دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
"میونسپل کمیٹی کمرمشانی، کروڑوں روپے کی سرکاری املاک اور احتساب کا سوال"
عصمت اللہ نیازی
عصمت اللہ نیازی
کسی بھی شہر کی ترقی کا انحصار اس کے مقامی اداروں کی دیانت داری، شفافیت اور وسائل کے درست استعمال پر ہوتا ہے۔ اگر مقامی حکومتیں اپنی آمدن ایمانداری سے عوام پر خرچ کریں تو محدود وسائل کے باوجود شہروں کی شکل بدل سکتی ہے لیکن جب سرکاری املاک اور وسائل کے انتظام پر سوالات اٹھنے لگیں تو ترقی کا سفر رک جاتا ہے۔
میونسپل کمیٹی کمرمشانی اس کی ایک اہم مثال ہے۔ شہر کے مرکزی اڈے اور مین روڈ پر واقع تقریباً 190 دکانیں میونسپل کمیٹی کی ملکیت ہیں۔ ان کی تجارتی اہمیت کے پیش نظر یہ کہا جا سکتا ہے کہ آمدن کے لحاظ سے یہ پنجاب کی نسبتاً خوشحال میونسپل کمیٹیوں میں شمار ہو سکتی ہے۔ ان دکانوں سے ہر ماہ لاکھوں روپے کرایہ وصول ہونا چاہیے مگر عوامی حلقوں میں عرصہ دراز سے اس آمدن اور سرکاری املاک کے انتظام کے بارے میں سنگین سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔
حال ہی میں تھانہ کمرمشانی کی نئی عمارت کے سامنے میونسپل کمیٹی کی اراضی پر قائم تقریباً بیس عارضی دکانیں ہٹائی گئیں لیکن اگلے ہی روز وہ دوبارہ قائم ہو گئیں۔ مقامی سطح پر یہ دعویٰ کیا جاتا ہے کہ ان افراد سے فی دکان پانچ ہزار روپے ماہانہ کرایہ وصول کیا جا رہا ہے۔ یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ ایک مقامی سبزی فروش ان دکانوں سے ہر ماہ تقریباً ایک لاکھ روپے کرایہ وصول کر رہا ہے اور آگے میونسپل کمیٹی کے کسی اہلکار کے سپرد کرتا ہے یا اپنی جیب میں ڈالتا ہے یا پھر میونسپل کمیٹی کا اہلکار آگے قومی خزانے میں جمع کراتا ہے؟ اس سے آگے راوی خاموش ہے۔ اگر یہ دعوے درست ہیں تو بنیادی سوال یہ ہے کہ کیا یہ رقم سرکاری خزانے میں جمع ہو رہی ہے؟ کیا اس کا کوئی سرکاری ریکارڈ موجود ہے؟ یا یہ معاملہ مکمل طور پر غیر رسمی انداز میں چل رہا ہے؟ ان سوالات کا جواب صرف شفاف اور غیر جانبدار تحقیقات ہی دے سکتی ہیں۔ دوسرا اور اس سے بھی زیادہ اہم معاملہ میونسپل کمیٹی کی مستقل دکانوں کا ہے۔ مقامی لوگوں کے مطابق ان میں سے بڑی تعداد ایسے افراد کے نام پر الاٹ ہے جنہوں نے بعد ازاں انہیں دوسرے افراد کو زیادہ کرائے پر دے رکھا ہے۔ اگر ایسا ہے تو یہ نہ صرف سرکاری وسائل کے غلط استعمال کا معاملہ بنتا ہے بلکہ The Punjab Management and Transfer of Municipal Properties Act, 2020 کی دفعہ 6 کی بھی خلاف ورزی ہے جس کے مطابق میونسپل کمیٹی کی جائیداد کو متعلقہ اتھارٹی کی اجازت کے بغیر آگے کرایہ پر دینا (Subletting) ممنوع ہے اور ایسی صورت میں لیز یا کرایہ داری منسوخ کی جا سکتی ہے۔
صورتحال کی سنگینی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ اگر کوئی الاٹی میونسپل کمیٹی کو دس ہزار روپے ماہانہ کرایہ ادا کر رہا ہو لیکن وہی دکان آگے تیس ہزار روپے ماہانہ پر دے رکھی ہو تو اس فرق سے اصل نقصان سرکاری خزانے اور بالآخر عوام کو پہنچتا ہے۔ اگر یہ طرزِ عمل کئی برسوں سے جاری ہے تو مجموعی مالی نقصان کروڑوں روپے تک پہنچ سکتا ہے۔ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ کمرمشانی حکومت کو مختلف مدات میں قابلِ ذکر ریونیو فراہم کرتا ہے لیکن اس کے باوجود شہری آج بھی پینے کے صاف پانی، نکاسی آب، صفائی اور دیگر بنیادی سہولیات سے محروم ہیں۔ اگر میونسپل کمیٹی کی آمدن مکمل شفافیت کے ساتھ شہری فلاح پر خرچ کی جاتی تو آج کمرمشانی کی صورتحال یقیناً مختلف ہوتی۔ چند برس قبل اس وقت کے ڈپٹی کمشنر ڈاکٹر ناصر محمود بشیر اور اس وقت کے اسسٹنٹ کمشنر تحصیل عیسیٰ خیل چوہدری جعفر نے مبینہ بے ضابطگیوں کے حوالے سے کارروائی کا آغاز کیا تھا مگر ان کے تبادلوں کے بعد یہ عمل آگے نہ بڑھ سکا۔
اب ضلع میانوالی کے نئے ڈپٹی کمشنر شاہد عباس کاٹھیہ اور اسسٹنٹ کمشنر تحصیل عیسیٰ خیل خلیل احمد سے عوام کو توقعات وابستہ ہیں۔ اگر واقعی میونسپل کمیٹی کی املاک کے انتظام میں بے ضابطگیاں موجود ہیں تو ان کی مکمل، شفاف اور غیر جانبدارانہ تحقیقات ہونی چاہئیں تاکہ حقائق سامنے آ سکیں اور ذمہ دار عناصر قانون کے مطابق جواب دہ ہوں۔ اسی طرح اگر ضرورت محسوس ہو تو اس معاملے کی تحقیقات ضلع میانوالی کے ہر دل عزیز آفیسر اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ ناصر عزیز خان کے سپرد کی جا سکتی ہیں جو کہ پروفیشنل اور میرٹ پر انکوائری کرنے کے ماہر ہیں تاکہ تمام ریکارڈ، لیز معاہدوں، کرایہ داری اور سرکاری وصولیوں کا جامع آڈٹ کیا جا سکے۔ احتساب کا مقصد کسی فرد یا گروہ کو نشانہ بنانا نہیں بلکہ عوامی وسائل کا تحفظ اور قانون کی بالادستی کو یقینی بنانا ہے۔
کمرمشانی کے شہریوں کا حق ہے کہ ان کے شہر کی سرکاری املاک سے حاصل ہونے والی آمدن انہی کی فلاح و بہبود پر خرچ ہو۔ شفافیت، احتساب اور قانون پر عمل درآمد ہی وہ راستہ ہے جو اس شہر کو اس کا حقیقی حق دلا سکتا ہے۔
واپس کریں