عصمت اللہ نیازی
پنجاب کے مختلف علاقوں اور خاص کر ضلع میانوالی میں حالیہ دنوں ایک ایسا رجحان سامنے آیا ہے جس نے سنجیدہ حلقوں کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔ علاقہ کے نوجوان جو سر پر لمبے بال رکھ کر اپنی موٹر سائیکل تیز رفتاری اور غیر ذمہ دارانہ ڈرائیونگ سے چلاتے ہیں یا پھر سوشل میڈیا پر نامناسب زبان کے استعمال میں ملوث ہوتے ہیں ان کو مالگرہ کا نام دیا جاتا ہے۔ گذشتہ ایک ماہ اور خاص کر عیدالفطر سے پولیس کے محکمہ میں یہ ٹرینڈ متعارف کرا دیا گیا ہے کہ ان نوجوانوں کو گرفتار کرنے کے بعد تھانہ میں ان کے سر منڈوا دیے جاتے ہیں اور پھر ان کی ویڈیوز بنا کر سوشل میڈیا پر نشر کی جاتی ہیں جن میں وہ اپنے کئے پر معافی مانگتے دکھائی دیتے ہیں۔ بظاہر یہ اقدام کسی مجرم کو سبق سکھانے کے طور پر پیش کیا جاتا ہے لیکن درحقیقت یہ کئی سنگین اخلاقی، قانونی اور مذہبی سوالات کو جنم دیتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا ریاستی اداروں کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ کسی شہری کی تذلیل کریں؟ کیا قانون میں اس قسم کی سزا کی کوئی گنجائش موجود ہے؟ اور کیا اسلام اس طرح کی سزا کی اجازت دیتا ہے؟ پاکستان ایک نام نہاد ہی سہی لیکن ایک آئینی ریاست تو ہے جہاں ہر سزا قانون کے مطابق اور عدالت کے ذریعے دی جاتی ہے۔ پولیس کا کام ملزم کو گرفتار کر کے شواہد اکٹھے کرنا اور عدالت کے سامنے پیش کرنا ہے نہ کہ خود سزا دینا۔ پاکستان کے پورے قانونی ڈھانچہ میں کہیں بھی ایسی کوئی شق موجود نہیں جو پولیس کو یہ اختیار دے کہ وہ کسی ملزم کا سر منڈوا دے یا اسے عوامی سطح پر رسوا کرے۔ آئینِ پاکستان کا آرٹیکل 14 واضح طور پر کہتا ہے کہ "انسانی وقار اور گھر کی حرمت کو ناقابلِ تنسیخ حق حاصل ہے” یعنی کسی شخص کی عزتِ نفس کو مجروح کرنا آئینی خلاف ورزی ہے۔ دوسری طرف پکستان پینل کوڈ کی دفعہ 500 (ہتک عزت) اور دیگر متعلقہ دفعات اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ کسی فرد کی تذلیل کرنا جرم ہو سکتا ہے، چاہے وہ سرکاری کسی اہلکار کے ہاتھوں ہی کیوں نہ ہو۔ اِسی طرح اگر کسی شخص کو زبردستی اس کی مرضی کے خلاف جسمانی طور پر نقصان پہنچایا جائے جس میں جیسے سر منڈوانا بھی شامل ہے تو یہ دفعہ 337 بی یا پھر 351 اور 352 کے زمرے میں آ سکتا ہے۔گویا اس سے یہ بات تو واضح ہے کہ سزا صرف عدالت دے سکتی ہے پولیس نہیں۔
ہمارا مذہب ایک عالمگیر مذہب ہے جس میں انسان کی عزت و تکریم پر بہت زور دیتا ہے۔ قرآنِ مجید میں ارشاد ہے، "وَلَقَدْ كَرَّمْنَا بَنِي آدَمَ” (بنی آدم کو ہم نے عزت دی). یہ آیت اس بات کی واضح دلیل ہے کہ ہر انسان چاہے وہ گناہ گار ہی کیوں نہ ہو اپنی بنیادی عزت رکھتا ہے۔ نبی کریم ﷺ کا ارشاد ہے، "مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں”۔ کسی شخص کی تذلیل کرنا اس کا مذاق بنانا یا اسے عوام کے سامنے رسوا کرنا اسلامی تعلیمات کے سراسر خلاف ہے۔ یہاں تک کہ اسلام میں مجرم کو بھی عزت کے ساتھ سزا دینے کا حکم ہے۔
سوشل میڈیا پر کچھ ذہنی غلام اور محکمہ پولیس کے ٹاؤٹ قسم کے لوگ نہ صرف پولیس کے اس غیر قانونی اور غیر اخلاقی اقدام کی حمایت کرتے دکھائی دیتے ہیں بلکہ یہ دلیل بھی پیش کرتے ہیں کہ اس طرح کے اقدامات سے نوجوانوں کو سبق ملتا ہے۔ مگر حقیقت اس کے برعکس ہے کہ ایک طرف تو یہ عمل نوجوانوں میں نفرت اور بغاوت پیدا کرتا ہے جبکہ دوسری طرف اس سے نوجوان نسل میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کی ساکھ جو کہ پہلے ہی نہ ہونے کے برابر ہے، متاثر ہوتی ہے۔ کیونکہ ایسے اقدامات سے معاشرے میں تذلیل کو سزا کا متبادل سمجھا جانے لگتا ہے اور انکی بنائی گئی ایسی ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل ہو کر انسانی وقار کی مزید پامالی کا سبب بنتی ہیں۔ ترقی یافتہ اور پڑھی لکھی قوموں میں یہ روایت آپ نے کبھی بھی نہیں دیکھی ہو گی وہاں اصلاح کا راستہ تعلیم، آگاہی اور قانون کی درست عملداری ہے کے ذریعے اپنایا جاتا ہے ہمارے جو دوست باہر ممالک میں رہتے ہیں وہ اس بات کی گواہی دیں گے کہ وہاں پر اگر آپ دوران ڈرائیونگ دو تین مرتبہ ٹریفک قوانین توڑ دیں تو آپکو جرمانہ ہوتا ہے اور پھر آپ کا اگر لائسنس ایک بار معطل ہو جائے تو دوبارہ آپ کو سوشل سنٹر سے کچھ اخلاقی ٹریننگ کر کے آپکو ایک سرٹیفکیٹ حاصل کرنا پڑتا ہے جہاں آپ کو وہ اخلاقیات اور قانون کی پاسداری کے لیکچر دیتے ہیں اور تب جا کر آپکے لائسنس کی تجدید ہوتی ہے۔ بظاہر تو یہ ایک چھوٹی سی بات لگتی ہے لیکن پڑھی لکھی قومیں بنیاد سے ہی انسان کے ذہن میں قانون اور اخلاق کی پیروی سکھانے کی کوشش کرتی ہیں نہ کہ ذلت اور تضحیک کا راستہ اپناتی ہیں کیونکہ ریاست کا بنیادی فرض شہریوں کے جان و مال اور عزت کا تحفظ ہے اور اگر خود ریاستی ادارے ہی شہریوں کی تذلیل شروع کر دیں تو پھر انصاف کا تصور کہاں باقی رہ جاتا ہے؟ اس طریقہ اصلاح سے جہاں متاثرہ شخص کے دل میں ادارے اور ریاست کے خلاف نفرت پیدا ہوتی ہے وہاں پولیس کے اہلکاروں میں بھی ظلم کرنے کی جانوروں والی جبلت سر اٹھاتی ہے اور ایسی مذموم حرکات کرنے سے پھر انہیں نفسیاتی سکون ملتا ہے اور وہ ظلم اور زیادت کے اس راستہ پر چل کر قانون کو اپنے جوتے کی نوک پر رکھتے ہیں اسی وجہ سے آپ نے دیکھا ہو گا کہ کسی پولیس اہلکار نہ اپنے افسران کی بات مانتے ہیں اور نہ عدالتوں کے احکامات بلکہ اپنی من مرضی کو قانون سمجھتے ہیں۔ ایسی سزاؤں سے معاشرے نہیں سدھرتے بلکہ ان کیلئے بچوں اور نوجوان نسل کے دماغ میں قانون کا احترام ڈالا جاتا ہے۔ اس دور میں بھی جب دنیا کہاں سے کہاں پہنچ چکی ہے ہم نوجوانوں کو جانوروں کی طرح ڈنڈے کے زور پر سیدھا کرنے کی روش پر چل رہے ہیں۔ انسان ڈنڈے سے وقتی طور پر تو شاید خاموش ہو جائے لیکن اس کا رسپانس بہت خطرناک ہوتا ہے۔ پولیس کو چاہیے کہ وہ نوجوان نسل کی ان غلطیوں کو سدھارے کیلئے نہ صرف مختلف تعلیمی اداروں میں لیکچر ڈیلیور کریں بلکہ جمعہ کے دن مساجد میں جا کر نوجوانوں کو سمجھائیں۔ اس پر مختلف شہروں اور علاقوں میں ریلیاں منعقد کریں۔ اس کو پڑھے لکھے طریقہ سے حل کرنے کی کوشش کریں اور اگر ایسا نہیں کرتے تو نوجوان نسل کی تذلیل کے اس غیر قانونی اور غیر انسانی فعل کو یہاں ہی روکنا ہو گا ورنہ آج یہ کسی شرارتی نوجوان کے ساتھ ہو رہا ہے تو کل کئی بے گناہ لوگوں کے ساتھ بھی ہو گا۔ نوجوانوں کی غلطیاں اپنی جگہ لیکن ان کی تذلیل کسی بھی صورت قابلِ قبول نہیں۔ سر منڈوانا نہ تو قانونی سزا ہے اور نہ اسلامی تعلیمات اس کی اجازت دیتی ہیں اور نہ ہی یہ معاشرہ کی اصلاح کا ذریعہ ہے۔ میری ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر میانوالی سے خصوصی درخواست ہے کہ وہ فی الفور ضلع میانوالی کے تھانوں میں ان غیر قانونی اور غیر اخلاقی اقدامات کو روکنے کے احکامات جاری کریں۔ دوسری طرف میری سول سوسائٹی ، ڈسٹرکٹ پریس کلب اور ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر سے بھی درخواست ہے کہ وہ پولیس کے ان غیر انسانی اقدامات کے خلاف ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج اور ہائی کورٹ راولپنڈی بینچ میں رٹ دائر کریں۔ جبکہ متاثرہ فریقین بھی سوشل میڈیا پر اپنی تذلیل کی ویڈیوز دیکھنے کی بجائے مل کر اجتماعی طور پر ہائیکورٹ راولپنڈی بینچ میں مشترکہ طور پر کیس دائر کریں اور خود عزت مآب چیف جسٹس کے سامنے اسی حالت میں پیش ہو کر صورتحال سے آگاہ کریں۔
اگر ہم ایک مہذب اور قانون کی پاسداری کرنے والا معاشرہ چاہتے ہیں تو ہمیں قانون کو ہاتھ میں لینے کے بجائے اس کی عملداری کو یقینی بنانا ہو گا۔ قانون کی حکمرانی تب ہی قائم ہو گی جب قانون سب پر یکساں لاگو ہو گا چاہے اس کی خلاف ورزی کرنے والوں میں وردی والے بھی شامل ہوں۔
واپس کریں