دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
"نانوزئی سے ننزائی کا تاریخی سفر"
عصمت اللہ نیازی
عصمت اللہ نیازی
جس طرح انسان جسمانی طور پر ارتقاء کی منازل طے کر رہا ہے اسی طرح انسان کے ساتھ وابستہ ہر چیز ارتقاء کا شکار ہے اور انسان کے بدلنے کے ساتھ متواتر بدل رہی ہے چاہے وہ شعور ہو، ثقافت یا مادی اشیاء۔ میرا اپنا تعلق ضلع میانوالی کے علاقہ کمرمشانی میں رہائش پذیر "ننزائی" قبیلہ سے ہے جو ضلع میانوالی میں بسنے والے اور قبائل کی طرح افغانستان سے ہجرت کر کے یہاں پہنچا ۔ کمرمشانی میں آباد موجودہ ننزائی قبیلہ کا اصل نام ننوزائی ہے۔ افغانستان کے قندھار گزیٹیئر میں موجود تاریخی حوالہ جات کے مطابق ننوزائی قبیلہ کا تعلق توخیوں کی بڑی شاخ محمدزئی سے ہے اور یہ محمدزئی کی ذیلی شاخ ہے۔ تاریخ کے مطابق توخیوں کا جغرافیہ ترنک وادی، ارغنداب اور قلاتِ غلزئی کے گردونواح پر مشتمل ہے۔ پشتون قبائل کی تاریخ میں ہجرت ایک ایسا باب ہے جس کے بغیر پشتون معاشرہ کو مکمل طور پر سمجھنا ممکن نہیں کیونکہ کئی سرحدوں کے پار صدیوں تک مختلف پشتون قبائل نقل مکانی کرتے رہے۔ انہی طویل تاریخی سفروں کی وجہ سے ضلع میانوالی میں آباد افغانستان سے آنے والے قبائل کی مکمل اور تحریری تاریخ ملنا ناممکن ہے لیکن مختلف علاقوں میں تاریخی شواہد کو دیکھ کر کڑیوں کو ملا کر ان قبائل کی تاریخ لکھی جا سکتی ہے دستیاب شواہد اور حوالوں کے مطابق توخیوں کا علاقہ ترنک وادی سے لے کر چشماۓ پنجک، ارغنداب کے علاقے اور پلِ سنگ تک بیان کیا گیا ہے اور توخی غلزئیوں کی بڑی شاخوں میں محمدزئی، جلالزئی، بابکرزئی اور میرانزئی شامل تھے اور ان میں سے محمدزئی کا شمار سب سے بڑی شاخوں میں ہوتا تھا۔ اسی طرح محمدزئی کے اندر متعدد ذیلی شاخیں موجود تھیں جن میں آٹھویں نمبر پر نانوزئی کا نام موجود ہے۔ ترنک وادی اور قندھار کا خطہ افغانستان کی تاریخ میں محض ایک قبائلی علاقہ نہیں بلکہ مختلف تجارتی راستوں اور فوجی گزرگاہوں کا مرکز رہا ہے۔ قدیم زمانے میں قبائل کی نقل مکانی کچھ دنوں یا مہینوں میں نہیں ہوتی تھی بلکہ اس پر سالوں لگ جاتے کیونکہ قبائل ایک علاقہ سے ہجرت کر کے دوسرے علاقہ میں پہنچتے جہاں اُن کو آباد کاری میں کئی سال لگ جاتے لیکن پھر وہاں پر جب مختلف مسائل سامنے آتے تو یہ قبائل وہاں سے نقل مکانی کر کے آگے بڑھ جاتے۔ اس لیے کسی قبیلے کے افغانستان سے برصغیر کے کسی علاقہ تک پہنچنے کی داستان کو ایک سیدھی لکیر کے بجائے نسلوں پر پھیلے ہوئے سفر کے طور پر دیکھا جانا چاہیے۔ ننوزئی قبیلہ بھی افغانستان کی مختلف وادیوں سے ہوتا ہوا موجودہ صوبہ خیبر پختونخوا میں دریائے سوات کے بائیں کنارے پر علاقہ ہشت نگر اور چارسدہ پہنچا۔ یہاں پر رہائش پذیر ہونے کے بعد اور زبان کی تبدیلی کی وجہ سے ننوزئی قبیلہ کا نام بدل کر نانزئی پڑ گیا اور وہاں پر اس قبیلہ کی موجودگی کے تاریخی ثبوت انگریز دور کی 1883 کی مردم شماری پر لکھی گئی مستند کتاب " پنجاب کاسٹس" میں موجود ہیں بلکہ اس علاقہ میں "نانزئی کنڈاؤ" کے نام سے ایک درہ ابھی تک موجود ہے۔ کئی قبائل نے افغانستان سے موجودہ خیبر پختونخوا کی طرف سفر کیا اور اس کیلئے کئی قدرتی راستے موجود تھے اور قندھار سے مشرق کی طرف غزنی، زابل اور پھر افغانستان کے مشرقی راستوں سے خیبر اور پشاور کی وادی تک پہنچنے والے راستے صدیوں سے استعمال ہوتے رہے اور پھر پشاور کی وادی سے آگے بنوں، کوہاٹ، کرک، لکی مروت، ڈیرہ اسماعیل خان اور وہاں سے میانوالی کے سرحدی علاقہ کو جانے والے راستے بھی جغرافیائی طور پر ایک دوسرے سے جڑے ہوئے تھے۔ خاص طور پر عیسیٰ خیل اور کمرمشانی اور گردونواح میں کئی پشتون خاندان مختلف ادوار میں آباد ہوئے اور مقامی آبادی کے ساتھ مل کر ایک نئی معاشرت تشکیل دی۔ ننوزائی قبیلہ کا کئی سالوں پر محیط افغانستان قندھار سے وادی سوات اور پھر سوات سے ڈیرہ اسماعیل خان، ڈیرہ اسماعیل خان سے لکی مروت اور آخرکار اس سفر کا اختتام کمرمشانی کے علاقہ میں ہوا۔ اور اس علاقہ میں زبان کی مزید ارتقائی تبدیلی کی وجہ سے اس قبیلہ کا نام ایک مرتبہ پھر بدل کر ننزائی پڑ گیا اور یہاں کی نئی معاشرت کی وجہ سے ہم لوگوں نے بھی نہ صرف بولی جانے والی اپنی مادری زبان چھوڑ دی بلکہ ثقافتی طور پر بھی اس نئی معاشرت میں رنگ گئے۔ لیکن اس سفر کا اختتام ابھی نہیں ہوا بلکہ اس قبیلہ کی نئی نسل اب پڑھ لکھ کر نہ صرف نئے ستاروں کی تلاش میں آگے بڑھ رہی ہے بلکہ ان ستاروں پر کمند ڈالنے کیلئے بھی تیار ہے۔ اور مجھے امید ہے کہ افغانستان سے شروع ہونے والا یہ سفر مثبت انداز میں آگے جاری رہے گا۔ میری یہ دعا بھی ہے کہ اللہ تعالیٰ اس قبیلہ کے نوجوانوں کو ترقی کی مزید منزلیں طے کرنے کی ہمت عطاء فرمائے ۔۔(آمین)
واپس کریں