عصمت اللہ نیازی
لو جی پنجاب میں اب صرف وہی گانے چلیں گے جن میں نہ کنڈی ہو، نہ جپھی ہو، نہ انار ہو بلکہ صرف برداشت ہو۔ کیونکہ اکثر گاڑیوں کے پیچھے لکھا ہوتا ہے کہ پاس کر یا برداشت کر۔ لہٰذا حکومت پنجاب بھی آپ سب کی برداشت چیک کر رہی ہے۔ اسی برداشت چیکنگ کے سلسلہ میں حکومتِ پنجاب نے حال ہی میں ایک ایسا نوٹیفکیشن جاری کیا ہے جسے دیکھ کر یوں محسوس ہوتا ہے جیسے ثقافتی محاذ پر کوئی بڑی جنگ جیت لی گئی ہو۔ اعلان کے مطابق 132 گانوں کے سننے پر پابندی عائد کر دی گئی ہے اگر غور سے دیکھا جائے تو یہ کوئی عام فہرست نہیں یہ ایک فکری اور جذباتی چھان بین کا شاہکار ہے۔ یہ وہ فہرست ہے جس میں آدھی پنجابی میوزک انڈسٹری کو بڑی باریک بینی اور تخلیقی ذوق سے چھانا گیا ہے۔ پابندی کا شکار ہونے والے گانوں میں سر فہرست "اینی لائٹ وچ موڈ نئیں بندا” ہے۔ اب بندہ سوچے کہ اگر تھوڑی لائٹ میں کسی کا موڈ نہیں بنتا تو اس میں گانے والے کا کیا قصور؟ اور اگر موڈ بن جاتا ہے تو مسئلہ موڈ کا ہے لائٹ کا نہیں۔ مگر صوبائی حکومت نے بڑے تحمل سے فیصلہ کیا کہ لائٹ بند کرنے کے بجائے موڈ ہی بند کر دیا جائے تو بہتر ہے کہ نہ رہے گا بانس اور نہ بجے گی بانسری۔ اسی طرح فہرست کے مطابق دوسرا نمبر "تو نِکی بتی کیوں نئیں بالدا” کا ہے۔ حکومت پنجاب نے بجلی کی کمی اور لوڈ شیڈنگ کی موجودہ صورتحال کے پیش نظر اس پر بھی پابندی کا فیصلہ کیا ہے کہ اس گانے میں اندھیرے کی بجائے"نِکی بتی " جلانے کی فرمائش کی جا رہی ہے جس پر بجلی کا بے جا ضیاع ہونے کا خطرہ ہے۔ پھر آتے ہیں اُن گانوں کی طرف جن میں گھنٹی کھڑکتی ہے کُنڈی کُھلتی ہے جپھی ڈالی جاتی ہے اور کہیں آدھی رات کو منجی بھی ہلنے لگتی ہے۔ صاف ظاہر ہے کہ مسئلہ آواز، کنڈی یا منجی کا نہیں بلکہ مسئلہ تخیل کا ہے اور کہتے ہیں کہ ذہن گندہ ہو تو سوچیں بھی گندی آتی ہیں۔ لیکن میرا اس تخیلاتی صورت حال میں ایک معصومانہ سوال بھی ہے کہ مولانا طارق جمیل صاحب جب اپنی تقاریر میں حوروں کے خدوخال جس انداز سے بناتے ہیں تو سامنے بیٹھے نوجوان سامعین کے تخیلات میں حل چل مچ جاتی ہے تو کیا پابندی لگنے کی اگلی باری طارق جمیل صاحب پر ہو گی؟ دوسری طرف پنجاب حکومت نے انگور، امب اور انار سب کو ایک ہی ترازو میں تول دیا گیا۔ “چکھ لے انگور” ہو یا "میں امب چوپن لئی گئی” حکومت پنجاب نے واضح پیغام دیا ہے کہ اب پنجابی گانوں میں وٹامنز اور منرلز کا تڑکا بھی سرکاری اجازت سے لگایا جا سکے گا لیکن یہاں ایک اور سوال بھی جنم لیتا ہے کہ کیا اب ایسے پھلوں پر بھی پابندی لگے گی جن کی شکلیں قدرتی طور پر کسی بدنام اشیاء سے ملتی ہیں جیسے کیلا یا آم وغیرہ جبکہ سبزیوں کی نسل میں بھی ایسی کئی واہیات قسم کی سبزیاں موجود ہیں جن پر حکومت پنجاب اعتراض کر سکتی ہے جن میں کھیرے ، بینگن یا بھنڈی توری شامل ہیں۔ اچھا مزے کی بات یہ ہے کہ یہ سارے گانے کئی برسوں سے بج رہے تھے۔ یہ قابلِ اعتراض گانے شادیوں میں گائے جا رہے تھے، تھیٹر اور سینماؤں کے بڑے سپیکروں پر گونج رہے تھے، گاڑیوں اور رکشوں میں سنائے جا رہے تھے مگر اب اچانک احساس ہوا ہے کہ یہ گانے تو قوم کا اخلاق بگاڑ رہے ہیں۔ حکومت نے اب بھانپ لیا ہے کہ ملک کو زیادہ خطرہ لسانیت ، فرقہ واریت ، مہنگائی ، بے روزگاری، قتل و غارت اور ڈکیتیوں کی بڑھتی ہوئی تعداد، ناانصافی، پینے کے صاف پانی کی عدم فراہمی ، صحت کی بنیادی سہولیات کے فقدان سے نہیں بلکہ اصل خطرہ دراصل "مزہ لین دے پیچھا پین دے” سے ہے جس کو کنٹرول کرنا بہت ضروری ہے۔ لیکن میری یہاں حکومت وقت سے ایک درخواست ہے کہ اگر انسانی جذبات پر پابندی لگانی بھی ہے تو پھر صرف گانوں پر کیوں؟ کیوں نہ نظروں کا نوٹیفکیشن بھی آ جانا چاہیے۔ مسکرانے پر بھی کوئی ایس او پی لگنی چاہیے۔ کیونکہ اگر صرف گانے بند کرنے سے معاشرہ سدھر جاتا تو پھر افغانستان اس وقت ترقی کی دوڑ میں سب سے آگے ہوتا کیونکہ وہاں پر تو کئی سالوں سے گانے سننے پر پابندی ہے
واپس کریں