عصمت اللہ نیازی
دو روز قبل ایک دوست کے ہمراہ ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر اسپتال میانوالی جانے کا اتفاق ہوا تو وہاں ایک ایسی صورتحال دیکھنے کو ملی جس نے حیران بھی کیا اور سوچنے پر بھی مجبور کر دیا کہ آخر عام آدمی کی جیب پر ہاتھ ڈالنے کے لیے ہمارے ہاں کتنے نت نئے طریقے ایجاد ہو چکے ہیں۔ ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر اسپتال میانوالی کے پارکنگ اسٹینڈ پر موٹرسائیکل پارک کرنے والوں سے 30 روپے کی پرچی سر عام وصول کی جا رہی تھی جبکہ ذرائع کے مطابق سرکار کی جانب سے مقرر کردہ فیس 10 روپے ہے مگر پارکنگ اسٹینڈ کی پرچی پر 20 روپے درج ہیں اور شہریوں سے مبینہ طور پر 30 روپے وصول کیے جا رہے ہیں۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ سرکاری نرخ 10 روپے ہونے کے باوجود 20 روپے کی پرچی کس اختیار کے تحت چھپوائی گئی اور جب پرچی پر 20 روپے درج ہیں تو پھر شہری سے 30 روپے کس قانون اور کس اجازت کے تحت وصول کیے جا رہے ہیں؟ یہاں معاملہ صرف 20 یا 30 روپے کا نہیں بلکہ اس اصول کا ہے کہ سرکار نے جو نرخ مقرر کیے ہیں ان پر عمل درآمد کون کروائے گا۔ اسپتال آنے والا عام آدمی پہلے ہی مہنگائی کی چکی سے پس کر بیماری اور علاج کے اخراجات کے بوجھ تلے دبا ہوا ہے اور اسپتال آنے والا مجبور شخص یہاں اپنی خوشی یا سیر و تفریح کے لیے نہیں آتا بلکہ وہ کسی بیماری، تکلیف یا مجبوری کے تحت اسپتال پہنچتا ہے۔ بیمار شخص کے ساتھ آنے والے مجبور لوگ جو اپنے مریض کے ساتھ پریشانی میں مبتلا ہو کر یہاں آتے ہیں اور آگے سے انتظامیہ کی ملی بھگت سے اسے لوٹنے کیلئے پھندا تیار ہو اور اس کی موٹرسائیکل پارک کرنے کے لیے مقررہ فیس سے زیادہ رقم وصول کر لی جائے تو بظاہر یہ معمولی رقم نظر آتی ہے لیکن اس غریب اور متوسط طبقے کے شہری کے لیے یہ بھی اضافی بوجھ ہے۔ مزید افسوسناک پہلو یہ ہے کہ کافی عرصہ سے شہریوں کی جانب سے اس معاملے کی سوشل میڈیا پر مسلسل نشاندہی کی جاتی رہی ہے پارکنگ کی پرچیوں کی تصاویر اور شکایات بھی گردش کرتی رہی ہیں۔ کئی وڈیوز بھی دیکھی جا سکتی ہیں ایک ویڈیو میں تو پارکنگ اسٹینڈ کا اہلکار بڑی رعونت کے ساتھ کہہ رہا ہے کہ ویڈیو بنانے دو ہمارا یہ کیا کر لیں گے یعنی ان لوگوں کو اپنی طاقت پر گھمنڈ ہے کہ انتظامیہ ان کے سامنے کچھ بھی نہیں اور میرے خیال میں ہونا بھی چاہیے کیونکہ جب انتظامیہ ان جیسے لٹیروں سے ساتھ مل جائے اور پارٹنر بن جائے تو صورتحال کچھ ایسی ہی ہو جاتی ہے۔
ڈپٹی کمشنر میانوالی اور محکمہ صحت کے متعلقہ افسران سے عوام یہ پوچھنے میں حق بجانب ہیں کہ اگر پارکنگ ٹھیکیدار مقررہ سرکاری فیس سے زائد رقم وصول کر رہا ہے تو اسے روکنے میں آخر کیا رکاوٹ ہے؟ دوسری طرف ہمارے منتخب نمائندوں سے بھی سوال بنتا ہے کہ ووٹ مانگنے کے وقت یہی عوام سب سے اہم ہوتی ہے۔ انہی لوگوں کے گھروں کے دروازوں پر جا کر ان کے مسائل سننے، ان کی مشکلات دور کرنے اور انہیں بہتر مستقبل دینے کے وعدے کیے جاتے ہیں لیکن جب یہی عوام کسی عوامی ادارے میں مبینہ طور پر اضافی رقم ادا کرنے پر مجبور ہو تو ان کی آواز سننے والا کوئی نظر کیوں نہیں آتا؟ علی حیدر نور میانوالی کے منتخب نمائندہ ہیں اور ان سے عوام یہ توقع رکھتی ہے کہ وہ اپنے حلقہ کے لوگوں کے مسائل پر آواز اٹھائیں گے۔ اگر ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر اسپتال کی پارکنگ کے حوالہ سے شکایت پر کم از کم اس کی غیر جانب دارانہ تحقیقات کروانا اور حقیقت عوام کے سامنے لانا ان کے منصب اور عوامی ذمہ داری کے عین مطابق ہے۔ اصل مسئلہ دس، بیس یا تیس روپے کا نہیں بلکہ اصل مسئلہ عوام کے اعتماد کا ہے۔ جب حکومت ایک نرخ مقرر کرتی ہے تو عام آدمی یہ سمجھتا ہے کہ اب اس سے اسی کے مطابق فیس وصول کی جائے گی۔ اگر سرکاری نرخ نامہ کچھ اور ہو اور وصولی کچھ اور تو پھر شہری کے ذہن میں یہ سوال پیدا ہونا فطری ہے کہ قانون صرف کتابوں میں رہ گیا ہے یا اس پر عمل درآمد بھی ہوتا ہے؟ اور اگر ایک معمولی سی پارکنگ فیس پر بھی کوئی پوچھنے والا نہیں تو بڑے معاملات میں عام آدمی کس سے انصاف کی توقع کرے؟ یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ سرکاری افسر آتے ہیں اپنی ذمہ داریاں ادا کرتے ہیں اور کچھ عرصہ بعد تبادلہ ہو جاتا ہے لیکن عوام وہیں رہتی ہے۔ البتہ منتخب نمائندے اسی معاشرے کا حصہ ہوتے ہیں اور انہی لوگوں سے ووٹ لیتے ہیں اور انہی کے درمیان رہتے ہیں۔ اس لیے عوام کو اپنے نمائندوں سے یہ توقع زیادہ ہوتی ہے کہ وہ سرکاری اداروں میں ہونے والی زیادتیوں کے خلاف آواز اٹھائیں گے۔ عوام کو کسی پر احسان نہیں چاہیے انہیں صرف اپنا حق چاہیے۔ میانوالی کے لوگ کوئی خیرات نہیں مانگ رہے وہ صرف قانون پر عمل درآمد چاہتے ہیں۔ ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر اسپتال کی پارکنگ کوئی ایسی جگہ نہیں ہونی چاہیے جہاں کسی بھی ٹھیکیدار کو مریضوں اور ان کے لواحقین کی مجبوری سے فائدہ اٹھانے کی اجازت ہو۔ مریض علاج کے لیے اسپتال آتا ہے اپنی جیب کٹوانے کے لیے نہیں۔ چند روپے کی مبینہ اضافی وصولی بظاہر چھوٹی بات لگ سکتی ہے لیکن جب یہی رقم روزانہ سینکڑوں یا ہزاروں لوگوں سے وصول ہو تو معاملہ چھوٹا نہیں رہتا۔ اسی لیے ضرورت اس امر کی ہے کہ ڈپٹی کمشنر میانوالی، محکمہ صحت کے اعلیٰ حکام اور منتخب نمائندے اس شکایت کا فوری نوٹس لیں۔ سرکاری نرخ اور پارکنگ ٹھیکے کی شرائط چیک کریں اور حقیقت عوام کے سامنے لائیں کیونکہ آخر میں سوال صرف اتنا ہے کہ اگر ایک بیمار انسان سے اسپتال کے دروازے پر بھی اس کا جائز حق زیادہ وصول کیا جائے اور شکایت کے باوجود کوئی پوچھنے والا نہ ہو تو پھر عام آدمی انصاف کے لیے کہاں جائے؟
واپس کریں