دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
"موسمیاتی تبدیلی اور سردیوں کی چھٹیاں"
عصمت اللہ نیازی
عصمت اللہ نیازی
پاکستان اس وقت موسمیاتی تبدیلیوں کے براہِ راست اثرات کی زد میں ہے جس کی وجہ سے پچھلے چند برسوں سے یہ واضح طور پر دیکھا جا رہا ہے کہ اس خطہ میں موسموں کی ترتیب بھی بدل چکی ہے۔ کبھی گرمی وقت سے پہلے آ جاتی ہے تو کبھی سردی اپنے روایتی شیڈول سے ہٹ کر شدت اختیار کر لیتی ہے۔ لیکن بدقسمتی سے ہمارے محکمہ تعلیم میں انتظامی فیصلے آج بھی ماضی کے کیلنڈر کے مطابق کئے جا رہے ہیں جو موجودہ زمینی حقائق سے مطابقت نہیں رکھتے۔ آپ نے محسوس کیا ہو گا کہ ماضی میں شدید سردی دسمبر کے آخری ہفتے میں شروع ہو جاتی تھی اسی لئے تعلیمی اداروں میں سردیوں کی چھٹیاں عموماً 20 دسمبر سے یکم جنوری تک رکھی جاتی تھیں۔ بعد ازاں اس مدت کو بڑھا کر 10 جنوری تک کر دیا گیا۔ لیکن اب صورتحال یہ ہے کہ سردیوں کے انتہائی دن یکم جنوری سے 15 جنوری کے درمیان آتے ہیں اس کے باوجود سرکاری اور نجی تعلیمی ادارے پرانی روایت کے تحت انہی دنوں میں کھول دیئے جاتے ہیں جب سردی عروج پر ہوتی ہے۔ سردیوں کے بیچ میں سکول کھولنے کے اس فیصلے کا سب سے زیادہ منفی اثر نرسری اور پرائمری کے معصوم بچوں پر پڑتا ہے۔ شدید سردی اور دھند میں کم عمر بچوں کو صبح سویرے سکول بھیجنا نہ صرف مشکل بلکہ خطرناک بھی ہے۔ طبی ماہرین کے مطابق اس موسم میں بچوں میں نمونیا، بخار، نزلہ اور سینے کے انفیکشن کے امکانات کئی گنا بڑھ جاتے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ اس موسم میں سکول کھلنے سے والدین شدید ذہنی دباؤ اور پریشانی کا شکار رہتے ہیں۔ اس سلسلہ میں خصوصی طور پر نجی تعلیمی اداروں کا رویہ قابلِ افسوس نظر آتا ہے جہاں فیسوں کے دباؤ کے تحت یکم جنوری سے ہی سکول کھولنے کے لئے مختلف حیلے بہانے اختیار کیے جاتے ہیں چاہے موسم کتنا ہی شدید کیوں نہ ہو۔ یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا بچوں کی صحت سے زیادہ اہمیت حاضری اور فیس کو دی جا سکتی ہے؟ ترقی یافتہ ممالک میں پالیسی سازی ہمیشہ عوامی مفاد اور وقت کی ضرورت کے مطابق کی جاتی ہے۔ اب ہمیں بھی ترقی یافتہ قوموں جیسا رویہ اختیار کرتے ہوئے روایتی تاریخوں سے نکل کر حقیقت پسندانہ اور عوام دوست فیصلے کرنے کی روش اپنانی پڑے گی۔ اس تناظر میں وزیر اعلیٰ پنجاب محترمہ مریم نواز، صوبائی وزیر تعلیم رانا سکندر اور دیگر اعلیٰ حکومتی حکام سے پُرزور اپیل ہے کہ وہ اس اہم مسئلہ پر خصوصی توجہ دیں اور ہر سال سردیوں کی چھٹیاں یکم جنوری سے 20 جنوری تک کرنے کے واضح احکامات جاری کریں۔ یہ فیصلہ نہ صرف بچوں کی صحت کے تحفظ کا باعث بنے گا بلکہ والدین کیلئے بھی اطمینان کا سبب ہو گا۔ یاد رکھنا چاہئے کہ قوموں کا مستقبل بچوں سے جڑا ہوتا ہے اور بچوں کی صحت پر سمجھوتہ کسی بھی صورت میں ایک ذمہ دار ریاست کا رویہ نہیں ہو سکتا اور وقت کے ساتھ فیصلے بدلنا ہی دانشمندی ہے۔
واپس کریں