دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
"گرینڈیوز ایگزیبیشنزم"
عصمت اللہ نیازی
عصمت اللہ نیازی
جب سے سوشل میڈیا نے اپنی چکا چوند مچائی ہے تو ہمارے معاشرہ میں بہت سی چیزوں میں بہت تیزی سے بدلاؤ دیکھنے کو ملا ہے اور سوشل میڈیا نے خاص کر ہمارے جیسے کم تعلیم یافتہ معاشرہ میں نیکی کے تصور کو بھی بدل کر رکھ دیا ہے اور اس کی دو اہم مثالیں اکثر دیکھنے کو ملتی ہیں۔ ایک تو ہر صلح کے بعد منظر عام پر آتی ہے جس میں کسی بھی صلح کا کریڈٹ کئی خودساختہ اور نوآموز چٹ پوش لینے کی بھرپور کوشش کر رہے ہوتے ہیں۔ گذشتہ کچھ صلح کی تقریبات کئی لوگوں کو تو سٹیج پر اپنے نام کی اناؤنسمنٹ کیلئے میزبان پارٹی کو چٹیں یا سٹیج سیکرٹری کے کان میں منت کرتے بھی دیکھا گیا ہے۔ ان لوگوں کو سوشل میڈیا ثالث کا نام دیا جا سکتا ہے۔ مزے کی بات یہ ہے کہ ان میں کئی ایسے لوگ بھی شامل ہیں جن کے اپنے خاندانی جھگڑے چل رہے ہیں اور وہ نہ ان جھگڑوں کو حل کروانے کی کوشش کرتے ہیں اور نہ ان سے ہوتے ہیں لیکن جب کوئی بھی جھگڑا صلح کے قریب پہنچتا ہے تو یہ چلتی بس کی پچھلی سیڑھیوں پر دوڑ کر لٹکنے کی طرح اس ثالثی میں شامل ہو جاتے ہیں۔ کچھ ماہ قبل کی ایک صلح میں تو کریڈٹ حاصل کرنے کی یہ جنگ پاکستان اور انڈیا کی جنگ کی طرح کافی سیریس ہو گئی تھی اور صلح کرنے والی پارٹیوں کو سوشل میڈیا پر خود بیان دینا پڑ گیا تھا لیکن ان چٹ پوشوں کی یہ روش ابھی تک جاری ہے ۔جبکہ دوسرا اہم نقطہ کسی مریض یا حاجت مند شخص کیلئے سوشل میڈیا پر مدد کی اپیل کی پوسٹ لگا کر لوگوں سے رقم بٹورنا ہے۔ وہ نیکی جو کبھی خاموشی اور بے نامی میں کی جاتی تھی آج کل کمنٹس اور لائکس کی محتاج ہو چکی ہے۔ اب یہاں کئی لوگ یہ دلیل پیش کریں گے کہ اس سے غریب کی مدد تو ہو رہی ہے۔ بالکل غریب کی مدد بھی ہو رہی ہے اور جھگڑوں کی صلح بھی ہو رہی ہے لیکن اصل مسئلہ یہ ہے کہ ان کاموں کے پیچھے نیت کا مرکز اب انسان نہیں بلکہ اپنی ذات کی تشہیر بن چکا ہے۔ لوگوں کی امداد کے نام پر سوشل میڈیا پر پوسٹیں لگانے والا یہ نیا طبقہ ایسے لوگ ہیں جو اپنی جیب سے نہ تو ایک روپیہ دیتے ہیں اور نہ دینے کی سکت رکھتے ہیں مگر سوشل میڈیا پر اپیلیں اور جذباتی تحریریں لکھ کر چندہ اکٹھا کرتے ہیں۔ اب مسئلہ یہ پیدا ہوتا ہے کہ جمع ہونے والا چندہ کیا واقعی ان مستحق افراد تک پورے کا پورا پہنچتا بھی ہے جن کے نام کی اپیل کی گئی تھی یا اس کا کوئی اندراج یا سرکاری آڈٹ بھی ہوتا ہے یا گذشتہ کئی کیسوں کی طرح یہ گمنام چندے کا بڑا حصہ اکٹھا کرنے والوں کی جیب میں چلا جاتا ہے؟ اور یہ بات کسی سے ڈھکی چھپی نہیں بالکل ریکارڈ پر ہے کہ ایسا اکثر کیسوں میں دیکھنے کو ملتا ہے اور جب ایسا کوئی کیس سامنے آ جائے تو اسے بڑی ڈھٹائی کے ساتھ دبا دیا جاتا ہے کیونکہ اس کا کوئی ریکارڈ یا چیکنگ کا مربوط نظام موجود ہی نہیں۔ میں یہاں سوال نیکی پر نہیں اُٹھا رہا بلکہ نیکی کے طریقہ کار اور نمائش پر اُٹھا رہا ہوں۔ کیونکہ اصل میں یہ کام نیکی کی بجائے اپنی ایک نفسیاتی بیماری کی تسکین کیلئے کیا جا رہا ہے اور اس نفسیاتی بیماری کو گرینڈیوز ایگزیبیشنزم کا نام دیا جاتا ہے جس میں انسان دوسروں کی توجہ حاصل کرنے اور اپنی مشہوری کی خواہش میں نیکی کو ذاتی تشہیر کا ذریعہ بنا لیتا ہے اور ایسے افراد کی خوشی مریض کے صحتیاب ہونے سے کم اور پوسٹ پر آنے والے لائکس اور کمنٹس سے زیادہ وابستہ ہو جاتی ہے۔ میرا مقصد یہاں کسی کو ڈیگریڈ کرنا قطعاً نہیں بلکہ معاشرے میں پھیلنے والی خود پسندی کی نفسیاتی بیماری کو بے نقاب کرنا ہے۔ کیونکہ اگر یہی روش چلتی رہی تو ہم ایک ایسے معاشرے میں زندہ ہوں گے جہاں نیکی بغیر کیمرے کے ممکن نہ ہو گی اور مدد بغیر تشہیر کے بے معنی سمجھی جائے گی اور اخلاص صرف ایک پرانا لفظ رہ جائے گا۔ جبکہ اسلامی، اخلاقی اور سماجی اقدار ہمیں یہ سکھاتی ہیں کہ سب سے بہتر نیکی وہ ہے جس کا بایاں ہاتھ بھی نہ جانے کہ دایاں ہاتھ کیا دے رہا ہے مگر افسوس کہ سوشل میڈیا نے اس اصول کو الٹ دیا ہے اور اب نیکی وہ سمجھی جاتی ہے جو زیادہ سے زیادہ لوگوں کو نظر آئے۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم خود سے یہ سوال کریں کیا ہم واقعی دوسروں کی مدد کر رہے ہیں یا اپنی شہرت کی بھوک مٹا رہے ہیں؟ کیا ہم معاشرے کو جوڑ رہے ہیں یا اپنی ذات کو بڑا دکھا رہے ہیں؟ اگر اس نفسیاتی بیماری کا بروقت علاج نہ کیا گیا تو مستقبل میں نیکی ایک کاروبار، صلح ایک اسٹیج اور انسان محض ایک برانڈ بن کر رہ جائے گا۔
واپس کریں