے کی مگر انھوں نے حسبِ روایت بیوروکریسی کا بے حسی والا رویہ اپناتے ہوئے اسے سنجیدگی سے لینے کے بجائے نظر انداز کر دیا۔ بعد ازاں جب یہی مسئلہ مطیع الله خان مجاہد نے ہسپتال انتظامیہ کے سامنے رکھا تو جواب میں وہی روایتی فائل کلچر بولتا نظر آیا کہ ہم نے جیل سپرنٹنڈنٹ سے بات کی ہے اور معاملہ وزارتِ داخلہ کو بھیج دیا گیا ہے۔ الله کے نیک بندے جب مسئلہ ہسپتال کے مریضوں کا ہے تو اس کا حل تلاش کرنا ایم ایس ڈی ایچ کیو ہسپتال کی بنیادی ذمہ داری نہیں؟ کیا یہ ممکن نہیں کہ ہسپتال کے لیے علیحدہ سگنل بوسٹر یا ریپیٹر نصب کروا لیا جائے؟ کیا یہ کام اتنا پیچیدہ ہے کہ لوگوں کو ٹرک کی بتی کے پیچھے لگا دیا جائے کہ جیل حکام نے وزارتِ داخلہ کو لیٹر لکھ دیا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ہمارے نظام میں اکثر فیصلے تکلیف کی بنیاد پر ہوتے ہیں۔ جن کمروں میں لینڈ لائنز کی بھرمار ہو اور جہاں ہائی اسپیڈ انٹرنیٹ ہر وقت دستیاب ہو وہاں موبائل سگنلز کی کمی ایک غیر اہم مسئلہ ہی محسوس ہوتا ہے۔ جبکہ اصل اذیت کا اندازہ تو اس آدمی کی جگہ پر کھڑے ہو کر کریں جو اس تکلیف سے گزر رہا ہو جو ہسپتال میں اپنے پیاروں کی زندگی بچانے آیا ہوا ہو۔ بدقسمتی سے ہمارے ہاں یہی سوچ پنپ چکی ہے کہ مسئلہ اگر کسی عام آدمی سے متعلق ہو تو اس پر توجہ بالکل نہیں دینی جب تک کوئی طاقتور سیاسی مداخلت نہ کرے۔ اگر کسی سیاسی کی مداخلت کرنے سے قبل ایمرجنسی میں کوئی قیمتی جان ضائع ہو جائے تو اس کا ذمہ دار کون ہو گا؟ ڈپٹی کمشنر میانوالی، جیل سپرٹنڈنٹ یا ایم ایس ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال؟ میں سمجھتا ہوں کہ ڈی ایچ کیو ہسپتال میانوالی میں موبائل سگنلز کی عدم دستیابی انتظامی نااہلی کی ایک واضح مثال ہے اگر فوری طور پر اس مسئلے کا حل نہ نکالا گیا تو موبائل کی یہ خاموشی کئی جانیں نگل سکتی ہے۔ میری نو منتخب ممبر صوبائی اسمبلی علی حیدر نور خان سے اپیل ہے کہ وہ ذاتی دلچسپی لے کر اس اہم عوامی مسئلہ کو حل کروائیں۔ مجھے قوی امید ہے کہ علی حیدر نور خان منتخب ہوتے ہی عوامی مسائل میں دلچسپی لے رہے ہیں وہ عوام کو اس شدید ذہنی تکلیف سے چھٹکارا دلائیں گے۔
واپس کریں