عصمت اللہ نیازی
گذشتہ دن سابق صوبائی وزیر آبپاشی اور مسلم لیگ ن کے صوبائی عہدیدار امانت الله خان شادی خیل نے اپنے آبائی علاقہ کمرمشانی شادی خیل ہاؤس میں تحصیل عیسیٰ خیل کے صحافیوں کو ظہرانے پر بلایا اور ایک میڈیا ٹاک بھی کی۔ مقامی صحافیوں میں عمومی تاثر یہی پایا جاتا ہے کہ امانت الله خان سمیت شادی خیل برادران نہ مقامی میڈیا کے ساتھ زیادہ میل جول رکھتے ہیں اور نہ ہی انہیں پسند کرتے ہیں اور اس تاثر کے درست ہونے کا ثبوت یہ بھی ہے کہ کئی سالوں بعد شادی خیل ہاؤس میں تحصیل بھر کے صحافیوں کی یہ پہلی باضابطہ دعوت تھی ۔ اس نشست میں تحصیل بھر کے تقریباً تمام صحافی موجود تھے جبکہ امانت الله خان کے کچھ قریبی سیاسی بھی شریک ہوئے جن میں کمرمشانی سے عنایت الله خان ننزائی ، کالاباغ سے رضی شیخ اور کوٹ چاندنہ سے امیر عبداللہ سمیت کچھ لوگ شامل تھے۔ اس میڈیا ٹاک کا آغاز امانت الله خان کے کہنے پر عیسیٰ خیل سے ہمارے سینئر صحافی عامر ہاشمی کی تلاوت قرآن پاک سے ہوا اور اس کے بعد امانت الله خان شادی خیل نے صحافیوں کو 12 فروری کے وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز کے دورہ میانوالی کے بارے میں مختصر بریفنگ دی اور پھر کہا کہ اب میدان کھلا ہے جو صحافی سوال پوچھنا چاہے وہ بلاجھجک پوچھ سکتا ہے۔ سوال و جواب کا سلسلہ کمرمشانی سے تعلق رکھنے والے بول نیوز کے نمائندہ بلال خان نے اپنے سوال سے کیا میانوالی سے ممبر صوبائی اسمبلی علی حیدر نور خان نے منتخب ہوتے ہی پنجاب حکومت سے میڈیکل کالج اور ٹیچنگ ہسپتال جیسے بڑے منصوبے منظور کرائے ہیں تو آپ وزیر اعلیٰ پنجاب کے دورے کے دوران تحصیل عیسیٰ خیل میں کون سے منصوبوں کا اعلان کرائیں گے ۔ اس کے جواب میں امانت الله خان نے کہا کہ ایک تو علی حیدر نور خان منتخب ایم پی اے ہیں اور میں غیر منتخب شخص ہوں جن کے درمیان حکومت کی نظر میں بہت فرق ہوتا ہے دوسرا میانوالی چونکہ ہیڈ کوارٹر بھی ہے جس کی وجہ سے وہاں بڑے عوامی منصوبے بنائے جاتے ہیں جن سے ضلع بھر کی عوام مستفید ہوتی ہے۔ ایک اور صحافی کی جانب سے کئے گئے سوال کہ تحصیل عیسیٰ خیل پنجاب کی بہت پرانی تحصیل ہے اور یہاں پر گذشتہ کئی سالوں سے آپ حکومت کا بھی حصہ رہے ہیں لیکن یہ پسماندہ ترین تحصیل کا درجہ رکھتی ہے کے جواب میں کہا کہ کس نے کہا ہے تحصیل عیسیٰ خیل پسماندہ تحصیل ہے یہ بالکل غلط بات ہے کیونکہ تحصیل عیسیٰ خیل کے پہاڑ ہر قسم کی قیمتی ترین دھاتوں سے بھرے پڑے ہیں۔ انھوں نے یہاں مزید کہا کہ انھوں نے اپنے سابقہ دور اقتدار میں اس تحصیل میں صحت اور تعلیم سمیت تمام شعبہ جات میں بے شمار ترقیاتی کام کروائے ہیں لیکن انہیں افسوس ہوتا ہے کہ تحصیل عیسیٰ خیل کی عوام انہیں کریڈٹ اور ووٹ نہیں دیتی جس کی وجہ سے وہ اسمبلی سے باہر ہیں۔ انھوں نے ایک سوال کے جواب میں موجودہ وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز کے ضلع میانوالی میں بہت سے کام بھی گنوائے جن میں گرین بس سروس ، محکمہ تعلیم میں اساتذہ کی آن لائن ٹرانسفر کا نظام ، محکمہ صحت میں ریفارمز سمیت بہت سے منصوبے شامل ہیں۔ کالاباغ سے سینئر صحافی اور اے آر وائی نیوز کے نمائندہ جنید خان نے سوال کیا کہ آپکی سوشل میڈیا ٹیم جدید تقاضوں کے مطابق نہیں ہے جس کی وجہ سے بقول آپ کے اتنے زیادہ ترقیاتی کام کروانے کے باوجود بھی آپ کو لوگ ووٹ کیوں نہیں دیتے اور کیا آپ نے اس سلسلہ میں کوئی نئی حکمت عملی تجویز دی ہے؟ اس سوال کے جواب میں بھی امانت الله خان نے عوام سے یہی گلہ کیا کہ لوگ مجھے ووٹ نہیں دیتے لیکن میں علاقہ کی خدمت اپنی حیثیت کے مطابق جاری رکھوں گا۔ میں نے جنید خان کے سوال کو آگے بڑھاتے ہوئے سوال کیا کہ آپ کے سامنے علاقہ کے مسائل پیش کرنا ایسا ہی ہے جیسے سورج کو چراغ دکھانا ہو کیونکہ آپ نہ صرف اسی پسماندہ علاقہ کے رہائشی ہیں بلکہ گذشتہ چالیس سال سے اسی حلقہ میں سیاست بھی کر رہے ہیں۔ میں نے کہا کہ بقول آپ کے آپ نے اتنے زیادہ ریکارڈ ترقیاتی کام کروائے ہیں تو لوگ پھر بھی آپ کو ووٹ نہیں دیتے تو کیا لوگوں میں شعور کی کمی ہے ؟ اور اگر شعور کی کمی ہے تو شعور تعلیم سے آتا ہے لیکن آج سے دس سال قبل علاقہ کا واحد کیڈٹ کالج تعمیر ہوا تھا لیکن اس میں ابھی تک چند دھاڑی دار اساتذہ کام کر رہے ہیں اس جانب آپ نے کوئی توجہ نہیں دی دوسری جانب گورنمنٹ پوسٹ گریجویٹ گرلز کالج میں کئی سالوں سے اساتذہ نہ ہونے کے برابر ہیں اور ہمارے جنگ سے تعلق رکھنے والے سینئر صحافی سلیم خان سمیت کئی صحافی سال ہا سال سے سٹاف کی کمی کا رونا رو رہے ہیں لیکن کسی کے کان پر جوں تک نہیں رینگی ۔ اسی طرح گورنمنٹ ہائیر سیکنڈری سکول کمرمشانی میں سٹاف کی شدید کمی ہے۔ میں نے کہا کہ اگر آپ ہمیں باشعور کرنا چاہتے ہیں تو ہمیں تعلیم دیں تاکہ ہم آپ کو ووٹ دیں۔ ان تمام سوالات کے جواب امانت الله خان شادی خیل نے سیاسی طور پر گول مول کر کے دے دئیے۔ پنجاب حکومت کی کارکردگی بیان کرتے ہوئے جب انھوں نے پنجاب حکومت کی صوبائی پالیسی کے چند منصوبوں کا جب انھوں نے ذکر کیا تو ایک صحافی نے پوچھا کہ یہ تو وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز کے پورے پنجاب کیلئے منصوبے ہیں جو تحصیل عیسیٰ خیل کو بھی صوبائی پالیسی کے مطابق ملیں گے لیکن آپ بطور علاقہ کے سیاسی نمائندہ کے کون سے منصوبے لے کر آئیں گے تو اس کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ وہ کوشش کریں گے۔
یہ تو اس میڈیا ٹاک کا ایک مختصر احوال تھا جو میں نے آپ کے سامنے پیش کیا لیکن اب بطور صحافی ایمان داری سے شادی خیل گروپ کی سیاسی کارکردگی کا مختصر جائزہ لے لیتے ہیں۔ جب امانت الله خان شادی خیل کے والد محترم مرحوم حاجی غلام رسول خان سیاست میں آئے تو اس وقت نہ سوشل میڈیا تھا نہ عوام میں اتنا سیاسی شعور تھا جتنا اب ہے لیکن ضلع بھر میں اس وقت کئی سیاسی طور پر بڑے مگرمچھ موجود تھے جن میں نواب آف کالاباغ ، روکھڑی خاندان اور عیسیٰ خیل کے خوانین وغیرہ اور اس وقت ان سب کا طوطی بولتا تھا اور ایسی سیاسی صورتحال میں عام طبقہ سے کسی سادہ سے شخص کا سیاست میں قدم رکھنا تقریباً ناممکن تھا لیکن اس کے باوجود غلام رسول خان سیاست میں آئے اور کامیاب ہو کر بھی دکھایا ۔ چونکہ وہ پرانے اور روایتی لوگ تھے غلام رسول خان اور لوگوں کے درمیان نہ تو دس سیکیورٹی گارڈز کی خلیج موجود تھی اور نہ ہی لینڈ کروزر کے شیشوں اور عوام کے درمیان کالے پیپرز موجود تھے۔ میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا ہوا ہے کہ سڑک پر گاڑی میں جاتے ہوئے رک کر اتر آتے اور کسی ہوٹل کے بینچ پر بیٹھ جاتے یا پھر جب بھی کمرمشانی میں موجود ہوتے تو روزانہ عبد الستار خان ننزائی کے چائے ڈپو پر ہمارے بزرگوں کے ساتھ بیٹھتے جن میں طالب جان خان ننزائی ، ملک غلام شبیر رانجھے والا، حاجی غلام حسین قصاب، دادا نُور خان تانی خیل، شاہ ولی خان تالی خیل اور مشتاق خان ذیلدار سمیت کئی بزرگ شامل تھے۔ کمرمشانی کے وہ بزرگ ہی ان کے مشیر تھے وہی ان کے ناقد تھے اور وہی ان کی اپوزیشن تھی جو انہیں بغیر لحاظ کئے علاقہ کے لوگوں کی رائے بتاتے اور ان کی غلطیوں کی نشان دہی بھی کرتے۔ غلام خان نے اپنے دور اقتدار میں دیہات سے منڈی کے لئے بے شمار لنک روڈ تعمیر کرائے جس کی وجہ سے پورا خٹک بیلٹ سمیت گردونواح کے مقامی لوگ کمرمشانی کالاباغ اور عیسیٰ خیل کا رُخ کرتے جس سے تجارت بڑھی اور علاقہ نے ترقی کا آغاز کیا۔ غلام رسول خان عام آدمی کو عزت دیتے جس کے بدلے میں لوگ بھی ان سے پیار کرتے جس کے نتیجہ میں غلام رسول خان اس وقت کے روایتی سیاسی وڈیروں کے درمیان سے گزرتے ہوئے کامیاب ہو گئے۔ پھر حالات بدلے اور دور آ گیا کے بیٹوں عبیداللہ خان اور امانت الله خان شادی خیل کا، جو ایک طرف تو آہستہ آہستہ عوام سے دور ہونے لگے جبکہ دوسری طرف عمران خان جیسی شخصیت اس علاقہ میں سیاسی طور پر وارد ہو گئے۔ عمران خان چونکہ نہ صرف قومی لیول کے سیاسی انسان بلکہ بین الاقوامی شخصیت تھے اور جب وہ یہاں آئے تو شادی خیل برادران کو ان کے سامنے کوئی جدید لائحہ عمل بنانے کی ضرورت تھی تاکہ وہ یہاں اپنے پاؤں پکے نہ کر سکیں لیکن شادی خیل برادران نے ان کے خلاف روایتی سیاست دانوں والا طریقہ اپنایا جا کی وجہ سے انہیں عمران خان کے مقابلہ میں انہیں کامیابی نہ مل سکی اور ان کا ووٹ بنک ہر الیکشن میں کم ہونا شروع ہو گیا اور اب یہ صورتحال ہے کہ بس کچھ ہزار رہ گیا ہے۔ اور اگر یہ صورتحال برقرار رہی تو امانت الله خان کے سیاسی مشیروں کی نظر میں شاید ان کا ووٹ بنک بہت بڑھ رہا ہو گا لیکن اصل صورتحال اس کے بالکل برعکس ہے۔ غلام رسول خان اور ان کے درمیان یہی فرق ہے کہ وہ عوام میں بیٹھ کر براہِ راست عوامی رائے لیتے تھے لیکن موصوف کے گرد ہر وقت ایک ٹولہ موجود رہتا ہے جو ہر وقت سب اچھا کی رپورٹ دیتا ہے کہ جناب سرداریاں قائم، بھاگ لگے رہنڑ ، سب لوگ ہماری طرح آپکے ہی گّن گاتے ہیں لیکن جب الیکشن آتا ہے تو پھر ساری صورتحال سامنے آ جاتی ہے لیکن افسوس کا مقام ہے کہ شادی خیل برادران اس ماحول کو بدلنے کی کوشش نہیں کرتے بلکہ امانت الله خان شکایت کرتے ہیں کہ عوام انھیں ووٹ اور کریڈٹ نہیں دیتی۔ اب میں یہاں وہ لطیفہ نہیں لکھ سکتا جس میں ایک پٹھان کی اولاد پیدا نہیں ہوتی اور وہ ڈاکٹر کے پاس جاتا ہے ڈاکٹر جب اس کا چیک اپ کرتا ہے تو وہ ڈاکٹر سے کہتا ہے ڈاکٹر صاحب میں بیوی بدل لُوں؟ تو اس کے جواب میں ڈاکٹر کہتا ہے کہ آپ بیوی نہ بدلیں بلکہ۔۔۔بدل لیں
میری یہاں امانت الله خان شادی خیل سے بھی درخواست ہے کہ وہ عوام کو گلہ دینے کی بجائے اپنی اداؤں پر ذرا غور کریں۔ آپ تو ہمارے اپنے علاقہ کے ہیں، ہمارے بھائی ہیں، ہمارے درمیان رہتے ہیں لیکن آپ کو ووٹ نہیں ملتے بلکہ باہر سے آنے والے ایک شخص نے حلقہ پر قبضہ کر لیا ہے تو یہ کمزوری تو آپ کی بنتی ہے۔ ابھی بھی وقت ہے عوام اور اپنے درمیان گارڈز کی دیوار کم کریں لینڈ کروزر اور عوام کے درمیان کالے شیشے ختم کریں۔ اپنے والد محترم کی طرح کوئی عبد الستار خان ننزائی کا ڈپو ڈھونڈیں، ملک غلام شبیر رانجھے والا کا ڈیرہ تلاش کریں یا طالب جان ننزائی کے آرہ مشین کے چھپر کا پوچھیں، اپنی عوام کے ساتھ گُھل مل جائیں، آپ جتنا عوام سے دُور جائیں گے عوام دوگنا آپ سے دور بھاگے گی ۔ میں آپ کو یقین دلاتا ہوں آپ ایک قدم بڑھائیں عوام پانچ قدم آگے آئے گی۔ روایتی سیاست کو بدلیں ۔ نیا دور ہے، نئی نسل ہے جسے جنریشن زی کہتے ہیں یہ بہت تیز اور چالاک ہیں۔ ہم ان کے ساتھ بیٹھتے اور ان کے خیالات پڑھتے ہیں۔ ان سے ووٹ لینے ہیں تو ان کے دماغ کے ساتھ اپنا دماغ آپ ڈیٹ کریں۔ اپنا سیاسی مشیروں کا ٹولا بدلیں، اپنی سوشل میڈیا ٹیم نئے زمانہ کے ساتھ ہم آہنگ کریں۔ ایک پروفیشنل سوشل میڈیا ٹیم کسی پڑھے لکھے شخص کی نگرانی میں ترتیب دیں۔ لوگوں کو اپنی بات سنائیں اور لوگوں سے اُن کی باتیں سننے کا فورم ترتیب دیں میں یقین دلاتا ہوں کہ ہماری عوام اتنی بری نہیں جتنی آپ سمجھتے ہیں۔ اگر آپ نے سیاست کرنی ہے اور ووٹ لینے ہیں تو یہ سب کام آخرکار آپ کو کرنے پڑیں گے لیکن میرا مشورہ ہے کہ وقت ضائع کرنے کی بجائے ابھی سے شروع کر دیں کیونکہ آپ بہت سا وقت ضائع کر چکے ہیں۔۔
واپس کریں