دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
“خوف کا قانون، حکمرانی کا ہتھیار"
عصمت اللہ نیازی
عصمت اللہ نیازی
افغانستان میں حالیہ دنوں سامنے آنے والی آئینی و قانونی تشکیل نے ایک بار پھر یہ سوال زندہ کر دیا ہے کہ کیا ریاست کا کام انسان کو تحفظ دینا ہے یا ڈنڈے کے زور پر حکمرانی کرنا؟ ریاست کوئی بھی ہو چاہے جس خطہ ارض پر ہو وہ ہوتی تو جیتے جاگتے اور باشعور انسانوں پر مشتمل ہے نہ کہ جانوروں اور حیوانوں پر جن کو ڈنڈے کے زور پر اپنی مرضی سے چلایا جاتا ہے۔ جب قانون یہ طے کرنے لگے کہ کون بول سکتا ہے اور کون صرف برداشت کیا جائے گا تو یہ قانون نہیں بلکہ ایک سماجی زنجیر بن جاتا ہے جس نے اپنے شہریوں کو غلاموں کی طرح جکڑ رکھا ہوتا ہے۔ افغان قانون سازی میں بھی جنس اور عقیدہ کی بنیاد پر جو تقسیم سامنے آئی ہے وہ تاریخ کے ہندو مذہب کے قدیم ذات پات کے نظام کی سیاہ باب کی یاد دلاتی ہے جہاں منو سمرتی میں انسان کی قدر کا تعین اس کے جنم سے کیا جاتا تھا اور شودر کا جرم اور برہمن کی خطا ایک جیسی نہیں سمجھی جاتی تھی۔ اُن کا قانون سب کے لئے نہیں بلکہ طبقوں کے لئے تھا۔ آج اگر ایک معاشرے میں عورت ہونے کی تعریف ریاست طے کرے، بدعتی ہونے پر سزا مقرر ہو اور انسان کو اس کے عقیدے یا پیدائش کی بنیاد پر کمتر سمجھا جائے تو نام بدلنے سے نظام نہیں بدل جاتا بلکہ ایسے لگتا ہے کہ ایسے قوانین بنانے والوں میں منو سمرتی والوں کی روح حلول کر گئی ہے۔ ذات پات کے نظام میں بھی شودر کو بولنے کا حق نہیں تھا اور اگر وہ بولتے تو سخت سزا ملتی تھی آج بھی کچھ ریاستوں میں بولنے، سوال کرنے اور اختلاف کرنے پر کوڑے، قید یا خاموشی مسلط کی جا رہی ہے۔ فرق صرف یہ ہے کہ کل مذہبی کتابوں کی تشریح طاقتور کے ہاتھ میں تھی اور آج آئین کی تشریح انہیں جیسے لوگوں کے ہاتھ میں ہے اور افسوس کی بات یہ ہے کہ یہ صرف ایک سرحد پار کی کہانی نہیں بلکہ اگر ذرا غور سے دیکھا جائے تو محسوس ہوتا ہے کہ کہیں نہ کہیں ارد گرد اور خطے میں بھی آئین ایک زندہ دستاویز نہیں رہا بلکہ ایک ایسی نوٹ بک بنتا جا رہا ہے جس میں طاقتور جب چاہے نئی سطریں شامل کر دے۔ کبھی سلامتی کے نام پر اور کبھی قوم کی اخلاقیات بچانے کے نام پر اور کبھی مذہب کی آڑ لے کر انسانی بنیادی حقوق محدود کئے جا رہے ہیں۔ جہاں
عدالتیں تو موجود ہیں مگر فیصلوں کی سانسیں کم ہوتی جا رہی ہیں۔ پارلیمان ہے مگر قانون عوام سے پہلے طاقت کی ضرورت بن چکا ہے۔ ایسی قانون سازی چاہے جہاں بھی ہو یہ اس سوچ کا اعلان ہے جس میں ریاست فرد کی پہلے زبان پر پابندی لگاتی ہے پھر اجتماع پر اور آخر میں سوچ پر بھی پابندی لگانے کی کوشش کرتی ہے۔ ہندو ذات پات کے نظام کی سب سے خطرناک بات یہ تھی کہ اسے خدائی نظام کہہ کر ناقابلِ سوال بنا دیا گیا تھا اور آج افغانستان سمیت چند ملکوں میں ریاستی ضرورت یا نظریاتی تحفظ کے نام پر ناقابلِ سوال بنایا جا رہا ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ ریاستیں جب شہری کو برابر انسان نہیں سمجھتیں تو وہ مضبوط نہیں ہوتیں صرف خوفناک ہوتی ہیں۔ اور خوف پر کھڑی عمارتیں زیادہ دیر قائم نہیں رہتیں چاہے وہ کابل میں ہوں یا کہیں اور جہاں آئین روز بدلتا ہو مگر عام آدمی کی زندگی نہیں۔
واپس کریں