آفات اور جنگیں عوام کیلئے زحمت حکمرانوں کیلئے رحمت
عصمت اللہ نیازی
پاکستان کی سیاست کا ایک المیہ یہ بھی ہے کہ یہاں قدرتی آفات اور عالمی بحران اکثر عوام کیلئے مصیبت اور حکمرانوں کیلئے مواقع بن جاتے ہیں۔ 2005 کا زلزلہ ہو، 2010 کا سیلاب ہو یا پھر کرونا وائرس جیسی وبا ہو یا پھر امریکہ اور اسرائیل کی جنگ ہو پاکستان میں اس کے اثرات سب سے پہلے عوام کی جیب پر پڑتے ہیں ۔ بدقسمتی سے یہاں ہر بحران کے بعد غریب عوام کے لئے مہنگائی کا ایک نیا طوفان اٹھتا ہے اور حکمران اسے مجبوری کا نام دے کر عوام کے سامنے پیش کر دیتے ہیں۔ حالیہ دنوں مشرقِ وسطیٰ میں ایران کے گرد پیدا ہونے والی کشیدگی کو بنیاد بنا کر پاکستان میں پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں ایک ہی جھٹکے میں 55 روپے فی لیٹر اضافہ کر دیا گیا جس کے بعد ملک میں پیٹرول کی قیمت تین سو روپے فی لیٹر سے بھی اوپر جا پہنچی۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ حکومتی حلقے خود یہ دعویٰ کر رہے تھے کہ پاکستان کے پاس کم از کم ایک ماہ کا پیٹرولیم مصنوعات کا ذخیرہ موجود ہے جو کہ یقیناً پہلے سے عالمی منڈی سے پرانی قیمتوں پر خریدا جا چکا تھا اور یہی وہ نکتہ ہے جہاں سے سوال جنم لیتا ہے کہ اگر ملک میں پہلے سے موجود ذخیرہ پرانی قیمتوں پر خریدا گیا تھا تو پھر قیمتوں میں اتنا بڑا اور فوری اضافہ کیوں کیا گیا؟ اس فیصلے کا سب سے بڑا فائدہ کس کو ہوا؟ حقیقت یہ ہے کہ پاکستان میں پیٹرول کی قیمت کا ایک بڑا حصہ ٹیکسوں پر مشتمل ہوتا ہے۔ اس حکومت کے ایک سابق وزیر خزانہ کے بقول اس وقت ایک لیٹر پیٹرول پر حکومت تقریباً ایک سو سے ایک سو پچیس روپے تک ٹیکس وصول کر رہی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ عوام صرف ایندھن خرید نہیں رہے بلکہ ہر لیٹر کے ساتھ اس مہنگائی کا ایندھن بن بھی رہے ہیں۔ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اچانک اضافہ کا فائدہ صرف حکومت تک محدود نہیں رہتا بلکہ پورے پیٹرولیم کاروباری ڈھانچہ کو اس کا فائدہ پہنچتا ہے جس پر اس ملک کے بڑے لوگوں کا قبضہ ہے۔ جہاں تک میرے علم ہے ہمارے علاقہ کے ایک عام پمپ پر قیمتوں میں اضافہ کے وقت تقریباً ایک لاکھ لیٹر تیل موجود تھا اور قیمت میں پچاس یا پچپن روپے فی لیٹر اضافہ ہو جانے مالکان کو تقریباً پچاس لاکھ روپے کا اضافی فائدہ ہوا ہے اب اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ ملک بھر میں موجود ہزاروں پٹرول پمپس اور بڑی کمپنیوں کو اس فیصلہ سے مجموعی طور پر کتنے ارب روپے کا فائدہ پہنچتا ہو گا اور آپ سوچیں کہ پاکستان تحریک انصاف کی سابق حکومت کے دوران اسی طرح کے ایک پیٹرولیم سکینڈل کی جب تحقیقات کی گئیں تو اس میں کتنے حکومتی لوگ ملوث نکلے ۔
مزید حیران کن بات یہ ہے کہ پاکستان کے علاوہ اسی خطہ کے کئی ممالک نے اتنی سخت پالیسی اختیار نہیں کی۔ بھارت، بنگلہ دیش اور حتیٰ کہ معاشی مشکلات کے شکار افغانستان میں بھی پیٹرول کی قیمتوں میں اس طرح کا اچانک اور بڑا اضافہ دیکھنے میں نہیں آیا۔ اگر ہمارے حکمران عوام کے ساتھ مخلص ہوتے اور انہیں اپنی جیب کی بجائے عوام کا احساس ہوتا تو عالمی منڈی میں قیمت بڑھنے کے باوجود ٹیکس کم کر کے عوام کو وقتی ریلیف دینے کی کوشش کرتے لیکن ان کو تو لوگوں کی جیب پر ڈاکہ مارنے کیلئے بس موقع چاہیے تھا جس سے انھوں نے خوب فائدہ اٹھایا۔ ایران کے حوالہ سے آبنائے ہرمز کے بارے میں بھی مختلف خدشات سامنے آئے ہیں مگر حقیقت یہ ہے کہ اس سمندری راستہ سے گزرنے والے تیل بردار جہازوں کے حوالہ سے مکمل بندش کی کوئی واضح صورتحال پیدا نہیں ہوئی۔ بعض اطلاعات کے مطابق زیادہ تر خدشات یورپی ممالک کی سپلائی کے بارے میں تھے جبکہ جنوبی ایشیا کیلئے فوری بحران کی کیفیت پیدا نہیں ہوئی۔ دنیا کے کئی ممالک میں اگر تیل کی قیمتوں میں معمولی ردوبدل ہوا بھی ہے تو وہ مرحلہ وار کیا گیا ہے تاکہ عوام پر اچانک بوجھ نہ پڑے۔ لیکن پاکستان میں الٹی گنگا بہتی ہے یہاں عالمی بحران کا پہلا اثر عوام پر پڑتا ہے اور سب سے زیادہ فائدہ حکومتی ریونیو اور کاروباری حلقوں کو پہنچتا ہے۔ یہ حقیقت تلخ ضرور ہے مگر نظر انداز نہیں کی جا سکتی کہ پاکستان میں قدرتی آفات اور عالمی جنگیں عوام کیلئے آزمائش جبکہ حکمرانوں کیلئے مالی مواقع بن جاتی ہیں۔ جب تک حکمرانی کا محور عوامی فلاح کی بجائے مالی فائدہ اور ٹیکس وصولی رہے گا تب تک ہر عالمی بحران پاکستان کے عام آدمی کیلئے ایک زحمت جبکہ حکمرانوں کیلئے رحمت کا پیغام لے کر آتا رہے گا اور شاید اسی لئے یہاں اکثر یہ تاثر مضبوط ہوتا جا رہا ہے کہ دنیا میں کہیں بھی کوئی بحران پیدا ہو اس کی سب سے بڑی قیمت آخرکار پاکستانی عوام ہی ادا کرتے ہیں۔۔۔
واپس کریں