دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
"دریائے سندھ میی سونے کے ذرات، حکومت کیلئے ایک سنہری موقع"
عصمت اللہ نیازی
عصمت اللہ نیازی
ضلع میانوالی کے خٹک بیلٹ پہاڑی علاقہ تبی سر اور شکردرہ سے سونا نکالنے کا سکینڈل گذشتہ دو تین سال سے انتہائی گمبھیر صورتحال اختیار کر چکا ہے۔ انتظامیہ اور چوری سے سونا کی مائننگ کرنے والے عناصر کے درمیان آنکھ مچولی پورا سال جاری رہتی ہے اس غیر قانونی مائننگ سے اب تک انتظامیہ اور خاص کر محکمہ پولیس کے کئی اہلکار کروڑ پتی بن چکے ہیں۔ اس غیر قانونی مائننگ کو روکنے کیلئے کافی عرصہ سے ضلع میانوالی سے ایکسیویٹر مشین کے گزارے پر بھی سختی سے پابندی ہے۔ لیکن میری ذاتی تحقیقات کے مطابق یہ پابندی بھی خاص کر محکمہ پولیس کیلئے سونے کی چڑی بن چکی ہے اور ہر تھانہ سے ایکسیویٹر مشین گزارنے کا تقریباً ایک لاکھ روپے لیا جاتا ہے۔ لیکن حیرانگی کی بات یہ ہے کہ اس مائننگ کو قانونی بنا کر حکومت کو اربوں روپے کا فائدہ پہنچانے کی بجائے ایکسیویٹر مشین ، ڈیزل اور پیٹرول پر پابندی کی وجہ سے محکمہ کے اہلکار کروڑوں روپے کما لیتے ہیں۔ اب ایک نظر دنیا بھر پر دوڑا لیتے ہیں کہ دنیا کے اور ممالک جہاں پر ایسی صورتحال ہے وہاں پر کیا پالیسی اختیار کی جاتی ہے ۔ دنیا کے کئی ممالک نے پاکستان کی طرح قدرتی وسائل کو صرف زمین میں دفن خزانہ سمجھنے کے بجائے انہیں باقاعدہ معاشی سرگرمی میں بدل دیا ہے۔ مثال کے طور پر کینڈا کے علاقہ یوکون میں تاریخی کلونڈیکے گولڈ رش علاقہ میں آج بھی سونے کی تلاش ایک منظم صنعت اور سیاحتی سرگرمی ہے۔ اسی طرح آسٹریلیا ، امریکہ اور فن لینڈ جیسے ممالک میں حکومتیں باقاعدہ لائسنس اور قوانین کے تحت عام لوگوں اور کمپنیوں کو سونا تلاش کرنے کی اجازت دیتی ہیں۔ اس سے نہ صرف غیر قانونی سرگرمیوں کا خاتمہ ہوتا ہے بلکہ حکومتوں کو کروڑوں ڈالر کا ریونیو بھی حاصل ہوتا ہے لیکن بدقسمتی سے پاکستان میں صورتحال اس کے برعکس نظر آتی ہے۔ ہمارے پہاڑی علاقہ تبی سر اور شکردرہ کے قریب دریائے سندھ کے کناروں پر ذرائع کے مطابق سونے کے باریک ذرات بڑی مقدار میں پائے جاتے ہیں لیکن حکومتی پالیسی نہ ہونے کی وجہ سے یہاں کئی لوگ خفیہ طور پر سونا نکالتے ہیں۔ مقامی ذرائع کے مطابق بعض افراد مختلف اداروں کے اہلکاروں کو رشوت دے کر یہ کام جاری رکھتے ہیں اور اس غیر قانونی مائننگ کے ذریعے کروڑوں روپے کا سونا نکالا جاتا ہے۔ نتیجتاً نہ صرف یہ عمل قانون کی خلاف ورزی ہے بلکہ ریاست بھی اس قیمتی معدنی دولت سے محروم رہ جاتی ہے۔ اگر حکومت اس معاملے کو سنجیدگی سے دیکھے تو یہی مسئلہ ایک بڑی معاشی فرصت میں تبدیل ہو سکتا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت محکمہ معدنیات کے ذریعے اس علاقے کا باقاعدہ جیولوجیکل سروے کرائے اور اس کے بعد سونا نکالنے کیلئے لائسنس جاری کرے۔ ٹھیکیداروں کو واضح شرائط کے ساتھ اجازت دی جائے کہ وہ مقررہ فیس اور رائلٹی ادا کر کے قانونی طریقہ سے مائننگ کریں۔ اس طرح ایک طرف غیر قانونی سرگرمیوں کا خاتمہ ہو گا اور دوسری طرف حکومت کو باقاعدہ آمدن حاصل ہو گی۔ پاکستان میں اس کی مثال پہلے سے موجود ہے جیسے ہمارے ضلع میانوالی کے علاقہ مکڑوال اور دیگر مقامات پر کوئلہ کی کانیں کئی دہائیوں سے محکمہ معدنیات کی نگرانی میں کام کر رہی ہیں۔ ٹھیکیدار لائسنس حاصل کر کے ہر سال کروڑوں بلکہ اربوں روپے مالیت کا کوئلہ نکالتے ہیں اور حکومت کو رائلٹی کی صورت میں بھاری آمدن حاصل ہوتی ہے۔ اگر یہی ماڈل دریائے سندھ کے کنارے سونے کے ممکنہ ذخائر پر لاگو کیا جائے تو یہ علاقہ بھی ملکی معیشت کیلئے ایک اہم ذریعہ بن سکتا ہے۔ اس کے علاوہ اگر اس سرگرمی کو مناسب طریقہ سے منظم کیا جائے تو یہ سیاحت کیلئے بھی ایک نئی جہت پیدا کر سکتی ہے۔ جیسے میں نے اوپر عرض کیا ہے کہ کینڈا اور امریکہ سمیت دنیا کے کئی ممالک میں سیاحوں کو فیس کے عوض باقاعدہ طور پر ایک مرتبہ سونا اپنے ہاتھوں سے نکالنے کی اجازت دی جاتی ہے اور لوگ صرف اس شوق میں دور دراز علاقوں کا سفر کر کے وہاں پہنچتے ہیں کہ شاید انہیں اپنے ہاتھوں سے سونے کا کوئی ذرہ مل جائے۔ اگر میانوالی کے اس علاقہ کو بھی قانونی اور محفوظ انداز میں ترقی دی جائے تو یہاں مقامی روزگار کے مواقع بھی پیدا ہوں گے اور علاقائی معیشت بھی مضبوط ہو گی۔ حکومت کیلئے یہ ایک سنہری موقع ہے اگر پالیسی سازی کے ذریعے اس غیر قانونی مائننگ کو قانونی دائرہ میں لے آیا جائے تو نہ صرف کرپشن اور اسمگلنگ کا خاتمہ ممکن ہے بلکہ قومی خزانہ میں بھی خاطر خواہ اضافہ ہو سکتا ہے۔ قدرت نے دریائے سندھ کے کنارے جو ممکنہ دولت چھپا رکھی ہے اسے ضائع ہونے دینے کی بجائے ایک منظم معاشی منصوبہ میں تبدیل کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
واپس کریں