دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
انسان کی خودساختہ اخلاقیات
عصمت اللہ نیازی
عصمت اللہ نیازی
چند روز قبل سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو وائرل ہوئی جس میں امریکہ کے ساحلِ سمندر پر ایک بحری جہاز پر کام کرنے والی خاتون کو جہاز کے تختے پر ایک زخمی بگلا ملا جو تقریباً مرنے کے قریب تھا۔ خاتون نے انسانی ہمدردی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس زخمی بگلے کی مرہم پٹی کی اور سمندر سے چھوٹی مچھلیاں پکڑ کر کئی دن تک اسے کھلاتی رہی۔ کچھ عرصے بعد وہ بگلا صحت یاب ہو کر دوبارہ اُڑنے کے قابل ہو گیا۔ اس ویڈیو کے کمنٹس سیکشن میں دنیا بھر کے لوگوں نے اس خاتون کی تعریف کی اور بگلے کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کیا۔ بظاہر یہ ایک خوبصورت اور انسانی جذبے سے بھرپور واقعہ ہے۔ لیکن اگر اس منظر کو ذرا گہرائی سے دیکھا جائے تو ایک دوسرا پہلو بھی سامنے آتا ہے۔ اس بگلے کو بچانے کے لئے کئی دن تک مچھلیوں کے بچوں کو مارا گیا۔ ان مچھلیوں کا اس واقعہ میں کوئی قصور نہیں تھا مگر ان کی زندگی کی قربانی دینے کا فیصلہ انسان نے اپنی مرضی سے کیا۔ سوال یہ ہے کہ کیا یہ فیصلہ بھی دراصل انسان کی اس طاقت کا اظہار نہیں جس کی بنیاد پر وہ زمین کی دیگر مخلوقات کے بارے میں فیصلے کرتا ہے؟ یہ معاملہ صرف ایک بگلے اور چند مچھلیوں تک محدود نہیں بلکہ انسان روزمرہ زندگی میں بھی اسی اصول پر عمل کرتا ہے۔ ہم شہد کی مکھیوں کا وہ شہد لے لیتے ہیں جو دراصل ان کے بچوں کی بقا کے لئے جمع کیا جاتا ہے۔ اسی طرح جانوروں کا دودھ جو قدرت نے ان کے بچوں کے لیے پیدا کیا انسان اپنی خوراک کا حصہ بنا لیتا ہے۔ یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس پوری اخلاقیات میں شہد کی مکھیوں یا جانوروں کے بچوں کا کیا قصور ہے؟ اصل بات یہ ہے کہ زمین پر سب سے زیادہ طاقت رکھنے والی مخلوق ہونے کے ناطے انسان اکثر اپنے فیصلوں کو ہی اخلاقی معیار بنا لیتا ہے۔ مشہور جرمن فلسفی فریڈرک نٹشے نے کہا تھا "انسان میں طاقت حاصل کرنے اور اسے استعمال کرنے کی خواہش بہت گہری ہوتی ہے"۔ نٹشے کے نزدیک انسان کی بہت سی اقدار دراصل طاقت کے اسی احساس سے جنم لیتی ہیں۔ اسی طرح چینی مفکر کنفیوشس نے اخلاقیات کی بنیاد ہمدردی اور اعتدال کو قرار دیتے ہوئے کہا تھا "اصل انسانیت یہ ہے کہ جو اپنے لئے پسند نہ کرو وہ دوسروں کے لئے بھی پسند نہ کرو"
اگر ہم تاریخ پر نظر ڈالیں تو یہی طاقت کا فلسفہ بڑی سطح پر بھی نظر آتا ہے۔ قومیں اپنے مفادات کی بنیاد پر جنگوں کے فیصلے کرتی ہیں۔ امریکہ کا ایران پر حملہ ہو یا اسرائیل کا فلسطین پر یا پھر پاکستان کا افغانستان پر، طاقتور ملک کمزور ممالک پر چڑھ دوڑتے ہیں اور پھر ان حملوں کے جواز بھی خود ہی گھڑ لیتے ہیں۔ کہیں مذہب کے نام پر کہیں حب الوطنی کے نام پر اور کہیں سکیورٹی کے نام پر۔ اسی طرح معاشروں کے اندر بھی طاقت کا یہی اصول کام کرتا ہے جس جماعت، ادارے یا گروہ کے پاس جتنی زیادہ طاقت ہوتی ہے وہ اسی تناسب سے اپنے مخالفین کو دبانے کی کوشش کرتا ہے۔ یوں لگتا ہے کہ انسان کے ذہن میں اپنی طاقت کے استعمال کا ایک نفسیاتی میلان موجود ہے۔ جب بھی اسے موقع ملتا ہے وہ اسے استعمال کرتا ہے ہاں البتہ اس عمل کو اخلاقی رنگ دینے کے لئے مختلف دلائل پیش کر دیتا ہے۔ لیکن انسان کی تاریخ کا ایک دوسرا پہلو بھی ہے کہ ہزاروں سال کے سفر میں انسان نے اخلاقیات، قانون اور انصاف جیسے تصورات بھی پیدا کئے ہیں۔ یہ وہ کوششیں ہیں جن کے ذریعے انسان اپنی طاقت کو قابو میں رکھنے کی جدوجہد کرتا رہا ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ آج انسان جانوروں کے حقوق اور عالمی انسانی اقدار جیسے موضوعات پر بھی سوچنے لگا ہے۔ یہ سوچ ابھی ابتدائی مرحلہ میں ہے مگر امید کی ایک کرن ضرور ہے ممکن ہے آنے والی صدیوں میں انسان شعوری طور پر اس مقام تک پہنچ جائے جہاں وہ زمین پر بسنے والی دیگر مخلوقات کے ساتھ بھی زیادہ منصفانہ اور مثبت رویہ اختیار کرے۔ کیونکہ حقیقت یہ ہے کہ انسان بھی اسی فطرت کا ایک حصہ ہے اس کا مالک نہیں۔ اور شاید اخلاقیات کا اصل امتحان بھی یہی ہے کہ طاقت رکھنے کے باوجود اسے کس حد تک قابو میں رکھا جاتا ہے۔
واپس کریں