عصمت اللہ نیازی
پاکستان میں ترقی کا ایک منفرد ماڈل رائج ہے۔ ایسا ماڈل جس میں زمینی حقائق کی کوئی حیثیت نہیں بس کاغذوں میں سب کچھ “بہتر” نظر آنا چاہیے۔ یہاں پالیسی وہی ہوتی ہے جو کسی کرسی پر بیٹھے صاحبِ اختیار کے ذہن میں آ جائے اور پھر اس پر عملدرآمد ایسے کروایا جاتا ہے جیسے وہ کوئی آسمانی صحیفہ ہو جس پر سوال اٹھانا گناہِ کبیرہ ہو۔ ہمارے نظام کی خوبصورتی دیکھیے کہ اختلافِ رائے کو نہ صرف ناپسند کیا جاتا ہے بلکہ اسے عملی طور پر ناممکن بنا دیا جاتا ہے۔ “تساں بالکل ٹھیک ہاؤ” کی پالیسی کے تحت ایسے اداروں میں انچارج تعینات کئے جاتے ہیں جو سوال کرنے کے بجائے سر جھکانے کے ماہر ہوں۔ نتیجہ یہ کہ ادارے چلانے کے بجائے محض حکم ماننے کی مشینیں تیار کی جا رہی ہیں۔ چاہے وہ تھانے ہوں یا تعلیمی ادارے۔ ان دنوں اسکولوں میں داخلوں کا سیزن ہے اور یوں محسوس ہوتا ہے جیسے تعلیمی ادارے نہیں بلکہ منڈیاں لگی ہوئی ہوں جہاں طلبہ کی “گنتی” بڑھانے کی دوڑ جاری ہے۔ معیار تعلیم جائے بھاڑ میں۔ بس تعداد بڑھنی چاہیے تاکہ رپورٹوں میں سب اچھا دکھائی دے۔ آخر ہمیں کوالٹی سے کیا لینا دینا، جب کوانٹٹی ہی ترقی کا پیمانہ ٹھہری ہو!
گورنمنٹ ہائی اسکول کمرمشانی کی مثال ہی لے لیجیے جہاں پہلے ہی طلبہ کی تعداد 2100 کے قریب ہے۔ ہر کلاس کے چار چار سیکشن اور ہر سیکشن میں ستر سے زائد طلبہ۔ مگر پھر بھی حکم صادر ہوا ہے کہ تعداد 2700 تک پہنچائی جائے ورنہ انجام کے لیے تیار رہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا یہ اسکول ہے یا کوئی انسانی گودام؟ اساتذہ کی صورتحال اس سے بھی زیادہ افسوسناک ہے جہاں 18 سبجیکٹ اسپیشلسٹ ہونے چاہئیں وہاں بمشکل 8 اساتذہ موجود ہیں۔ کلاس رومز کی کمی اپنی جگہ مگر طلبہ کو اس طرح ٹھونسا جا رہا ہے جیسے جگہ نہیں بلکہ بس گنتی اہم ہو۔ محکمہ تعلیم کی اپنی پالیسی پچاس طلبہ فی کلاس اور ایک واش روم فی پچاس طلبہ، محض فائلوں کی زینت بنی ہوئی ہے۔ گرمیوں میں یہ کلاس رومز کسی پولٹری فارم کا منظر پیش کرتے ہیں جہاں بچوں کا حال دیکھ کر یہ سوال شدت سے ذہن میں آتا ہے کہ ہم انہیں تعلیم دے رہے ہیں یا برداشت کی مشق کرا رہے ہیں؟ ایسے ماحول میں نہ استاد پڑھا سکتا ہے نہ طالب علم سیکھ سکتا ہے مگر رپورٹ میں سب کچھ “اطمینان بخش” لکھ دیا جاتا ہے۔ المیہ یہ ہے کہ یہ صورتحال کسی عام اسکول کی نہیں بلکہ ضلع میانوالی کے ایک نمایاں ادارے کی ہے جو سرگودھا ڈویژن کے بہترین اسکولوں میں شمار ہوتا ہے۔ اگر یہاں یہ حال ہے تو باقی اداروں کی تصویر یقیناً اس سے بھی زیادہ بھیانک ہو گی۔ حالیہ تعینات ہونے والے ضلعی تعلیمی افسر اگر واقعی اصلاح چاہتے ہیں تو انہیں چاہیے کہ زمینی حقائق کا سامنا کریں نہ کہ اعداد و شمار کے سہارے کامیابی کے خواب دیکھیں۔ محض داخلوں کی تعداد بڑھانے سے نہ تعلیمی معیار بہتر ہوتا ہے اور نہ ہی قومیں ترقی کرتی ہیں۔
چیف ایگزیکٹو ڈسٹرکٹ ایجوکیشن اتھارٹی جناب نذیر حسین چھینہ سے گزارش نہیں بلکہ سوال ہے کہ کیا آپ واقعی تعلیم کو بہتر بنانا چاہتے ہیں یا صرف فائلوں میں کامیابی کی کہانیاں لکھوانا مقصود ہے؟ اگر نیت پہلی ہے تو خدارا اسکولوں پر داخلوں کا دباؤ ڈالنے کے بجائے بنیادی سہولیات، اساتذہ کی کمی اور تدریسی ماحول کی بہتری پر توجہ دیجیے۔ ورنہ یہ “ترقی” بھی باقی شعبوں کی طرح صرف کاغذوں تک محدود رہ جائے گی اور حقیقت ایک بار پھر ہمارے بچوں کے مستقبل کا مذاق اڑاتی رہے گی۔
واپس کریں